ایک کھلا خط خلیل الرحمان قمر کے نام - میرے پاس تم ہو

مکرمی جناب خلیل الرحمان قمر صاحب!

آپ پر سلامتی کیسے بھیجوں کہ آپ کی وجہ سے تو ہم سب عورتوں کی سلامتی اور بقا داؤ پر لگ چکی ہے . یہ خط جو میں تحریر کر رہی ہوں یہ خط نہیں چیخیں ہیں ، آہیں ہیں، فریادیں ہیں سسکیاں ہیں، ان گھریلو اور شریف عورتوں کی کہ جنہیں آپ نے، جی ہاں خلیل الرحمان صاحب آپ نے چند موم بتی مافیا غلاظت میں لتھڑی ہوئی عورتوں کو برا کہنے کے شوق میں تمام عورتوں کی سیرت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے آپ برا کہیں ان بے وفا اور بے حیا عورتوں کو ، ضرور برا کہیں بلکہ ان کو برا کہنے میں ہم سب آپ کا ساتھ دیتتیں اگر جو آپ ان کی غلاظت کو ہماری گھریلو زندگی سے مربوط کئے بغیر ان کے بازاروں تک محدود رکھتے جہاں وہ بکتی ہیں .

آپ سے پہلے بھی لوگوں نے سچ لکھا ، سچ بولا اور سچ کہا ، ہم نے مانا کہ مرد بیچارے بھی عورتوں کی بے وفائی کا شکار ہوتے ہیں مگر وہ الحمداللہ پاکستان میں اتنے قوام ، اتنے طاقت ور اور اتنے صاحب اختیار ہیں کہ ان بے وفا عورتوں کو اٹھا کر باہر پھینک دینے پر قادر ہیں خلیل الرحمان صاحب آپ شاید بھول رہے ہیں کہ یہ پاکستان ہے جہاں طلاق کا حق مرد کے پاس ہے جہاں وہ مغرب زدہ معاشرے میں عورت کی بے وفائی برداشت کرنے پر مجبور نہیں ہوتا کہ طلاق کی صورت میں اپنی جائداد سے ہاتھ دھونا پڑے گا یہ پاکستان ہے جہاں ہم عورتیں ہر تنگی اور مشکل حالات میں بھی اپنے محبوب شوہروں سے وفا نبھاتی اور اس کی خدمت اس آس پر کرتی ہیں کہ وہ خوش ہوگا تو ہمیں جنت ملے گی ، آپ نے تو ہماری جنت ہی اجاڑ دی . آپ تو خود قلم کار ہیں جانتے ہوں گے کہ قلم کاروں کو سب اپنی عرضیاں دیتے ہیں . اپنے غم سناتے ہیں جیسے آپ کو دانش جیسے کسی مرد نے اپنی کمزوریوں کا دکھڑا عورت کی بے وفائی میں پرو کر سنایا اور آپ نے اپنے معاشرے کو پرکھنے اور جاننے کے باوجود اس ایک فیصد طبقے کے خلاف ایسا لکھا اور دکھایا کہ ہمارے گھروں میں اس کی وجہ سے آگ لگ گئی. اور نوبت یہاں‌تک آن پہنچی کہ اب اگر کوئی بیوی اپنے شوہر سے جائز خواہشات بھی کرے تو اسے مہوش کے طعنے سننے پڑتے ہیں کہ تم بھی اس جیسی ہونا چاہتی ہو ؟؟؟

