بیرونی جنگ یا پہلے اندرونی جنگ - محمد طیب زاہر

بھارت پاکستان پر حملہ کرسکتا ہے یہ خدشہ بارہاں ہمارے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے زباں پر سنائی دیتا نظر آتا ہے ۔کشمیر میں اس وقت بھی مودی کے مکروہ ہتکھنڈے کشمیریوں کا جینا دوبھر کئے ہوئے ہیں۔جنت نظیر وادی میں وہ لاوا پک رہا ہے جو بھارت کے نام نہاد کرفیو کے اٹھتے ہی بھارتی فوج پر پھٹ پڑے گا۔

اور پھر اس نہ رکنے والے طوفان سے ظلم ہر صورت مٹ کر رہے گا۔اس وقت مظلوم عوام کو بھوک پیاس اور اشیائے خوردونوش کی قلت کا سامنا ہے۔اب تک چار مہینے سے زائد اس نظربندی میں ان کا کیا حال ہے اس کا کسی کو بھی کوئی ادراک نہیں۔حاملہ خواتین اور شیر خوار بچوں پر کیا بیت رہی ہوگی کون جانے ہے ؟ کتنی اموات ہوئیں کتنے لوگ سسک کے اپنی جان کی بازی ہار گئے اس کی کسی کوکچھ خبر نہیں۔بھارت میں مسلمان خون کے آنسو رو رہے ہیں ۔وہاں نہ صرف مسلمان بلکہ ہندو برادری بھی مودی سرکار کی بے رحمانہ پالیسیوں پر سراپا احتجاج ہیں۔اب تو یہ اندر سے آوازیں بھی اٹھ رہی ہیں کہ مودی سرکار کو ووٹ دینے والے بھی شریک جرم میں برابر کے حصے دار ہیں۔مودی کے زوال کا وقت اب شروع ہونے لگا ہے ۔نریندر مودی گجرات کا قصاب ہے۔

مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے کا شوقین یہ جلاد اب برباد ہونے کو ہے۔بھارتی حکومت کے خلاف تحریکیں آئے روز زور پکڑ رہی ہیں۔جب ظلم مٹنے والا ہوتا ہے تو الم بغاوت بلند ہوتا ہے۔مودی چلتے چلتے منہ کے بل گر پڑا جس کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی ۔ٹھیک اسی طرح زمین پر اس کی ناگ رگڑی جائے گی۔ویسے بھی یہ اتنا گرا ہوا ہے کہ اس کو زمین پر گرنے میں چنداں بھی شرم محسوس نہیں ہوئی ہوگی کیونکہ شرم وہ کرتا ہے جس کا ضمیر زندہ ہو اور جو درندہ ہو اس کے پاس ضمیر کیسے ہوسکتا ہے۔اب آجاتے ہیں کشمیر کے حوالے سے اپنی خارجہ پالیسی کی طرف پاکستان نے بارہاں اپنا مؤقف دنیا کے سامنے دوہرایا کہ کشمیر بھارتی فوج کے مظالم کے نرغے میں ہے ۔اقوام عالم اس معاملے کی سنگینی کو دیکھے ۔

بہت حد تک پاکستان اپنے مقصد میں کامیاب بھی رہا لیکن اب تک اس کو حاصل کیا ہوا یہ ایک بڑا سوال ہے ؟بھارت آج بھی کشمیر میں دہشت گردی جاری رکھے ہوئے ہے کوئی اس کو پوچھنے والا نہیں۔انسانی حقوق کی سخت پامالی پر اقوام متحدہ خاموش ہو جاتا ہے ؟ ایران یوکرائن جہاز گرائے تو وہ دہشت گردی ہے ۔یہاں ایران کے اس حملے کوjustify کرنا مقصد نہیں۔ایران ایٹم بم بنائے تو امریکہ کو مروڑ اٹھتے ہیں۔امریکا کو ایران کا ایٹمی قوت بننا خطے کے لئے خطرے کی علامت لگتا ہے۔ایرانی آرمی چیف بھی دہشتگرد لگتا ہے لہذا امریکا عراق کے ائیرپورٹ پر راکٹ حملے کرکے اس کو ہلاک کردیتا ہے ۔اور پھر امریکی صدر بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ میں نے امریکی فوج کو اسے مارنے کا حکم دیا تھا اور میرے ایک اشارے پر امریکی فوج دم ہلاتے ہوئے حکم بجا لائی۔

امریکا افغانستان ایران پر حملہ کرے تو وہ جنگ ہے نہ کہ دہشت گردی ۔لیکن عالمی حقوق کے اس چیمپئن کو کشمیر کی دہشت گردی پر سانپ کیوں سونگھ جاتا ہے۔ایرانی آرمی چیف کو دہشت گردی کی علامت سمجھا جاتا ہے ایران پر دہشت گرد کارروائیاں کروانے کا الزام بھی لگایا جاتا ہے لیکن کشمیر میں بھارت کی درندگی پر آنکھیں موند لی جاتی ہیں۔اس بحث کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان امریکا تو کبھی اقوام متحدہ میں بھارت کی شکایتیں لگاتا ہے یعنی یہ وہ مثال کی مانند ہے کہ جب بھائی کسی بڑے کے پاس جاکر اس کی شکایت لگائے تو آگے سے بڑا یہ کہہ کر بات ختم کردے میں دیکھتا ہوں اس کو تم فکر مت کرو اور اس طرح شکایت لگانے والا بہل سا جاتا ہے۔پاکستان کو بھی اسی طرح کی صورتحال کا سامنا ہے۔

