جنگ ٹوئیٹر پر نہیں میدانِ عمل میں لڑیں - حبیب الرحمن

یہ بات تو ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان آنے والوں کیلئے ہی مشہور ہوا کرتی تھی کہ "اب کے مار کے دیکھ"۔ نہ جانے کتنے ڈرامے ایسے ہیں جو پی ٹی وی سے نشر ہوئے جس میں کئی ایسے عکس بند مناظر پیش کئے گئے جو "اب کے مار کے دیکھ" والے ہوا کرتے تھے۔

یہ سین صرف پی ٹی وی اور دیگر ٹی وی چینلز تک ہی محدود ہو کر نہیں رکھ گیا تھا بلکہ کتنی ہی انڈین اور پاکستانی فلمیں ایسی تھیں جس میں "اب کے مار کے دیکھ" کہنے والوں پر طنز کے تیر و نشتر چلائے جاتے تھے لیکن بقول جوش ملیح آبادی

آدمی بزم میں دم تقریر

جب کوئی حرف لب پہ لاتا ہے

در حقیقت خود اپنے ہی حق میں

کچھ نہ کچھ فیصلہ سناتا ہے

وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان نیازی صاحب نے مار کیٹ میں ایک نیا شگوفہ چھوڑا ہے۔ فرماتے ہیں کہ "بھارت نے حملے بند نہ کیے تو پاکستان بھی خاموش نہیں رہے گا"۔ بات تو صحیح ہے کہ بار بار کی ریشہ دوانیوں کا علاج تو یہی ہوتا ہے کہ ستائے جانے والے کا تنگ آکر بجنگ آمد پر اتر آنا ایک فطری عمل بن جاتا ہے لہٰذا پاکستان بھی بار بار کی سرحدی خلاف ورزیوں، انسانی جانوں کے زیاں اور مالی نقصانات کا سامنا کرتے کرتے ایک دن پاگل تو ہو ہی سکتا ہے اور بقول شخصے پاگل کا کیا بھروسہ کہ کیا کر گزرے، لیکن یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ پاکستان کے خاموش نہیں رہنے سے خان صاحب کی مراد کیا ہے؟۔ پاکستان کشمیر کے سلسلے میں گزشتہ 70 سال سے بھی زیادہ عرصے سے نچلا بیٹھا ہی نہیں۔

دنیا کا کوئی بھی فورم ہو، پاکستان کشمیر اور کشمیریوں کے سلسلے میں بولتا ہی چلا آ رہا ہے۔ بولتا بھی ایسا ہی کہ ایک مرتبہ تو بھارت اور بھارتی حکمرانوں کا دل و جگر پانی بن کر رہ جاتا ہے لیکن جب لفظوں کی گولہ باری کی گھن گرج ختم ہوتی ہے تب کہیں جاکر بھارت اور دنیا کو پتہ چلتا ہے کہ یہ سب تو صرف ہوائی فائزنگ تھی اور وہ بھی لفظوں کی۔حال ہی میں پاکستان کے وزیر اعظم جناب عمران خان نیازی صاحب نے اقوام متحدہ میں جو تقریر فرمائی تھی اس سے بھارت کے اندر ہی نہیں دنیا کے کئی بڑے بڑے طاقتور ملکوں میں زلزلوں کے شدید جھٹکے آئے تھے اور دنیا ان شدید جھٹکوں کے بعد خوفزدہ تھی کہ اس کے "آفٹر شاکس" نہ جانے کیا کیا تباہی پھیلائیں لیکن چند سیکنڈ بعد ہی دنیا کو احساس ہو گیا کہ زلزلوں کی ساری کہانی "صوتی اثرات" کے علاوہ اور کچھ نہیں تھی جو ماضی کے ایک مشہور سازندے "ایم اے رزاق" کا کارنامہ تھا۔

