میڈیا معاشرے کا ستون - مدیحہ صدیقی

میڈیا معاشرے کا ستون اور نہایت ہی مضبوط شعبہ ہے یہ ذہن بنانے اور رائے سازی سے لے کر معاشرے کی سمت کے تعین تک کا کردار ادا کرتا ہے کسی بھی چیز کو عوام الناس کی خواہش بنا کر روایات کی تشکیل کرتا ہے اسکرین پر نشر ہونے والے نظریات عوام کے قول و فعل بن جاتے ہیں میڈیا کے اس نفوز کی وجہ سے اس کی ذمہ داری دھری ہوجاتی ہے .

مگر افسوس اتنے حساس اور موثر ادارے کا کردار نہ صرف دینی بلکہ اخلاقی اقدار سے متصادم نظر آتا ہے . اس وقت عوام میں مقبولیت کی انتہا کو چھونے والا ڈرامہ میرے پاس تم ہو ایک ایسے موضوع کو لے کر چٹخارے لیتے نظر آرہا ہے جو کہ پاکستانی معاشرے کا بنیادی اشو ہے ہی نہیں یہ مغربی معاشرے کا تپتا ہوا موضوع ہے جس نے خاندان کا شیرازہ بکھیر دیا ہے ڈرامہ انڈسٹری اس وقت معاشرے کی دھجّیاں بکھیر رہی ہے , اس ڈرامے نے عورت کے کردار کو بے اعتبار کر دیا ہے جو عزت مسلمان ماں بہن بیٹی کو حاصل ہے اسے دھندلادیا گیا تمام تر قربانیاں دینے والی عورت کے کردار پر سوالیہ نشان لگادیا گیا اس معاشرے کی عورت جو اپنا گھر بنانے کے لیئے نہ صرف اپنا تن , من بلکہ دھن بھی لگادیتی ہے اور اولاد کو دیکھ کر جیتی ہے , پس منظر میں چلی گئی ہے اس کی جگہ منظر پر چھائی ایسی عورت ہے جس نے نہ صرف اپنے شوھر سے بے وفائی کی بلکہ اپنی اولاد سے بھی بے نیاز ہوگئی , ایسا نہیں ہے کہ معاشرے میں منفی کردار موجود نہیں , لیکن ایشو بنا کر چھپی ہوئی باتوں کی تشہیر کرنا اور مانوس کروانا نا قابل فہم اور قابل گرفت ہے .

پھر شرعی احکام سے لاپرواہی اور بے نیازی اس حد تک ہے کہ طلاق کے بعد عدت نہیں اور نکاح کے بغیر ساتھ رہنے کا تصور دینا شرمناک ہے . اور آگے چل کر پھر اس عورت کو مظلوم بنایا گیا اس کردار سے ہمدردی پیدا کی جارہی ہے جس سے ہمدردی کا پیدا ہونا بھی خطرے کی گھنٹی ہے بلکہ یہ کردار سخت سزا کا مستحق ہے اور اس عورت کا اپنے جرم سے پلٹنا بھی ایسا کہ حالات نے ساتھ نہ دیا , غلطی کا تب بھی احساس و اعتراف نہیں . گو کہ ابھی آخری قسط باقی ہے آگے جو بھی دکھایا جانے والا ہے لیکن ایک بات تو طے ہے کہ اس ڈرامے نے ہماری دینی اور معاشرتی اقدار پر ضرب لگائی , سخت نقصان پہنچایا ہے اور قابل لحاظ و ناپسندیدہ معاملات کو کھول کر پیش کیا . متعلقہ اداروں کو ضرور اس طرف توجہ دینی چاہیے کہ متواتر نشر ہونے والے ڈرامے نا مناسب اشوز کو بار بار اجاگر کر رہے ہیں,ایسے موضوعات کو چھیڑا اور ڈسکس کیا جا رہا ہے کہ گھر کے افراد بھی ایک ساتھ بیٹھ کر نہیں دیکھ سکتے آخر اس کا کیا مقصد ہے ,یہ بے باکی کہاں تک لے جائے گی میڈیا کے لیئے وضع کر دہ ضابطے و اصول کہاں گئے کیا ہماری نسلیں یوں ہی تباہ ہوتی رہیں گی کوئی ہے جو نوٹس لے .