امریکا پاکستان کو کشمیر کے معاملے پر ثالثی کی پیشکش کرتا ہے لیکن پاکستان جیسے ہی معاملے کو ہر فورم پر اٹھاتا ہے تو منہ سامنے تو اس کی ہاں میں ہاں ملاتا ہے لیکن کرتا کچھ نہیں۔الٹا صدر ٹرمپ مودی کو گلے لگا کر پاکستان کے منہ پر زوردار تھپڑ مارتا ہے۔وزیر اعظم عمران خان کے پاس جو ممکنہ آپشن ہوتے ہیں وہ ان کو پروئے کار لاتے ہیں اقوام عالم میں بلاشبہ ایسی تقریر کی جو آج سے پہلے کسی پاکستانی لیڈر نے نہیں کی ۔اس تقریر سے دنیا کو یہ پیغام ملا کہ پاکستان کسی بھی صورت کشمیر پر سمجھوتا نہیں کرے گا ۔عمران خان کی اس تقریر کے بعد پاکستان کے دوست ممالک ساتھ کھڑے ہوگئے اور پوری دنیا میں عمران خان کے مؤقف کی تائید ہوئی ۔پاکستان اگرچہ سفارتی محاذ پر بھارت کو چت کرنے میں کامیاب رہا ۔

لیکن بھارت کے آرٹیکل 370 کے نفاذ پر عمران خان کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔یہ تک کہا جا رہا ہے عمران خان کو جس مشن کے لئے بھیجا گیا وہ پورا ہوگیا ۔آرٹیکل 370 کا نفاذ ہوتا یا نہ ہوتا اس سے کیا فرق پڑتا ہے کشمیر تو بھارت کے پاس ہے جس کو چھیننے کی صرف ایک ہی آپشن ہے اوروہ ہے جنگ ۔اگر عمران خان کشمیر کے لیے آواز نہیں اٹھاتے تو تب کیا ہونا تھا کیا بھارت تب کشمیر آرام سے پاکستان کو دے دیتا؟ نواز شریف نے کلبھوشن یادیو کا نام تک نہیں لیا وہ کشمیر پر کیا بات کرتے جبکہ کارگل کی جنگ ہارنے کا الزام ان کے سر پر بھی لگتا ہے ایسے میں پھر کیا کشمیر کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جاتا ؟ وزیراعظم عمران خان نے ہر جمعے کے جمعے کشمیر سے یکجہتی کے لئے پورے پاکستان میں ریلی نکالنے کا اعلان کرکے کشمیر سے یکجہتی کرنے کا اعلان کیا تھا وہ صرف ایک ہفتے ہی جاری رہ سکا۔

کشمیر کے لئے کمپین اب پہلے کی طرح دکھائی نہیں دیتی اگر ایسا ہی رہا تو پھر حکومت کی نیت پر سوال تو اٹھیں گے کہ جو آگ لگی تھی اس کو بجھانے کی بجھائے پھونک مار کر اسے کیونکر بھڑکایا گیا ؟ وزیر اعظم کو بھی شاید سمجھ نہیں آرہی کہ وہ اندرونی جنگ لڑے یا بیرونی جنگ ۔اندرونی جنگ سے مراد مہنگائی بے روزگاری کا ابلتا ہوا لاوا ہے ۔وزیر اعظم کو یہ سمجھ نہیں آرہا کہ وہ اپنے وزراء کی نا اہلی کو روئے یا کشمیر کے لئے ریلیاں نکالیں۔وزیر اعظم پریشان ہیں کہ وہ بے قابو وزراء کی بے قابو زبانوں پر قابو پائیں یا پھر کشمیر کے حق میں ریلیاں نکالیں۔

وزیر اعظم اس شش و پنج میں مبتلا ہیں کہ وہ آٹے کے بحران پر قابو پائیں یا کشمیر کے بحران پر ؟ وزیر باتوں میں تو نمبر ون ہیں لیکن کام میں صفر ۔وزیر آٹے کے بحران کے ذمہ دار ہیں لیکن وزیر اعظم کو سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ ان سے حساب لیں یابھارتی فوج سے کشمیر مظالم کا ؟ وزیر اعظم کو پتہ نہیں لگ رہا کہ بجلی ،گیس اور چینی کی بڑھتی قیمتوں کولگام ڈالیں یا پھر مودی سرکار کو ؟ ڈیڑھ سال کے عرصے میں عوام بے حال ہوچکے اور وزیر اعظم کے کھلاڑی اپنی کارکردگی میں ناک آؤٹ ہوچکے۔

ایسی مہنگائی جس سے وزیر اعظم صاحب کا خرچہ پورا نہیں ہو رہا تو سوچنے کی بات ہے ایک عام آدمی کیسے گزارا کرے گا ؟ مہنگائی کا خاتمی گڈ گورننس سے ممکن ہے اگر ایسا نہ ہوا تو عوام کہیں گے ویری بیڈ ۔اگر مہنگائی کو قابو نہ کیا گیا تو عوام کا بےقابو ہونا فطری عمل ہوگا وزیر اعظم صاحب کو اس پر قابو پانے اور عوام کو فوری ریلیف دینے کے لئے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے ورنہ کشمیر کی جنگ تو درکنار حکومت کو اندرونی محاذ پر ہی منہ کی کھانا پڑے گی۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */