بندر سے بنا انسان، ڈارون تیرا ککھ نہ رہے-خالد ایم خان

اوائل عمری میں جب ہم پر انکشاف ہوا تھا کہ ہم لوگ دراصل بندر کی جدید شکل ہیں تو میں کافی حیران ہوا تھا ظاہر ہے ۔ سر چارلس ڈارون ہمارے نصاب کا حصہ تھا جو پڑھا اُس پر بھروسہ کرتے ہوئے ہم بھی ڈارون کی تحقیقات کے قائل ہوئے ،،بھئی بہت بڑا سائنس دان ہے یہ ،، سر چارلس ڈارون 1809؁ء شیرزبری انگلینڈ میں پیدا ہوا ۔

ڈارون نے 1859؁ء میں ایک کتاب لکھی جس کا نام On the Origin of Species تھا جس میں ڈارون نے ایک تھیوری پیش کی جس کے مطابق انسان اصل میں بندر تھا جس نے وقت اور حالات کے مطابق خود کو انسانی سانچہ میں ڈھال لیا اور پھر کمال کی بات یہ ہے کہ دنیا نے ڈارون کی اس تھیوری کو مان کر اُسے سر کا خطاب بھی دیا ،اور یقین جانیں آج بھی دنیا کے بہت سے ملکوں میں ڈارون کی تھیوری کو نصاب میں اولین فوقیت دی جاتی ہے، لیکن ؟؟ آتے ہیں دنیا کے اصل علم کی جانب ، قراٰن پاک تو ہم نے بچپن میں ہی پڑھ لیا تھا ،اور اللہ کے فضل وکرم سے اچھی طرح لیکن عربی زبان کے مفہوم سے پھر بھی نابلد رہے ،اور بنا کسی حیل وحُجت کے کہوں گا کہ یہ ہمارے معاشرے کا یہ ایک ایسا المیہ ہے کہ جس کے بارے سوچتے ہوئے آج ہماری آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔

ہم قراٰن تو پڑھتے ہیں لیکن قراٰن کے مفہوم سے آج بھی نابلد ہیں ،جبکہ دنیا جانتی ہے کہ موجودہ سائنس کی تمام تر طلسماتی کرشمہ سازیاں قراٰن ہی کی بدولت ممکن ہو پائی ہیں ، اور تخلیق انسان کے بارے میں جب ہم نے قراٰن کی آیتوں کو سمجھا تو یقین جانیں ہمیں محترم ڈارون صاحب اپنی تمام تر تحقیقات کے باوجود دنیا کا سب سے کم علم جاہل انسان نظر آیا ،ہاں ضرور اپنے دور میں عالم تو خود کو ابو جہل بھی کہلاتا تھا لیکن جب میرے رب ،میرے اللہ نے کہ دیا کہ یہ دنیا کا سب سے بڑا جاہل ہے تو پھر اُس سے بڑا جاہل دنیا میں کوئی نہیں ،سب اللہ ہی کی دین ہے بے شک دنیا میں اللہ کی وحدانیت کے انکار کے باوجود یورپ کے سائنس دانوں نے انقلاب برپا کر دیا ، لیکن کہیں نہ کہیں ان تمام سائنس دانوں نے اسلامی علوم کا سہارہ لیا ،اسلامی سائنس دانوں کی گُم گُشتہ تحقیقات کو سامنے رکھتے ہوئے اُن کے کاموں کو آگے بڑھایا جدید ریسرچ کیں ،تجربات کئے ، اور آج اُس مقام پر آکھڑے ہوئے کہ جہاں ان تمام سائنسی عجائبات کو دیکھتے ہوئے انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

دنگ تو ہماری عقل بھی رہ گئی محترم ڈارون صاحب کی حضرت انسان کے بارے میں کم علمی پر جبکہ اﷲ تبارک وتعالیٰ کا واضع فرمان مبارک ہے،، ہم نے انسان کو اپنے ہاتھوں سے تخلیق کیا ، سورۃ الرحمٰن میں ایک آیت میں اﷲ تبارک وتعالیٰ کا فرمان مبارک ہے کہ ،، خلق الانسان من صلصال ٍ کالفخار وخلق جانٰ من مارجٍ من النار ،، (اور ہم نے انسان کو بجنے والی ٹھیکری سے پیدا کیا اور ہم نے جنات کو دھکتی ہوئی آگ سے پیدا کیا) ، ایک اور جگہ اﷲ تبارک وتعالیٰ کا فرمان مبارک ہے ،، سورۃ التین ،، لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم ،، (بے شک ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا )تو کیا اﷲ تبارک وتعالی نے توریت زبور اور انجیل میں انسانی تخلیقات کا ذکر نہ کیا ہوگا ،کیا قوم موسیٰ علیہ السلام کو آدم علیہ السلام کی تخلیق کی بابت نہ بتایا گیا ہوگا ؟