خلیل الرحمان صاحب ! بہت اچھا لکھتے ہیں ناں آپ ؟ اور آپ کے قلم میں بہت طاقت بھی دی ہے میرے اللہ پاک نے، تبھی تو آپ کا لکھا ہوا ڈرامہ "میرے پاس تم ہو," دیکھنے کے لئے آج کے مصروف دور میں بھی سڑکیں سنسان ہوگئیں ، اور ہماری زندگیاں ویران ہو گیئں اب ایسا کریں کہ ایک ڈرامہ اس ڈرامے کے زہر کے توڑ پر بھی جلدی سے پیش کردیں وہ زہر جو آپ کا یہ ڈرامہ ہم شریف عورتوں کی زندگی میں گھلا گیا ہے میرے پاس بہت سی خواتین کی التجائیں آئی ہیں جو ان گھریلو عورتوں نے اپنی سودا لکھنے والی کاپیوں کے صفحات پر مصنف نہ ہوتے ہوئے بھی اپنے خون دل سے تحریر کی ہیں آپ تو مصنف ہیں ناں ادبی زبان میں بات کریں گے اسی لئے ان کی سادہ تحریروں سے ٹپکتے خون کو نہیں دیکھ پائیں گے، میں عورت ہوں ناں، ان کے لہو رنگ لفظوں سے ٹپکتے خون نے مجھے بےچین کر دیا ایک خاتون نے لکھا ہے کہ
"بڑی دھوم سنی تھی اس ڈرامے کی ہر گزرتی قسط میں اوّل،اوّل تو معمولی تبصرے ہوئے میاں جی کمنٹس دیتے پھر تبدیلی آتی گئی جو ڈرامے میں دکھایا جاتا اس کے ردعمل پر سننا مجھے پڑتا یہاں تک کہ حال یہ ہوگیا کہ قسط دیکھ کر میاں جی آفس بیٹھے بیٹھے فون پر مجھے عجیب عجیب سے میسیجز کرنے لگے ان میسیجز کو سمجھنے کے لئے مجھے آپ کے ڈرامے کی اس ہفتے کی قسط تفصیل سے دیکھنی پڑتی کہ آخر ایسا کیا دیکھا کہ میاں جی مجھ سے بدظن ہو گئے،؟

نوبت یہاں تک پہنچی کہ ہماری ہنستے بستے گھر کو یہ ڈرامہ کھا گیا کہ اب میں خاندان کے کسی بزرگ مرد سے بھی بات کروں تو میاں جی کہتے ہیں اس سے بچ کر رہنا آخر میں میاں جی کے جو پیغام موصول ہونے لگے ان کو پڑھ کر مجھے یقین آگیا کہ یہ ڈرامے ہماری زندگی میں کسقدر اثر انداز ہوتے ہیں کہ ان کی وجہ سے ہماری زندگی کی خوشیاں اور غم کا سودا طے ہوتا ہے یہ ڈرامہ دیکھ دیکھ کر میاں جی نے اپنے حواسوں پر اتنا طاری کر لیا تھا کہ ایک دن مہوش کی بے وفائی دیکھ کر مجھے دھمکی دے کر کہنے لگے کہ "اگر تم نے میرے ساتھ ایسا کیا ناں تو میں نے بھی سوچ رکھا ہے کہ کیا کروں گا " اور ساتھ ہی ڈرامے کا ڈائلاگ دہرایا کہ " کیوں کہ شرک تو خدا بھی معاف نہیں کرتا " تو سنئیے خلیل الرحمان صاحب رب کی تو بات نا کیجیے کہ رب کا ظرف بہت بلند ہے اور وہ مرنے سے پہلے توبہ کرلینے والے کو شرک بھی معاف کردیتا مگر مرد خدا نہیں ہے اور نا ہی مہوش نے شرک کیا تھا اسکا گناہ زنا تھا جس کی سزا سنگسار کرنا ہے ، اور جو ہمارے جیسی عورت تو تصور بھی نہیں‌کرسکتی ، مگر آپ نے تو ہمارے پورے طبقے کو ہی مشکوک بنا دیا کہ دولت کیلیے باوفا شوہر کو بھی لات مار دیتی ہے ، یہیں پر بس نہیں آگے وہ اپنی تحریر میں وہ درد بیان کرتی ہے کہ "میری شادی وہ بابرکت شادی تھی جو بڑے چاؤ اور مان کے ساتھ برکت والے
ماہ رمضان کے آخری عشرہ میں طے ہوئی .

وہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور بی بی خدیجہ کی سنت پر کہ میں اعلی تعلیم یافتہ اور میاں جی مجھ سے عمر میں کم ، میرے اعتراض کرنے پر انہوں نے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال دیکر مجھے منایا اور میری خالہ نے عید کے دن ہماری منگنی کی ، ایسی محبت بھری ، خوشیوں بھری شادی شدہ زندگی کہ میں اپنے شوہر کی محبتوں کی قدر دان ، ان پر نازاں ، اور وہ مجھ پر اعتبار کرنے والے اک بہترین شوہر مگر ہماری خوش گوار زندگی میں اس منحوس ڈرامے نے زہر گھول دیا کیا نکاح جیسے مقدس رشتے پر بھی اب انگلیاں اٹھائی جائیں گی ؟ نکاحی اور محبت کرنے والی بیویاں بھی اب شک کی نگاہ سے دیکھی جائیں گی ؟ کہ بری عورت نہیں بیوی کے لئے اب یہ بولا جا رہا ہے کہ "کہتے ہیں کہ اگر " بیوی " ہاتھ چھڑا کر جانا چاہے تو وہ ہاتھ چھڑانے سے پہلے ہی جاچکی ہوتی ہے . بات یہ نہیں کہ آپ نے ایسی عورت کا انجام دکھایا عبرت دکھائی بلکہ بات یہ کہ آپ نے بیوی کے کردار پر جو ضرب لگائی ہے وہ تو کوئی بھی نہیں لگا سکا . " خلیل الرحمان صاحب آپ کہتے ہیں کہ" یہ ڈرامہ خراب عورتوں کے لئے ہے کہ ان کو خراب کہا جائے ورنہ نیک عورتوں کی تو ہم جوتیوں میں سر رکھتے ہیں" تو صاحب آپ بھلے سے جوتیوں میں سر نہ رکھتے ہمارے سروں کے تاجوں کو ہمارے سروں سے تو نہ اتارتے مانا کہ آپ کی ایک تحریر لاکھوں روپے وصولی کرتی ہے مگر ان پیسوں کو ہمارے گھروں میں آگ لگا کر تو نہ حاصل کرتے .

یہ تو ایک خط ہے جو آپ تک پہنچایا اسی سے ملتی جلتی کئ تحریریں ہیں جو میری ٹیبل پر نوحہ کناں ہیں سنا ہے آپ نے آخری قسط آگے کردی ہے آپ سے دردمندانہ اپیل ہے کہ اسی کی آخری قسط میں بتا دیں کہ وہ جو مہوش ہے وہ نہ میں ہوں اور نہ میرے جیسی وہ عورت جو اپنے جذبات جب اک شخص کے نام کے کے اس کے گھر میں اآجاتی ہے تو زندگی بھر اپنی جوانی اپنی خواہشات اپنی زندگی اسی کی دہلیز پر اسکے ساتھ زندگی کا دکھ تکلیف سہ کر وہیں اسی کے نام سے جنازے کی صورت اٹھائی جاتی ہے... بتادیں خلیل الرحمان صاحب کہ آپ نے جو عورت دکھائی وہ تو منٹو کے بازار کا قصہ ہے اسے ہم سے مربوط کیوں کیا آپ نے؟ بتادیں اس معاشرے کو کہ آپ سے غلطی ہوئی، ایسی عورت نہ آپ کے گھر میں ہے نہ ہمارے گھروں میں تو اس مغرب زدہ عورت گھریلو زندگی کا حصہ دکھا کر آپ نے ہمارے گھروں کو آگ لگادی ہے معافی مانگیِے آپ ان تمام عورتوں سے جن کی پرسکون خوشیوں بھری حلال رشتہ نکاح میں جڑی ازدواجی زندگیوں کو آپ نے آگ لگادی ہے، جس طرح مردوں‌کے اذہان بدلے ہیں .... میں آخر میں پھر یہی کہوں گی کہ یہ خط نہیں دردناک داستان ہے جس درد کا باعث آپ کا ڈرامہ ہے اس کا مداوا کیجیے جیسے یہ آگ لگائی ہے اب اسے خود بجھانے کی کوشش کریں ورنہ نا تاریخ آپ کو معاف کرے گی اور نا ہی اس معاشرے کی عورت کہ جس کی وفا کو آپ نے پل بھر میں مشکوک بنا دیا .

والسلام
فریاد کناں پاکستان کی تمام باوفا خواتین

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */