بیس روپے من آٹا- سجاد میر

آج کل پاکستان میں نہیں بھارت میں بھی حبیب جالب کا بہت چرچا ہے۔ پاکستان میں جالب کی شہرت کی ابتدا مادر ملت کے انتخابات میں ہوئی جس کی نظمیں صدر ایوب خاں کے خلاف سب سے موثر وار ہوا کرتی تھیں۔ ان میں ایک نظم صدر ایوب زندہ باد تھی۔ ہم بھی وہ نظم بہت لہک لہک کر پڑھا کرتے تھے۔ مادر ملت کے قافلہ جمہوریت کے ہمراہ بھی جالب یہ نظم اپنے مخصوص انداز میں سنایا کرتے تھے۔ ایک یہ نظم اور ایک بچوں پہ چلی گولی ماں دیکھ کے یہ بولی۔ بہت مقبول تھیں۔ اس نظم کا پہلا مصرعہ تھا: بیس روپے من آٹا اس پر بھی ہے سناٹا گوہر ‘ سہگل‘ آدمی جی‘ بنے ہیں برلا اور ٹاٹا ملک کے دشمن کہلاتے ہیں جب ہم کرتے ہیں فریاد صدر ایوب زندہ باد کچھ ایسی ہی نظم تھی اس وقت اس لئے یاد آئی کہ صبح سے سارے ٹی وی چینل بلا استثنا یہ راگ الاپ رہے ہیں کہ آٹا 70روپے کلو ہو گیا ہے۔ جی 70روپے کلواس تیزی سے ہماری زندگیوں میں سونے کی قیمت بھی بڑھی ہو گی۔ ویسے آٹے کی حیثیت ہماری زندگیوں میں سونے ہی کی سی ہے۔ میں کہا کرتا ہوں ہم اس لئے بادشاہ ہیں کہ ہماری زراعت ہماری جان ہے۔ دنیا بھر میں اقتصادی بحران آئے مگر ہماری زندگیوں پر کوئی بڑا اثر نہ پڑا حتیٰ کہ تیل کی قیمت عالمی منڈیوں میں جب آسمانوں تک جا پہنچی ہم اپنے گھر میں مطمئن زندگی گزار رہے تھے۔ فقیری انداز ہی میں سہی۔ ہم پر کوئی ایسا دبائو نہ تھا۔

وجہ یہ تھی کہ ہماری زراعت نے ہمیں بچا رکھا تھا۔ ہم اتنی گندم پیدا کر لیتے تھے کہ جی بھر کے دو وقت کی روٹی کھا لیتے تھے۔22کروڑ انسانوں کو اور کچھ ملتا ہو یا نہ ملتا ہو روٹی تو مل ہی جاتی تھی۔ ہماری چاول کی فصل نہ صرف ہماری ضروریات پورا کرتی تھیں بلکہ ہمارے لئے زرمبادلہ بھی کماتی تھیں۔ کپاس تو گویا ہماری معیشت کی جان تھی۔ جب ہم چوبیس پچیس ارب ڈالر زرمبادلہ کماتے تھے تو اس میں 16ارب کے قریب تو ٹیکسٹائل سے تھا۔ کپاس اور اس کی مصنوعات سے آتا تھا۔ کپاس ‘ سوت‘ دھاگہ‘ کپڑا ‘ سلے ہوئے ملبوسات ہم دنیا میں اس میدان میں سرفہرست تھے۔ زرعی شعبے میں سے چمڑا ‘ پھل‘ سبزیاں ہم خود کفیل تھے۔ چائے‘ تیل جو باہر سے منگوانا پڑتا‘ اس پر ہم چڑتے تھے ۔ایسا کیوں ہے ہم خود سے شکایت کرتے تھے ہم خوردنی تیل ‘چائے ‘دودھ وغیرہ میں خود کفیل کیوں نہیں ہیں۔ منصوبہ بندی کرتے تھے‘ ہم نے زرعی شعبے میں مزید ترقی کرنا ہے اس بار ہم اشتہار دے رہے تھے کہ گندم ضرورت کے لئے اور سورج مکھی منافع کے لئے۔ جانے کس کی نظر لگ گئی۔ اس بار گندم کی فصل خراب ہوئی چاول اور کپاس کی فصل کو بھی نظر لگ گئی حالانکہ دنیا میں ان اشیاء کی مانگ بڑھ گئی تھی بھارت میں تو چاول کی فصل میں آرسینک نامی زہر کی موجودگی پائی گئی تھی۔

اس پر یورپ میں تین سال کے لئے بھارتی چاول پر پابندی لگ گئی تھی۔ پھر بھی ہمارا گزارہ زراعت پر ہوتا تھا۔ میں نے عرض کیا ہم بادشاہ تھے تو اپنی زراعت کی وجہ سے‘ وگرنہ ایٹم ہم نے تو نہیں ’’سپر پاور‘‘ نہیںبنایا تھا۔ ہماری زراعت ہمارا پیٹ بھی بھرتی اور کما کر اتنا کچھ دے دیتی کہ ہم اللے تللے پورا کر لیتے۔ یہ گویا ہماری معیشت کی جان تھی۔ ایک دو بار تو ایسی صورت حال بھی پیدا ہوئی کہ ہمارے پیٹ بھرے نہ ہوتے تو شاید لوگ ایک دوسرے کو کھا جاتے۔ ہم آہستہ آہستہ اپنی فصلیں تباہ کرتے جا رہے ہیں۔ کپاس کے علاقے کو تو ہم نے شوگر مافیا کو بخش دیا ہے۔ کپاس کے نئے بیج کی باتیں عرصے سے سنتے آئے ہیں۔ ظفر الطاف نے ایک بار انٹرویو میں مجھے بتایا کہ چین سے منگوا کر نیا بیج پاکستان کے لئے تیار کر لیا گیا ہے۔ اب ہماری پیداوار تین سال میں اتنے گنا ہو جائے گی۔ ہم کہیں سورج مکھی لگا رہے تھے‘ کہیں زیتون‘ کہیں چائے کے تجربے بھی کر رہے تھے۔ اوپر اوپر سے تو یہ تھا‘ اندر سے معلوم ہوا کہ ادرک‘ پیاز‘ لہسن‘ ٹماٹر بھی باہر سے آ رہے ہیں۔ ایک دو سال سے سن رہے تھے کہ چین سے سی پیک کے تحت معاہدے بھی ہو رہے ہیں۔ گوشت‘ پولٹری میں بھی تیر مارنے کے ارادے تھے۔ ہم ذرا لالچی بھی واقع ہوئے ہیں کبھی کبھی سوچتے تھے‘ زراعت سے کیا لینا دینا۔ اصل کمائی تو مینو فیکچرنگ میں ہے یا سروسز میں۔

مینو فیکچرنگ کا یہ حال تھا کہ ترقی معکوس کر رہے تھے۔ سروسز کی فیلڈمیں اُٹھ نہیںپا رہے تھے۔ بس لے دے کر ایک زراعت تھی جس سے ٹیکس بھی نہ لیتے تھے کہ ملک کو اس کی ضرورت ہے۔ اب جو گندم کا بحران پیدا ہوا تو لڑنے لگے ہیں۔ خیبر پختونخواہ والے کہہ رہے ہیں‘ پنجاب سے 5دن سے گندم ے آنے پر پابندی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ مشرف کے زمانے میں پرویز الٰہی نے گندم خیبر پختونخواہ لے جانے پر پابندی لگا دی تھی۔ شاید مطلب یہ تھا کہ آٹا لے جائو۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ یہاں سے گندم لے جا کر خیبر پختونخواہ کی فلور ملیں دھڑا دھڑا آٹا پیس کر افغانستان بھیجتی ہیں ہم افغانستان کی ضرورت تو ایسے بھی پوری کرتے ہیں مگر یہ پنجاب کے فلور ملز مالکان کی شکایت تھی کہ گندم پسائی کا فائدہ ہم کیوں نہ اٹھائیں یا سچ مچ سمگلنگ کا معاملہ تھا۔ سندھ کا معاملہ پرانا ہے۔ حکومت گندم خریداری پر کم خرچ کرتی ہے۔ ایک بار یوکرین سے گندم منگوا لی۔ اس بار شور مچایا‘ ہمیں گندم نہیں دی جا رہی۔ پیپلز پارٹی کی حکومت گندم ‘ پانی‘ گیس ایسے ہر مسئلے پر شور مچانے میں یدطولیٰ رکھتی ہے۔ اس بار ایسا ہوا تو جہانگیر ترین نے کہا ہم نے چار لاکھ گندم ابھی تو دی ہے‘ سندھ نے صرف ایک لاکھ خرچ کی باقی اٹھا ہی نہیں رہا۔ اسے اٹھائے اور پسوائے۔ اس قسم کی بحثیں صوبوں میں بہت ہو رہی ہیں۔ آٹھویں ترمیم میں اختیارات کی تقسیم خاک کرنا تھی‘ صوبہ پرستی کو فروغ دیا ہے۔ صوبے وفاق سے لڑتے ہیں‘ مگر آگے اخبارات پاس آن نہیں کرتے۔ کراچی کی لڑائی کیا ہے۔

بلدیاتی نظام کیوں نہیں بن پایا۔ ہم نے تو ملک کا ستیاناس کر دیا ہے۔ اب پنجاب کہہ رہا ہے ہمارے پاس تو وافر گندم ہے۔ اتنی بھی نہیں۔ پنجاب ذخیرہ رکھتا تھا۔ اس بار گندم بتایا جا رہا ہے 2ماہ کے لئے موجود ہے۔ دو ماہ کے بعد نئی فصل تو نہیں آئے گی یا آنے والی ہو گی۔ ہم بتا رہے ہیں کہ ہم تین لاکھ ٹن گندم درآمد کریں گے۔ جو ملک گندم میں خودکفیل ہو گیا تھا۔ اسے گندم منگوانا پڑے گی۔ پھر اس سال بھی شاید گندم ٹارگٹ سے کم ہو گی۔ اگلے سال کیا بنے گا۔ ہمارے پاس ایک یہی زراعت تھی۔ اسے ہم ایسے لگتا ہے منصوبہ بندی سے تباہ کر رہے ہیں۔ پانی کے ذخائر بنانے پر جھگڑا کھڑا کر رہے ہیں۔ ریسرچ کے میدان میں بہت کچھ کیا کرتے تھے‘ اب کچھ بھی نہیں ہے ہم نے آگے کیسے جانا ہے کچھ معلوم نہیں۔ ڈرو اس وقت سے جب ہمیں پیٹ بھرنے کے لئے اناج باہر سے منگوانا پڑے گا۔ ٹیکسٹائل کی صنعت کو خاصا تباہ کر دیا ہے‘ مزید کر رہے ہیں۔ چاول‘ چمڑہ ‘ پھل‘ سبزیاں ‘ مرغی‘ گوشت ‘ دودھ ہمارا مضبوط قلعہ ہو سکتے تھے۔ ہم سب مسخر کروائے جا رہے ہیں۔ یاد رکھیے یہ بہت بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہو گا۔ کم از کم پیٹ باتوں سے نہیں بھرتے۔ بس کرو‘ بس‘ بہت ہو گئی۔ اب عقل کے ناخن لو۔