بيوی - توقیر ریاض

بيوی کے بارے ميں لکھنا آسان کام ھے اگر يہ خدشہ نہ ھو کے تحریر بيگم کے ھاتھ بھی لگ سکتی ھے ۔ بیوی کی بارے ميں درست تجربات اور مشاہدات ايک غیر جانبدار آدمی لکھ سکتا ھے ليکن مجبوری ھے کے ان تجربات اور مشاہدات کے بعد آدمی نہ غير جانبدار رہتا ھے اور نہ ہی آدمی وہ خير سے شوہر ھو جاتا ھے ۔

بيوی ھونا ايک اعزاز سمجھا جاتا ھے اور ہر ايک کی خواہش ھوتی ھے کے اُسکی بھی اپنی زاتی ايک ادھ بیوی ھو لیکن شادی کے بعد انسان کو شادی شُدہ کہا جاتا ھے جيسے ختم شُدہ ، گُم شُدہ تباہ شُدہ وغيرہ وغیرہسائنس ميں بيگم يا بيوی پر ھونے والی تحقيق مبہم ليکن شادی شُدہ کے لئے سمجھنا زيادہ مشکل نہيں جیسے نيوٹن کے مطابق “ہر عمل کا ايک ردِعمل ھوتا ھے اور ہميشہ مخالف سمت ميں ھوتا ھے “ائين سٹائن کے مطابق گھر ميں طاقت کا سرچشمہ برابر ھوتا ھے مادے اور نور کے یعنی طاقت ور جگہ گھيرنے والا مادہ اور نور نظر بيوی ۔

ڈارون کی تھيوری آف اويلوشن بھی شائد شوہر کو گھر اندر ديکھ کر لکھی گئ تھی کے انسان پہلے جانور تھا پھر انسان بنا شاہد وہ لکھنا بھول گيا کے شادی شدہ صرف گھر کے باہر تک انسان بن پايا ۔بيوی کے بارے ميں مذہبی نقطہ نظر بھی بڑا دلچسپ ھے مثلاً ہندہ مذہب کے مطابق اگر اپ اس جنم ميں اچھے کام کريں گے تو اگلے جنم ميں اچھی شريک حيات ملے گی ، اسلام کے مطابق اگر نيک زندگی گزاريں گے تو آگے حوروں کا ساتھ ميسر اۓ گا، اسی طرح عيسائ اور يہودی مذاہب بھی کم و بيش تمام مذاہب کا اس بات پر اتفاق ھے کے اچھی بيوی پانے کے لئے کم از کم ايک بار مرنا ضرور پڑے گا ،اور اس جہاں ميں تو ملنا ناممکن غالب کے اس شعر کو اپ نے بہت سے تناظر ميں پڑھا سُنا ھو گا ، ليکن اپ ايک بار شادی شدہ تناظر ميں پڑھيں آپکو سليس اور تشريح دونوں سمجھ لگ جائيں گی۔

یہ بھی پڑھیں:   شادی ۔ رفاقت حیات

کہوں کس سے میں کہ کیا ہے؟شب غم بری بلا ہے

مجھے کیا برا تھا مرنا، اگر ایک بار ہوتا

ہماری شادی کو کچھ اٹھارہ سال ھونے کو آئے ، اللہ کا شکر ھے يہ سال ہنسی خوشی گزرے (بيگم کے) ويسے بھی ہنسی اور خوشی دونوں مونث ہيں ان سے ہم مذکر لوگوں کا کيا کام ، بيوی کے گھر آنے کے بعد سے گھر ميں اس بات پے شائد ہی کبھی دو آرا رہی ھوں کے غلطی کس کی تھی ، پہلے پہل ميں نے کچھ احتجاج کیا پھر رفتہ رفتہ عادت بن گی ، اس کے بعد سے ہم نے کام بانٹ لئے غصہ کرنے اور ناراض ھونے کا کام بيگم نے سنبھال ليا اور غلطی تسلېم کر کے راضی کرنے کا زمہ ميرا۔

ہمارے ايک عزيز دوست ہم سب کو ايک عرصے تک رن مريد کہتے رہے انکی شادی کوئ دو سال پہلے ھوئ مجال ھے ايک دفعہ يہ لفظ انکے منہ سے سُنا ھو ، شادی شُدہ حضرات ايک دوسرے کو اکثر بيگم کے زير سایا يا جورو کا غلام ھونے کا طعنہ ديتے رہتے ہيں دراصل اُسوقت وہ اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر رہے ھوتے ہيں ۔

نوٹ: کچھ دن پہلے خاتون اوّل (ميری زاتی ) کا جنم دن تھا تو شکوہ کيا کے ميں ہر موضوع پر لکھتا ھو انکے بارے ميں نہيں لکھا کبھی ۔ يہ تحرير بيگم کے نام ۔