کھسرے - صدف نایاب

کچھ دن پہلے مارکیٹ جانے کا اتفاق ہوا۔ ہمارا علاقہ اب کھانے پینے کی بڑی آماجگاہ بن چکا ہے۔ خیر ایک ریسٹورنٹ میں ہم نے بھی قدم رکھ دیے۔ یہ ایک گیسٹ ہاؤس تھا، جس کے دروازے سے اندر داخل ہوں تو ایک پورچ بنا ہوا تھا۔ وہاں ایک میز اور چند کرسیاں بھی رکھی ہوئیں تھیں۔ چند کھسرے وہاں سے اٹھ کر جا رہے تھے۔

غالباََ کھانے سے فارغ ہو کر، انھیں دیکھ کر ناچاہتے ہوئے بھی ایک حقیرانہ اور مزاق اڑانے والی ہنسی، ہنسی اور اگے بڑھ گئے۔ کچھ انکھوں ہی انکھوں میں اشارے بھی کیے کہ ” اب یہ بھی یہاں آئیں گے جنک فوڈ کھانے“ ۔ کھسرے بھی باہر جا چکے تھے ۔ ابھی کچھ ہی لمحے گزرے تھے کچھ کہ نظر اس میز اور کرسیوں پر پڑی جن پر کھسرے بیٹھےہوئے تھے ۔ دیکھ کر ہم شرمندگی سے زمین میں گڑھ گئے۔ ایک پلیٹ میں چار چمچے رکھے تھے۔ ایک دکھ کا طوفان تھا جو دل میں سنائی دیا، کہ کھسرے ہیں تو کیا ہوا! پیٹ تواللہ نے ان کے ساتھ بھی لگایا ہے۔

خواہشیں، حسرتیں تو ان کی بھی ہیں ۔ غربت کی دلدل میں تو وہ بھی پھنسے ہوئے ہیں۔ جبھی ایک پلیٹ میں چار بڑے آدمیوں نے کھانا کھایا، ہر ایک کہ حصے میں چوتھائی چاول بھی ائے تو کیا پیٹ بھرا ؟ مگر پھربھی اللہ کا شکر ادا کرتے وہ ہم سے اچھے ہیں جو معتبر چھوڑ درمیانہ طبقہ جتنی بھی عزت نا حاصل ہونے کے باوجود اپنی روزی روٹی کا بندوبست کرنےکی جہد کرتے ہیں ۔شاید اج کے اس جدید دورمیں ان کے لیے بھی سہولیات اور بنیادی ضروریات کا بندوبست کوئی کر دیتا ہو۔ مگر پھر بھی اپنے چہرے پر وہی رونق لے کر بھیک مانگتے ہیں۔ کہ کیا کریں اگر اپنے چہرے پر یہ ماسک نا چڑھایا تو کون پیسا دے گا۔ کہاں سے کھائیں گے۔ زندگی گزارنے کے لیے کچھ تو کرنا ہے۔

کھسروں کے کافی احتجاج کے بعد کچھ فلاحی ادراے ان کی تعلیم جس میں کمپیوٹر کا کام، انگلش بولنا اور کچھ دستکاری جیسے کام سکھائے جانے لگے ہیں۔ دیکھا جائے تو کھسروں کے کام کرنے سے افرادی قوت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ جب کام کے لیے افراد زیادہ ہونگے تو معیشت اور صنعت بھی ترقی کرے گی۔ مگر افسوس کے ہم نے ان کا مقام بھکاری جتنا ہی طے کر دیا ہے اور شاید وہ خود بھی اپنے اپ کو اس مقام کے قابل ہی سمجھنے لگے ہیں۔ پرانے دور میں خواتین اور مردوں کے درمیان بات پہنچانے، زنانہ مردانہ میں کام کرنے کے لیے ان کو ہی رکھا جاتا تھا۔

اج سب سے زیادہ جس بات پر دل دکھتا ہے وہ یہ کہ ہم جنھیں اللہ کے رسولﷺ نے کسی کا بھی مذاق نا اڑانے کی تعلیم دی ہے اور بحیثیت انسان ہر ایک کی عزت کرنے کا حکم دیا ہے۔ کھسروں کو بری بری باتیں کہنا، ان کا مذاق اڑانا، ان پر ہنسنا یہ ہمارا شعار بن چکا ہے جس میں اب ہمیں نا کوئی قباحت نظر آتی ہے اور نا ہی تکلیف محسوس ہوتی ہے۔ اس رویے کی نفی کیجئے . آیئے ” جاو معاف کرو“ اور دروازہ دھڑ سے بند کرنے سے پہلے سوچیں کہ دس ، بیس روپے دینے سے ہمارا صدقہ چلا جائے گا اور چار بھوکے بیٹھ کر رات کو اس ٹھٹرتی سردی میں کہیں پیٹ کی اگ بجھا لیں گے۔

ٹیگز