جماعت اسلامی پاکستان میں کیا چاہتی ہے- میر ا فسر امان

جماعت اسلامی پاکستان میں اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام چاہتی ہے۔جماعت اسلامی کے امیر سید ابواعلیٰ موددی ؒنے ۱۹۳۲ء سے اپنے رسالے ترجمان القرآن کے ذریعے لوگوں کو اس طرف بلاتے رہے۔ سید موددیؒ کے اس پیغام کو شیخ علامہ محمداقبالؒ بھی ترجمان القرآن رسالے کے ذریعے مطالعہ کرتے رہے تھے۔

اسی لیے علامہ اقبال ؒ نے سید موددیؒ کو حیدر آباد دکن سے پنجاب، پٹھان کوٹ میں بلا کر فقہ اسلامی کی تدوین جدید کا کام کرنے کاکہا تھا۔ سید موددیؒ، علامہ اقبالؒ کے کہنے پر حیدر آباد دکن سے پنجاب پٹھا کوٹ ۱۹۳۸ء میں منتقل ہوئے تھے۔ علامہ اقبالؒنے سال کے چھ ماہ پٹھان کوٹ تشریف لا کر اس کام میں مدد کرنے کا سید موددیؒ سے وعدہ کیا تھا۔ مگر اللہ نے علامہ ؒ اقبال کو اپنے پاس بلا لیا۔ سید موددیؒ ۱۹۳۸ء سے ۱۹۴۷ء تک پٹھان کوٹ میں رہ کر اللہ کی زمین پر اللہ کے دین کے غلبے کے لیے کام کرتے رہے ۔

اسی دوران اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم کرنے کے لیے لاہور میں ۱۹۴۱؁ء میں دینی سیاسی جماعت اسلامی وجود میں آئی۔ اوّل روز ہی سے اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کرنا تھا ۔ آج تک اُسی مقصد کو لیکردرجہ بدرجہ آگے بڑھ رہی ہے۔ حکومت الہٰیا،اسلامی حکومت یا نظامِ مصطفیٰ ؐ ایک ہی مقصد ہے۔ یہ یاد رہے کہ دنیا میں مذہبی حکومت سوا ئے پاکستان اور اسرائیل کے علاوہ کہیں بھی نہیں ہے ۔کچھ مدت پہلے تیسری مذہبی حکومت ایران میں خمینیؒ نے قائم ہوئی تھی مگر وہ بھی ان اپنی نصب العین سے ہٹ کر اما م خمینی ؒ کے بعد صرف شیعہ مسلک تک معدود ہو گئی ہے۔

پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا، جس میں اب تک لاالہ الا اللہ کا نظام حکومت قائم نہیں ہوا۔ہمارے حکمرانوں نے قائد اعظم ؒ کی وفات کے بعد کہنا شروع کر دیا تھا کہ اب ۱۴۰۰ سو سالہ پرانا اسلامی نظام قائم نہیں ہو سکتا۔ اس کے جواب میں سید موددیؒ اور ددسری اسلامی قوتوں نے پاکستان کے آئین کو اسلامی بنانے کے لیے حکمرانوں پر دبائو ڈال کر پاکستان میں دستوری مہم شروع کی۔ ساتھ ہی ساتھ کیمونزم اور سرمایدارانہ نظام حکومت کے خلاف اسلامی نظام حکومت رائج کرنے کے لیے حکمرانوں کے سامنے دلائل کا ڈھیر لگا دیا۔ ان ہی کوششوں کی وجہ سے پاکستان کے آئین میں قرارداد پاکستان شامل کی گئی۔ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت ، ۱۹۷۳ء میں متفقہ طور پر مو جودہ اسلامی آئین بنا، مگر اس پر عمل درآمند ہونا ابھی باقی ہے۔

یہودیت کے نام پر اسرائیل قائم ہوا۔وہاں تو یہودیوں نے تورات کا نظام حکومت قائم کر دیا ہے اور صدیوں پرنی اپنی عبرانی زبان بھی رائج کر دی۔ ہمارے پڑوس ملک بھارت میں بھی ہندتوا کے نام پر نظام حکومت کی طرف شروعات ہو چکی ہیں۔ گو کہ ابھی تک بھارت کا آئین سیکولر ہے۔ اب بھی ساری دنیا میں سیکولر حکومتیں قائم ہیں۔ قائد اعظم ؒ کے بعد پاکستان میں سیکولر حضرات نے پاکستان کے اداروں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ یہ سیکولرحضرات اسلامی حکومت قائم کرنے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ان میں کچھ بھارت کے بے رول پر ہیں۔ کچھ مغرب زدہ اور مغرب سے مرغوب ہیں۔ کچھ انگریز کی باقیات ہیں۔ یہ سارے طبقے دین بے زار ہیں۔سیکولر ازم کے مروجہ د ستورکے مطابق نظام حکومت میں مذہب کا دخل نہیںہوتا۔

آپ اپنے مذہب پر قائم رہیں اُس پر عمل کریں۔مساجد بنائیں،نمازیں پڑھیں ،روزے رکھیں،حج پرجائیںتمام مذہبی رسوم ادا کریں۔بس حکومت میں مداخلت نہ کریں۔ کیوں کہ دین اور سیاست الگ الگ ہیں۔ اس خیال کو تو علامہ اقبالؒ نے اپنے ایک شعر میں رد کیاہے ۔ علامہ اقبالؒ کہتے ہیں:۔

جلال بادشاہی ہو یا جمہوری تماشہ ہو

جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

سیکو لر نظام حکومت مادر بدر آزاد نظام حکومت ہے۔ اس کی پارلیمنٹ جوچاہے گی قانون بنائے گی۔ چاہے وہ اسلام مخالف ہی کیوں نہ ہو۔ اُس کی عدلیہ مغربی قانون کے مطابق فیصلے کرے گی ۔اُس کی انتظامیہ غیروں کے طور طریقے پر عمل کرے گی۔ ان کا نظام تعلیم لارڈ مکالے کا ترتیب دیا ہوا ہے۔ جو انگریز نے کلرک پیدا کرنے کے رائج کیا تھا۔ جبکہ پاکستان کی خاموش اکثریت ملک میں مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست چاہتی ہے۔ جس کا وعدہ تحریک پاکستان کے دوران بر عظیم کے عوام نے اپنے اللہ سے کیا تھا۔پاکستان کا مطلب کیا’’لا الہ الا اللہ‘‘اِس کے برعکس جماعت اسلامی پاکستان میںحکومتِالہیا یعنی مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست یا نظام مصطفیٰ ؐ جو بھی نام دیں لیںقائم کرنا چاہتی ہے۔ یعنی عرفِ عام میں مذہبی حکومت، چاہے ساری دنیا سیکولر نظام حکومت کیوں ناچل رہا ہو۔ بظاہر یہ کام بہت مشکل ہے۔ لیکن ان شاء اللہ جماعت اسلامی نے یہی کام کرنا ہے۔بہت بڑا

۲
چیلنج ’ یعنی دھارے کا رخ موڑنا ہے۔ اس لیے جو لوگ اسلامی حکومت قائم کرنے کے داہی ہیںاُن کے کچھ اوصاف ہونے چاہیں ۔جماعت اسلامی کے ہمدرد،متفق اور کارکن ، بندہ اُس وقت ہی بن سکتا ہے جب وہ دِل میںاسلام کی تڑپ اور درد رکھتاہو۔اُس کی دہلی خواہش ہو کہ ملکِ پاکستان میں اللہ تعالیٰ کاقانون ہونا چاہیے۔اس لیے اوّل روز ہی سے جماعت اسلامی نے افراد کی تربیت کو اولیت دی ہے۔ جماعت کے کا رکن کے لیے ضروری ہے کہ ایک کہ وہ فرائض کی ادائیگی کرتا ہو۔ کبائر سے اجتناب کرتا ہو۔جماعت اسلامی کے نظم کی پابندی کرتا ہو۔ ذریعہ معاش حلال ہو۔اپنی سوسائٹی میں مرجہِ خلائق ہو ، معروف میں لوگ اُسے اچھا سمجھتے ہوں۔معاملات میں لوگ اُس کی طرف رجوع کرتے ہوں اورلوگوںکے کام آتاہو۔ یہ سارے اوصاف ایک فردکے اندر پیداہوں۔

تب جاکر وہ جماعت اسلامی کا رکن بن سکتا ہے۔اس کے علاوہ اسلام کا اتنا ضرور علم ہو کہ وہ حرام و حلال سمجھتاہو۔ کس چیز سے اسلام منع کرتا ہے اورکس چیز کی اسلام میں اجازت ہے کی معلومات ہونا چاہیے۔یعنی اسلام کے بارے میںبنیادی معلومات اُسے ہونی چاہیے۔یہ اس کے لیے نہایت ضروری ہے ،کہ جب بندہ معاشرے کے اندر اسلام کی بات کرتا ہے،تو لوگ سوال کرتے ہیں کہ اسلام کیوںہوناچاہیے؟ یہ کیوں کا جواب اگر تحریک اسلامی کے کارکن کے پاس نہیں تو وہ اپنے نصب العین میں کمزور ہے۔ الہذا ایکفرد جو جماعت اسلامی کاارکن بننا چاہتا ہے،تو ضروری ہے اُسے اسلام کے بارے میں بنیادی معلومات ہونی چاہیے۔ اِن بنیادی معلومات کے لیے جماعت اسلامی کے ہاں تربیتی پروگرام ہوتے ہیں۔