اسی صوتی اثرات کا فسوں ایسا تھا کہ ترکی سمیت کئی ایسے ممالک جو پاکستان دوست اور دنیا میں امریکی دہشتگردی کے خلاف کچھ کر گزرنے کا عزم رکھتے ہیں، اتنے سحر زدہ ہوئے کہ ملائیشیا میں امریکی اجارہ داری کے خلاف ایک محاذ کھولنے کیلئے تیار ہو گئے اور انھیں نے بطور مہمانِ خاص پاکستان کے "خان" کو بھی بلا بھیجا لیکن معلوم ہوا کہ "خان" نام کا تھا۔ اس قسم کے خانوں کے متعلق خود فراز کچھ اس طرح کہتے نظر آتے ہیں کہ

میں کہہ رہا تھا رفیقوں سے جی کڑا رکھنا

چلا جو درد کا اک اور تیر میں بھی نہ تھا

بہادری کی ساری پھوپھاں عمل کے میدان میں کودنے کی دعوت پر دھری کی دھری رہ گئی اور قومِ موسیٰ کی طرح مہاتیر محمد کو یہ پیغام بھیجا گیا کہ آپ اور آپ کا خدا ظالموں سے خود ہی نمٹ لے، ہم تو صرف منھ سے گولے چلانے والے ہیں یا کسی جنگ کا خوفناک تاثر پیدا کرنے کیلئے 'ایم اے رزاق" کی روح کو آواز دے کر ہدایت جاری کر دیا کرتے ہیں کہ اپنے صوتی اثرات سے محفل کے شرکا کے دل دماغ میں وہ دھمک پیدا کریں کہ سارا ماحول تھر تھر کانپنے لگے۔

وزیر اعظم صاحب کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ وہ مورچہ بند ہو کر ایک موبائیل فون ہاتھ میں پکڑنے کے بعد اپنے ٹیوٹر اکاؤنٹ کے کھڑکی کھول کر اپنے ٹوئٹ میزائل کا رخ اپنے دشمن کی جانب موڑ کر ایسا زبر دست حملہ کرتے ہیں کہ دشمن کے ہوش خطا ہو کر رہ جاتے ہیں، گزشتہ اٹھارہ ماہ سے وہ اپوزیشن کی بڑی چھوٹی جماعتیں ہوں یا دنیا کے دیگر ممالک، جس میں بھارت بھی شامل ہے، ایسے ایسے ٹوئیٹر میزائیل داغتے ہیں کہ مخالفین کے سینے چھلنی ہو کر رہ جاتے ہیں، اسی طرح کا اپنے ایک ٹوئٹ میزائیل سے شدید حملہ کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان کا فرمانا تھا کہ "کنٹرول لائن پر نہتے شہریوں پر حملے نہ صرف معمول بن گئے ہیں بلکہ اس میں شدت بھی آرہی ہے۔

جس کے پیش نظر لازم ہے کہ سلامتی کونسل عسکری مبصر مشن کی مقبوضہ کشمیر کی جانب کنٹرول لائن پرواپسی کے لیے اصرار کرے"۔ انھوں نے یہ بھی فرمایا کہ "بھارت کی جانب سے ایک خودساختہ اور جعلی حملے کا اندیشہ ہے، وہ بھارت کے علاوہ عالمی برادری پر بھی واضح کردینا چاہتے ہیں کہ اگر بھارت نے کنٹرول لائن پر نہتے شہریوں کا بہیمانہ قتل عام جاری رکھا تو پاکستان کے لیے سرحد پر خاموش تماشائی بنے بیٹھے رہنا مشکل ہوجائے گا"۔ یہاں یہ بات ماننا پڑے گی کہ وزیر اعظم نے خاموشی توڑنے سے پہلے بھی اس بات کا اشارہ دیدیا کہ پاکستان میں صبر و تحمل اب بھی اس درجہ موجود ہے کہ پاکستان اپنے ضبط کے پیمانے کو مکمل لبریز ہونے کے باوجود بھی اس وقت تک نہیں چھلکنے دیگا۔

