ہوگی ہڑتال کہیں تو کہیں دھرنا ہوگا۔عبدالخالق بٹ

چینختے خوابوں کی تعبیر یہی کہتی ہے
ہوگی ہڑتال کہیں تو کہیں دھرنا ہوگا
اس شعر کے انتخاب کی واحد وجہ سیاسی حالات ہیں جن میں ہڑتال کی دھمکی اور دھرنے کی دھمک سنائی دے رہی ہے۔ہڑتال سے متعلق پہلے بھی لکھ آئے ہیں کہ یہ ’ہٹ‘(دُکان) اور ’تال‘ (تالا) سے مرکب ہے۔ یوں ہڑتال کا مطلب ہوا دکان کی تالا بندی۔ممکن ہے ’ہڑتال‘ کی نوبت نہ آئے کہ بازار پہلے ہی بے رونق ہوچکے ہیں:
دن کے ڈھلتے ہی اُجڑ جاتی ہیں آنکھیں ایسے
جس طرح شام کو بازار کسی گاؤں میں
لفظ ’دھرنا‘ ہندی لفظ ہے اور اس کے معنی میں رکھنا، ٹکانا اور جمانا جیسے مترادفات شامل ہیں۔تاہم اب ’دھرنا‘ فقط سیاسی اصطلاح تک محدود ہوگیا ہے۔اردو لغت کے مطابق: ’ کوئی بات منوانے یا التجا پوری کرانے کے لیے کسی کے دروازے پر یا کسی اور جگہ جم کر بیٹھنے کا عمل ‘ دھرنا کہلاتا ہے۔
یوں تو ’ رکھنا ‘ اور ’ دھرنا ‘ ایک دوسرے کے مترادفات ہیں مگر ان دونوں کے مفہوم میں بنیادی فرق ہے۔’دھرنا‘ میں حرکت کا تصور نہیں ہے بلکہ ایک درجے میں بے پروائی کو بھی دخل ہے۔ دیکھیں علامہ اقبال کیا کہہ گئے ہیں:
تھے تو آبا و تمہارے ہی مگر تم کیا ہو
ہاتھ پہ ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو
اس کے برخلاف ’رکھنا ‘ کی اصل ’رکھشا ‘ یعنی ’حفاظت‘ ہے، جس میں دیکھ بھال کا تصور بھی شامل ہے۔
بات ہڑتال اور ہنگامے کی ہو تو گرفتار مظاہرین کی پہلی منزل ’حوالات‘ ہوتی ہے۔ حوالات لفظ ’حوالہ‘ کی جمع ہے جس کے بہت سے معنی اور مفہوم ہیں جن میں ’تحویل، سپردگی اور سونپنا‘ بھی شامل ہیں۔
’حوالات‘ تھانے یا پولیس اسٹیشن میں قائم وہ عارضی قید خانہ ہوتا ہے جہاں ملزم کو عدالت میں پیش کرنے تک رکھا جاتا ہے۔بقول عزیز قیسی:
الزام کیا ہے یہ بھی نہ جانا تمام عمر
ملزم تمام عمر حوالات ہی میں تھا
اس سے پہلے کہ بات عدالت سے ہوتی جیل خانے تک پہنچے لفظ ’تھانہ‘ اور ’ملزم‘ پر بات ہوجائے۔
’تھانہ‘ لفظ ’تھان ‘ سے ہے جس کے معنی ’جگہ، ٹھکانا اور جائے قیام ‘ وغیرہ ہیں۔اس لفظ کو آپ اترپردیش(انڈیا) کے مشہور علاقے ’تھانہ بَھوَن‘ اور پاکستان کے ’تھانہ بھولا خان‘ میں دیکھ سکتے ہیں۔
اسی ’تھان‘ سے ’ استھان‘ یعنی ’جگہ‘ ہے۔اسے آپ ’ راجستھان‘ میں موجود پائیں گے۔ پھر یہی ’استھان‘ مختصر ہو کر ’ ستان ‘ ہوا اور پاکستان و افغانستان سے ہوتا ہوا وسطی ایشیا میں تاجکستان ، ازبکستان اور کرغزستان تک پہنچ گیا۔یہی ’تھان‘ پنجابی زبان میں ’تھاں‘ ہے۔ملکۂ ترنم کا کہنا تھا:
ہائے ہائے جدوں ہولی جئی لینا میرا ناں
میں تھاں مر جانیاں،وے تھاں مرجانیاں
بات یہیں تمام نہیں ہوئی،اس تھان یا تھانہ کی ایک صورت ’ آنہ‘ بھی ہے اور اس کے معنی ’گھر‘ کے ہیں۔ان معنوں میں یہ ’جگہ اور ٹھکانے‘ کا ہم معنی ہے۔اس ’آنہ‘ کو آپ لودھیانہ(لودھیوں کا گھر)، راجپوتانہ(راجپوتوں کا گھر) اور ہریانہ(ہری کا گھر) میں ملاحظہ کر سکتے ہیں۔چونکہ ’قاعدہ ادغام‘ میں ایک الف گِر جاتا ہے اس لیے مذکورہ ناموں میں ’آنہ‘ کا ایک ’الف‘ حذف ہوگیا ہے۔
ایک تھانہ پولیس کا ہوتا ہے۔ لغت کے مطابق: ’وہ جگہ جہاں ضلع کے کسی مقررہ علاقے کی نگرانی کے لیے تھانے دار اور پولیس کے سپاہی رہتے ہیں‘ تھانہ کہلاتی ہے۔اکبر الٰہ آبادی خوب کہہ گئے ہیں:
رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جا جا کے تھانے میں
کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں
اس نسبت سے لفظ تھان اور تھانہ میں فرق یہ بھی ہے کہ ’تھان‘ پر جانور باندھے جاتے ہیں اور ’تھانے‘ میں ملزم بند ہوتے ہیں۔
’پولیس‘ بدیسی لفظ ہے۔ جو انگریزی کی راہ سے اردو میں آیا ہے۔ قدیم یونانی زبان میں ’شہر‘ کو پولی (Póli) کہتے تھے جو رومن زبان میں پولِس(Polis) ہے۔اس ’پولِس‘ ہی کی رعایت سے سیاست کو پالیٹیکس (Politics) اور اس سے متعلق حکمت عملی کو پالیسی (Policy) کہا جاتا ہے۔اسی طرح شہری حفاظت سے متعلق محکمہ پولیس (Police) کہلاتا ہے۔اس ’پول‘ کا استنبول سے کیا تعلق ہے یہ کسی آئندہ نشست میں بیان کریں گے۔فی الحال آگے بڑھتے ہیں کہ معاملات پولیس تھانے کے ہیں۔
یہ ناممکن ہے کہ بات تھانہ کچہری کی ہو اور ’ملزم‘ کا ذکر نہ ہو۔کئی بار ایسا ہوا ہے کہ ہمیں ملزم اور ملازم ایک ہی خاندان کے فرد دکھائی دیے مگر بنا ثبوت کچھ کہنا مشکل تھا سو چپ رہے۔مگر کب تک آخر ہمیں سِرا مل ہی گیا۔
لفظ لازم، الزام، ملزم اور ملازم یہ تمام الفاظ ’لزم‘ سے متعلق ہیں جس کے معنی چپکنے اور چمٹنے کے ہیں۔جب ہم کہتے ہیں کہ یہ کام تم پر لازم ہے تو اس کا مفہوم یہی ہوتا ہے کہ اب یہ ذمہ داری تم پر چسپاں کردی گئی ہے۔ملزم بھی وہ ہوتا ہے جس سے کوئی بہتان یا قصور وابستہ ہوتا ہے۔اب ’ملازم‘ پر غور کرلیں۔اس کے معنی میں بھی دائمی وابستہ گی اور رفاقت شامل ہیں۔ملازم اکثر صورت میں ساتھ ساتھ بھی ہوتا ہے۔کعبہ کا دروازے کو ’ملتزم‘ کہتے ہیں۔اس کو ’ ملتزم‘ کہنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ لوگ اس سے لپٹ کر اور چمٹ کر اللہ سے دعائیں کرتے ہیں۔
طوالت کے خوف سے ہم لفظ ’عدالت وکیل اور قاضی‘ کا ذکر چھوڑتے ہیں اور ’جیل‘ پر آتے ہیں۔
جیل (Jail) انگریزی زبان کا لفظ ہے جو ’قید خانہ اور بندی خانہ‘ جیسی تراکیب کے ہوتے اردو زبان میں اس طرح گُھل مل گیا ہے کہ اپنی اصل میں اردو ہی کا لفظ معلوم ہوتا ہے۔اس سے ’جیل خانہ‘ اور ’جیل خانہ جات‘ جیسی تراکیب بنائی گئی ہیں۔
عربی زبان کے زیر اثر پرتگیزی زبان میں جیل کو کدیا (cadeia) کہتے ہیں۔یہ ’کدیا‘ عربی کی ’قید‘ کی تبدیل شدہ شکل ہے۔
قید خانہ، بندی خانہ اور جیل خانہ کو فارسی میں ’زندان‘ کہتے ہیں۔یہ لفظ تاریخی پس منظر کا حامل ہے جو ایک ایسے وقت کا احوال بتاتا ہے جب پہلے پہلے جنگی مجرموں کو موت کے گھاٹ اتارنے کے بجائے قید کرنے کا رواج ہوا۔
’زندان‘ کا تعلق ’زندگی‘ سے ہے۔قدیم زمانے میں جب کوئی بادشاہ جنگ میں فتح پاتا تو شکست کھانے والی فوج کا مکمل صفایا کردیا جاتا،کوشش یہ ہوتی تھی کہ دشمن کا کوئی سپاہی زندہ نہ رہنے پائے۔مگر جب انسانی مزاج تہذیب آشنا ہوا تو پکڑے جانے والوں کا قتل عام کرنے کے بجائے انہیں قید کرکے گویا ان کی ’زندگی‘ بخش دی جاتی تھی۔یوں قید خانہ ’زندان‘ کہلایا۔
یہ کیسا دور آیا بے حسی کا
مجھے زندان گھر لگنے لگا ہے

Comments

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ گزشتہ دودہائیوں سے قلم و قرطاس کووسیلہ اظہار بنائے ہوئے ہیں۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی سے اسلامی تاریخ میں ایم۔اے کیا ہے۔اردو ادب سے بھی شغف رکھتے ہیں، لہٰذا تاریخ، اقبالیات اور لسانیات ان کے خاص میدان ہیں۔ ملک کے مؤقر اخبارات اور جرائد میں ان کے مضامین و مقالات جات شائع ہوتے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com