بابر نام ہی کافی ہے- شیراز علی مردانی

کچھ شک نہیں کہ بطور ڈی جی آئی ایس پی آر آصف غفور نے بہت شہرت پائی،وہ اپنے چاہنے والے اور مخالفین کے لئے ہمیشہ موضوع سخن بنے رہے۔15 دسمبر 2016ء کو جب وہ ڈی جی بنے تھے تب بہت سارے لوگوں کا خیال تھا کہ وہ اپنے پیش رو عاصم باجوہ کی طرح مقبول نہیں بن سکیں گے۔

لیکن لوگ عاصم باجوہ کو بھول گئے۔ آصف غفور کی شہرت کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا حتی کہ انڈیا بھی یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہوگیا کہ آئی ایس پی آر نے میڈیا کی جنگ میں انڈیا کو شکست دی۔ اور آئی ایس پی آر کو آئی ایس آئی سے بھی خطرناک قرار دیا گیا۔

مانا گیا کہ انڈیا اور اس کی لابیوں کے بیانیہ کی طبیعت صاف کرنے کے لئے آصف غفور کا ایک بیان کافی ہوتا تھا۔آصف غفور کے تبادلے پر انڈیا، دیسی لبرل اور ن لیگی کافی خوش نظر آ رہے ہیں،انہیں شاید نہیں معلوم کہ یہ کوئی سو کولڈ جمہوری پارٹی نہیں ہے۔ کہ نواز شریف یا بے نظیر کے چلے جانے سے یتیم ہوگی،یہ سب سے منظم ادارہ ہے۔یہاں افراد اہم نہیں مشن اور مقاصد اہم ہوتے ہیں۔یاد رہے نئے ڈی جی صاحب کے حوالے سے بھی مشہور ہے کہ چھترول کرنے میں یہ بھی ماہر ہیں ۔جسے ہم دوسرے لفظوں میں سرد بےعزتی کرنا بھی کہہ سکتے ہیں۔

یوں بھی فوج میں ایک سے ایک ہیرا موجود ہے۔ آئی ایس پی آر ہی کے سفر کو ہی دیکھنا ہے۔ تو برگیڈیر صدیق سالک شہید سے شروع کریں،یہ فوج کے ادارے کا حسن ہے کہ یہاں کسی کی اجارہ داری نہیں ہے،یہ ادارہ کسی فرد یا خاندان کی ذاتی پراپرٹی اور ملکیت نہیں ہے۔نئے ڈی جی میجر جنرل بابر افتخار کو خوش آمدید،لبرل کی آئندہ کی تکلیف کے لئے 'بابر' نام ہی کافی ہے۔