کیا قوم داؤد علیہالسلام اور قوم عیسیٰ علیہ السلام کو بھی زبور اور انجیل کے ذریعے اﷲ تبارک وتعالیٰ کے ہاتھوں تخلیق آدم علیہ السلام کا نہ بتایا گیا ہوگا ،یقینا اﷲ تعالیٰ نے اپنے ہر صحیفے اپنی تمام کتابوں میں تخلیق آدم علیہ السلام کا واضع الفاظ میں تذکرہ کیا ہوا ہے لیکن موصوف جس نے انسانی ارتقاء کی کھوج کی خاطر پوری دنیا کھنگال ڈالی ،بے انتہا تحقیقات کیں ،اپنی ساری زندگی بائیولوجیکل ریسرچ میں گذار دی لیکن ایک مرتبہ بھی اﷲ کی کسی بھی الہامی کتاب کو اٹھا کر دیکھنے کی زحمت نہ کی، یقینا اگر ڈارون اپنے آخری ایام ہی میں قراٰن ،توریت یا انجیل اُٹھاکر پڑھ لیتا تو اپنا ماتھا پیٹ لیتا کہ میری تو تمام زندگی کی محنت ضائع ہو گئی ،اور سوچتا کہ کاش میں پہلے ہی قراٰن پڑھ لیتا اتنی محنت نہ کرنی پڑتی ،اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ڈارون نے بائیولوجی میں بے انتہا تحقیقات کیں اور یقینا اس شعبہ میں بڑا نام کمایا ۔

لیکن میں پھر بھی ڈارون کو پاگلوں کا سربراہ ہی کہوں گا اور وہ تمام لوگ جو ڈارون کے اس فلسفہ پر تھوڑا سا بھی یقین تو دور کی بات ہے گمان بھی کرتے ہوں گے پاگل ہی کہلائے جانے کے لائق ہیں اس کے علاوہ قراٰن میں دیگر کئی مقامات پر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرما دیا ہوا ہے واضع الفاظ میں تحریر کردیا گیا ہے کہ آدم علیہ السلام کی تخلیق کس طرح ممکن ہوئی ،اللہ تعالیٰ نے اپنے مبارک ہاتھوں سے آدم علیہ السلام کا چہرہ مبارک تخلیق کیا ہے، اور پھر بُت آدم کہاں کہاں رکھا گیا یہ سب بھی بیان کردیا گیا ہے کیسے روح پھونکی گئی اس کا بھی خلاصہ کر دیا گیا ہے ،فرشتوں کو سجدہ کا حکم ہوا اور کس فرشتہ نے سجدہ نہ کیا اور معتوب قرار دے دیا گیا اس کا بھی بیان ہوچکا ہے۔

تو پھر بندر والی تھیوری شیطانی صورت میں کیوں پیش کی جارہی ہے ،جس کے مطابق انسان جرثومہ سے کیڑا بنا ، کیڑے سے بندر بنا اور پھر بندر سے انسان یہ تو اللہ کی تخلیق کا سراسر انکار ہے اور اللہ کی تخلیق کا انکار صرف شیطان ہی کرسکتا ہے کیوں کہ وہی ہے جو آدم علیہ اسلام کا ازلی دشمن ہے ،جو نسل آدم کا اولین دشمن ہے، حقیقت میں ڈارون کی تھیوری بڑی مضحکہ خیز ہے، جس نے تخلیقات الہٰیہ کا سرے سے انکار کرتے ہوئے ،آد، علیہ السلام کی تخلیق کا انکار کرتے ہوئے روئے زمین پر موجودتمام انسانوں کو بندر کی اولاد کہہ کر نسل انسانی کی توہین کی ، اس کے بعد ہم کیا کہیںلیکن اتنا ضرور کہیں گے کہ بھئی آپ ہونگے بندروں کی اولاد ہمیں مہربانی فرما کر آدم ؑ کی اولاد ہی رہنے دیں ،کیوں کہ ہمارا ایمان ہے کہ ہماری انگلیوں کی پوروں تک کا تخلیق کار صرف اﷲ جل جلالہ ہی ہے۔

آپ کی تھیوری اولاًماننے والی ہے ہی نہیںاور پھر اگر آپ کا استدلال مان بھی لیا جائے تو پھر ہماری آج کی دنیا کے بندروں نے کیا بگاڑا تھا آپ کا ڈارون صاحب کہ جو کروڑوں سالوں سے بندر ہی چلے آرہے ہیں ،ان کی ارتقاء کو کس نے روک لگا دی ،ان بے چاروں کا کیا گناہ تھا ان کو بھی بن جانے دیتے حضرت انساں، ڈارون کی ارتقاء کی تھیوری کے مطابق اگرتھوڑی سی تبدیلی ہی آجاتی آج کے بندروں ،لنگوروں اور گوریلوں میں تو پھر سوچیں کتنا مزہ آتا جب کوئی سہیلی اپنی دوسری سہیلی سے کہہ رہی ہوتی وہ دیکھو وہ بن مانس ریشم کا میاں ہے ۔

اللہ وہ چیمپینزی کتنا کیوٹ ہے ،اور اور دیکھو تو ذرہ اُس ببون کو کیسے لہک لہک کر ناچ ریا ہے، اور ذرہ اُس بندریا کو تو دیکھوعارف بابا کی گود میں چڑھ کر بیٹھ گئی ہے ،ذرہ شرم وحیا نہیں ہے ان کے اندر اس کے بعد تو یہی الفاظ نکلنے تھے ہر انسان کے منہہ سے کہ ، اوئے تیرا ککھ نہ رہے ۔۔ اللہ نگہبان