کیا غار حرا اور غار ثور میں کیبل کار نصب کی جائے گی؟

ریاض: کنگ عبد العزیز فاؤنڈیشن میں تاریخ کے شعبے کے سربراہ ڈاکٹر فواز الدہاس نے مطالبہ کیا ہے کہ غار حرا اور غار ثور میں زائرین کی سہولت کے لیے کیبل کار اور برقی سیڑھیوں کی تنصیب کی جائے۔

سعودی ویب سائٹ کے مطابق ام القری یونیورسٹی میں تاریخ کے استاد اور کنگ عبد العزیز فاؤنڈیشن میں تاریخ کے شعبے کے سربراہ ڈاکٹر فواز الدہاس نے کہا ہے کہ قدیم مقدس و تاریخی مقامات غار حرا اور غار ثور میں زائرین کے لیے بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کو کام کرنا چاہیئے۔

ڈاکٹر فواز کا کہنا تھا کہ دونوں تاریخی مقامات بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ انہیں سرکاری نگرانی میں دیا جائے اور ان کے قریب غیر قانونی تجاوزات ختم کی جائیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ زائرین کی سہولت کے لیے دونوں پہاڑوں پر کیبل کار اور برقی سیڑھیوں کی تنصیب کی جائے۔


ڈاکٹر فواز کا مزید کہنا تھا کہ دونوں غاروں کی زیارت کے لیے لاکھوں افراد آتے ہیں، انہیں یہاں پر خرافات کرنے سے بچانے کے لیے آگاہی سینٹر قائم کیے جانے ضروری ہیں۔

پروفیسر کا کہنا تھا کہ غار ثور کی تاریخی حیثیت معروف ہے، اس کی سطح سمندر سے بلندی 759 میٹر ہے، اس کے شمال میں اکحل پہاڑ ہے جو تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دوسرا غار حرا ہے، یہ پہاڑ کے اندر 4 ہاتھ کا شگاف ہے، اس کا رخ بیت اللہ کی طرف ہے، یہ حرم شریف سے 10 کلو میٹر دور ہے۔ متعلقہ حکام کو دونوں غاروں پر زائرین کو سہولیات فراہم کرنی چاہئیں۔

خیال رہے کہ مکہ مکرمہ میں غار حرا اور غار ثور اسلامی تاریخ کا اہم ترین حصہ ہیں، یہ دونوں مقامات ارکان حج کا حصہ نہ ہونے کے باوجود بیشتر زائرین ان کی زیارت کرنے ضرور آتے ہیں۔