جن میں کارکنان شریک ہو کر اسلام کے بارے میں بنیادی معلومات حاصل کرتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ قرآن وحدیث شریف کا مطالعہ اورسیرت کے مطالعہ کاشوق بھی کارکنان کو بنیادی معلومات فراہم کرتا ہے۔مو لانا مودودی ؒ کاتحریکی لٹریچر اس سلسلے میں بنیادی کردار ادا کرتاہے ۔ سید موددیؒ کا سارا لٹریچرقرآن وحدیث، سیرت اور صحابہ ؓ کے عمل اورصحابہ ؓ کی سیرت پر مبنی ہے۔اس کے مطالعہ سے کارکنان کی ذہنی آبیاری ہوتی ہے۔ایک کارکن ہر ہفتے درس قرآن وحدیث کی محفل میں شریک ہوتا ہے۔ تربیتی پروگراموں میں شرکت کرتاہے۔ مربی حضرات کی تقاریر سنتا ہے۔ نیک لوگوں کی محفل میں ہمیشہ رہتا ہے۔اسلامی رسائل و جرائد کا مطالعہ کرتا ہے ۔ جماعت اسلامی کے یہ اخبار ،رسائل، ڈیلی، ہفتہ وار،پندر ہ روزہ،اور ماہوار شائع ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ کارکنان کی آپس کی گفتگوئیں’’ جس میں اسلام کی عملی نفاذ کی باتیںہوتی رہتی ہیں‘‘میں شامل رہتا ہے۔جماعت اسلامی ،اسلام پر لیکچرز کا اہتمام کراتی رہتی ہے۔خصوصاً اسلامی ممالک کے دانشوروں کی ورکشاپ کے پروگرام کا انتظام کراتی ہے۔ جو کہ عوام اور کارکنان کے لیے یکساں فوائد رکھتے ہیں۔ اس سارے کام کی روح رواں( سید مودودی بین الااقوامی اسلامک اوپن یونیورسٹی) ہے۔اس کاہیڈ کواٹرلاہور منصورہ میں ہے۔ اس کے کیمپس سارے پاکستان اور ساری دنیا میں ہیں۔یہ ا پنے طالبعلموں (یعنی تحریک اسلامی کے کارکنوں کو) اور عوام کو اسلام کی بنیادی معلومات فراہم کرتی ہے۔

کیونکہ جن لوگوں کے ہاتھوں سے اسلامی نظام قائم ہونا ہے اُن کو اسلام کی بنیادی معلومات کا علم ہونا چاہیے۔ (سید مودودی بین الااقوامی اسلامک اوپن یونیورسٹی )کے طالب علم مندرجہ بالا کورسوں سے گزر کر ایک اسلام کے چلتے پھرتے نمونے بن جاتے ہیں ۔ یہ فرائض کی ادائیگی اور کبائر سے اجتناب کی کوشش کرتے ہیں۔جب حکومت کے کسی منصب پر ہوتے ہیں تو کرپشن فری ہوتے ہیں۔ اب تو پاکستان کی سپریم کورٹ بھی ان کے کرپشن فری ہونے کا کہہ چکی ہے۔ جماعت اسلامی میں جوبندہ داخل ہوتا ہے اس یونیورسٹی کا طالب علم بن جاتاہے ۔اس طرح لاکھوں طالب علم اس یونیورسٹی سے علم حاصل کرچکے ہیں اورباقی حاصل کر رہے ہیں۔ یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔

ایک وقت انشا اللہ آئے گا کہ پورے پاکستان میں پھیلے ہوئے، یہ لاکھوں کارکن الیکشن میں بھر پور حصہ لے کر اور الیکشن جیت کر، پر امن طور پر ملک خداداد پاکستان میں اسلامی نظام کو قائم کریں گے۔کیونکہ جماعت اسلامی نے کافی سوچ بچار کے بعد یہ طریقہ اختیار کیا ہے۔ جب اس ملک میں اسلامی نظام حکوت یعنی حکومت الہٰیا قائم ہو گی تو پھر ملک پر آسمان سے رزق نازل ہو گا۔ زمین سے بھی خزانے اُگل پڑیں گے۔ رسول ؐ اللہ کی حدیث کا مفہوم ہے کہ تم میری لائی ہوئی شہریت نافذ کر دو تو تم زکوٰۃ لیے لیے پھرو گے مگر تم کو زکوٰۃ کا کوئی حقدار نہیں ملے گا۔ یعنی ملکِ پاکستان خوشحا ل ہوگا ۔عدل وانصاف ہو گا۔ پاکستان کے ہر فرد کے درمیان برابری ہو گی۔ ایک دوسرے کی عزت ہواوروقارہو گا۔

پاکستانی عوام اللہ کے شکر گزار بندے بنیںگے۔ ہر طرف خوشحالی ہی خوشحالی ہو گی۔کیونکہ قرآن شریف میںاللہ کا فرمان ہے ۔ اس کا مفہوم ہے کہ:۔ کہ اگر بستیوں کے لوگ اللہ کے احکامات پر چلتے تو آسمان سے رزق نازل ہوتا اور زمین اپنے خزانے اُگل دیتی۔ جماعت اسلامی پاکستان یہ ہی چاہتی ہے۔اللہ کرے ایسا ہی ہوآمین۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com