جشن منائيں يا ماتم کريں - توقیر ریاض

جس ملک کا سب سے طاقتور شخص ، آرمی چيف ، چيف ايگزيکٹيو اور باوردی صدر رہنے والا سنگين غداری کا مرتکب ٹھہرے ، يعنی ملکی سلامتی کے لئے خطرہ ، جہاں تين دفعہ کا وزيراعظم رہا شخص ملکی خزانے کا محافظ ہی چور اُچکا ثابت ھو جسکی اولاديں تک کرپشن ميں کمر کمر تک دھنسی ھوں ۔

جہاں کا سابق صدر اربوں ڈالر کے گوٹالے ميں ملوث پائیا جاۓ جو دو نمبر بينک بنا کر ملکی خزانہ لوٹتا رہا ھو وہاں جشن کے شاديانے بجانے کی بجائے ماتم کی جئيے ، سينہ کو بی کيجۓ اپنی قسمت پر ، اپنی دانش پر ۔مشرف دھرتی پر اکڑ اکڑ کر چلنے والا وہ مغرور شخص تھا جس نے طاقت اور اقتدار کے نشے ميں اپنے لوگوں کو تھوک کے حساب بيچا ،بد مست ہاتھی نے بيچارے معصوم طلبہ پر جن کا وہ محافظ رکھوالا تھا ان پر فاسفورس بم برساۓ ، جنکی لاشيں بھی دھواں اور دھول ھو گئ ۔

مشرف کو ہماری عدليہ کيا سزا دے گی اسکی سزا وہ رب دے گا جو بہترین منصف ھے ليکن دنياوی زلت اُسی سزا کا ايک حصہ ھے ، مشرف کو پھانسی تو ھونی نہيں يہ ايک علامتی سزا ھے ليکن اپنی ہی ماتحت عدالتوں سے سزا اور اپنے ہی لوگوں کی تھو تھو اس بات کا ثبوت ھے کے طاقت ، حکومت اور حاکميت صرف ميرے اللہ کی ، جو انسان اپنی اوقات سی تجاوز کرے گا اللہ دنيا ميں زليل و رسوا کرے گا ۔

ہمارے عدالتی نظام ميں ہزار ھا سکم ليکن يہ بات بھی جسٹس کھوسہ کی درست ھے کے وقت بدل رہا ھے جہاں کبھی ميڈيکل گرونڈز پر رہائ دينے والے جج اور ارشد ملک جيسے روح اور ايمان بيچنے والے جج ہيں تو وہيں زرداری ، نوازشريف ، شہباز شريف اور مشرف کو نکيل ڈالنے والے منصف بھی ، مشرف کی سزا سے مشرف کی پھانسی نہيں ھونی شائد کل کو سزا معطل بھی ھو جائے ليکن اس سے فوج کا اقتدار کے ايوانوں تک آنے کا راستہ کٹھن ضرور ھو گا ، عدليہ کی ساکھ بہتر ھو گی اور لوگوں کا اعتماد بھال ھو گا ۔

ہماری اجتماعی بد قسمتی رہی کے ضيا کے دور سے ليکر اب تک کی سياسی لاٹ ، بيوروکريسی ، عدليہ ، انتہائی اخلاقی اور فائنناشلی کرپٹ رہی اس ملک کی تنزلی کا اگر احاطہ کرنا ھو تو بيٹھ کر تجزيہ کيجئے کی کس پارٹی ، کون سے جرنیل ، کس ادارے نے ملکی مفاد کو زاتی فائدے پر ترجيی دی اگر يہ گند جو ايک وقت لگتا تھا صرف خونی انقلاب سے درست ھو سکتا ھے اگر دھیرے دھيرے درست ڈگر پر آ جاۓ تو ہماری خوش قسمتی ھو گی ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */