ايران سے ہی کچھ سيکھ ليں - توقیر ریاض

ہم نے نہ تاريخ سے سبق ليا نہ حال سے کچھ سيکھا ، ہميشہ تاريخ اور وقت کی اُلٹی دھارا لی ، سرد جنگ ميں امريکہ کے ساتھ کھڑے ھو کر خواہ مخواہ سويت دشمنی مول لی ، پھر ۹/۱۱ کے بعد ايک ايسی جنگ ميں کود پڑھے جو پھر نہ اُگلے آئ نہ نگلے ، بحثيت قوم بھی ہمارے معيار مختلف ہيں ۔

مثلاً غلطی کرنے والا اسوقت تک غلط نہيں جب تک اسکے ، شجرہ نسب ، شعيہ سُنی ، قوميت ، سياسی وابستگی وغيرہ کی چھان پٹھک نہ ھو جاۓ ۔ايران امريکہ کے مقابلے ميں چھوٹا اور کمزور ملک ھے ، ايران پر پہلی بار ۱۹۷۹ ميں اقتصادی پابندياں لگی اور آج تک سخت سے سخت ہوتی رہی ليکن مجال ھے ايک بار بھی امريکہ جھکا پائيا ھو ، امرېکہ کے ساتھ ساتھ سعودی مداخلت کی وجہ سے سُنی مخالفت کا سامنا بھی رہا ، ليکن ايران ڈٹا رہا اور آج بھی دٹ کے کھڑا ھے ۔

ايران کی معيشت کمزور ھے ، پابنديوں کی وجہ سے طلبہ بيرون مِلک نہيں جا سکتے ، منہگائ ھے ، يہاں تک کے بہت سے ميڈيکل کے آلات اور ادويات درآمد کرنے تک پر پابندی ھے ۔ليکن مجال ھے ان لوگوں کی غیرت اور حميت ميں کمی آئ ھو ۔کل قدس فورس کے کمانڈر سليمانی کی شہادت کے بعد لوگوں کا جم غفير ديکھ کر عجيب سا تفاخر محسوس ھوا کے قوم اسکو کہتے ہيں ، جب پوری قوم اېک آواز ھو کر انتقام انتقام کہہ رہی ھو تو ملکی سربراہ کو فيصلہ کرنا بھی آسان ھوتا ھے ، ليکن جب قوم ٹماٹر ، پياز اور حريم کھيل رہی ھو تو ملکی سربراہ کتنی غيرت کھاۓ گا ۔

عمران خان نے ملائشيا کی کانفرنس ميں نہ جا کر بڑی غلطی کی ليکن کيا ہم قوم ھونے کے ناطے اُس کے ھونے والے اثرات کے لئے تيار تھے بلکل نہيں , اگر عمران خان چلا جاتا اور آج ملکی معاشی صورت حال مزيد دگرگوں ھو جاتی تو کسے ياد رہنا تھا کے ايسا کس وجہ سے ھوا ۔

یہ بھی پڑھیں:   عافیہ صدیقی کی واپسی کے لئے صرف ایک سوال - قادر خان یوسف زئی

جب مصری معيشت کمزور ھوئ تو لاکھوں لوگ تحرير سکوئر پر نکل آئے کيوں کے وہ بھی ہماری طرح قربانی کے جذبے سے عاری تھے ، وہيں جب ترکی پر مشکلات آئ تو لوگ اُردوان کے ساتھ کھڑے ھوۓ آج ديکھ ليں ترکی اور مصر ميں فرق ، قوم کا رہنما اتنی ہی غیرت افورڈ کر سکتا ھے جتنا قوم قربانی ، ٹماٹر پياز کے قيمت پر ٹائيں ٹائيں کرنے والے ٹوٹر پر ٹرينڈ چلا سکتے ہيں بس ۔

قوم مُٹھی ھونے ، ايکتا ، ايثار اور قربانی کا نام ھے وطن اور پہچان غيرت کانام ھے قوم وہی جو ايک ھوئ ورنہ کہيں آئے کہيں گے ، ايران جنگ کرے نہ کرے جيتے يا ہارے وہ اسوقت مسلم ممالک ميں غيرت کی جنگ بہرحال جيت چکا ۔