جب تک پوری دنیا اس کے آواز میں آواز اور قدم سے قدم ملا کر چلنے پر آمادہ نہ ہو جائے اسی لئے کچھ کر گزرنے سے پہلے انھوں نے نہایت دلیرانہ طریقے سے دنیا سے یہ صاف صاف کہہ دیا کہ بھارت جس بے رحمی کے ساتھ کشمیر کی کنٹرول لائن کے اِس پار شہری آبادی کو نقصان پہنچا رہا ہے، سلامتی کونسل عسکری مبصر مشن کی مقبوضہ کشمیر کی جانب کنٹرول لائن پرواپسی کے لیے اصرار کرے۔ گویا ہم اس وقت تک کچھ بھی نہیں کریں گے جب تک دنیا ہماری مدد کرنے کیلئے تیار نہیں ہوگی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر دنیا پاکستان کا ساتھ دینے کیلئے تیار ہی نہیں ہوئی تو پھر کیا ہوگا۔

نیز یہ کہ وزیر اعظم کس دنیا سے کہہ رہے ہیں کہ وہ آپ کا ساتھ دے؟، یہ وہی تو دنیا ہے جو پاکستان کی تباہی و بربادی کی قسمیں کھا کر بیٹھی ہوئی ہے اور پاکستان بننے سے لیکر تا حال اس کی تباہی و بربادی کے درپے ہے۔ گویا پاکستان اسی عطار کے لونڈے سے علاج کرانے کا خواہش مند ہے جس کے سبب وہ اس حال میں پہنچا ہے۔ یہاں پر نہ جانے کیوں وزیر اعظم اس بات کو بھولے بیٹھے ہیں کہ

تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے

ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

وزیر اعظم نے دنیا کو آگاہ کیا کہ بھارت پاکستان پر ایک جعلی حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ بات خطے کیلئے ایک بہت بڑی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔ میری سمجھ سے جو باہر کی بات ہے وہ یہ ہے کہ "جعلی" حملہ کیا ہوتا ہے۔ حملہ تو ہر صورت میں حملہ ہی ہوتا ہے خواہ وہ محدود سطح پر کیا جائے یا ایک بڑی جنگ کی صورت میں سامنے آئے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وزیر اعظم صاحب کس حملے کو اصلی، بڑا اور خوفناک حملہ خیال کرتے ہیں؟۔ کوئی ایسا حملہ جس میں پاکستان تباہ ہو کر ہی رہ جائے، وہی ان کی نظر میں اصلی حملہ کہلائے گا؟۔ کیا کشمیر پر بھارت کا قبضہ اور پھر وہ کشمیر جس پر پاکستان کا گزشتہ 72 سال سے دعویٰ تھا اور پاکستان کشمیر کو اپنی شہ رگ کہا کرتا تھا، "جعلی" حملہ ہے۔

کیا وہاں پر 170 دنوں سے جو کرفیو لگا ہوا ہے اور وہاں جان و مال، عزت و آبرو غرض کوئی بھی چیز محفوظ نہیں، کیا یہ سب جعلی کارروائیاں بھی نہیں ہیں۔ یہ سب اگر جعلی کارروائیوں سے بھی کم ہیں تو پاکستان کی مستقل سرحدیں ہوں یا کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈریز، ان پر جو بھی بڑے سے بڑا حملہ ہوگا وہ سب جعلی سے معمولی ہی ہوگا اس لئے کہ جب ہم اپنے کشمیری مسلمان بھائیوں پر ہونے والے ظلم و ستم کے خلاف صرف ٹوئٹ سے ہی بمباری کرتے رہیں گے تو آہستہ آہستہ بھارت براستہ "آزاد" کشمیر پہلے مظفر آباد اور پھر اسلام آباد میں داخل ہو جائے گا اور ہم "سلامتی کونسل" کے اجلاسوں اور اقوام متحدہ کے ایوانوں میں تقریری مقابلے میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ گاڑ کر فتح و کامرانی کے جشن منا رہے ہونگے۔

لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ٹوئیٹر کے تصوراتی مورچے سے باہر نکل کر اصل میدان جنگ سجائیں اور اپنے صبر کے پیمانے کو چھلکنے سے روکنے کے بجائے ایک مرتبہ ابل پڑیں اور "اب کے مارکے دیکھ" کی مالا جپنے کی بجائے دشمن پر کاری ضرب لگانے کا عزم مصمم باندھ لیں ورنہ دشمن اندرونِ ملک بھی وہ حالات پیدا کر سکتا ہے جو (خدا نخواستہ) جنگ کے بغیر ہی ہمیں پارہ پارہ کرکے رکھ دے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */