جذبوں کی روانی - ام محمد سلمان

تہمینہ آج بڑے جوش میں اسکول سے واپس آئی تھی ۔ آتے ہی سلام کیا، بستہ رکھا، کپڑے تبدیل کیے اور غسل خانے میں خوب دل جمعی سے وضو کرنے لگی۔ باہر نکل کے کہنیاں اور پاؤں بھی اماں کو دکھائے کہ کوئی جگہ خشک تو نہیں رہ گئی کیوں کہ اسکول میں ٹیچر نے بتایا تھا کہ اگر ذرا سی جگہ بھی خشک رہی تو وضو نہ ہو گا اور نماز بھی قبول نہیں ہو گی ۔

تہمینہ دوسری جماعت میں پڑھتی تھی اور کئی دن سے پوری کلاس اسلامیات کی کتاب میں نماز یاد کررہی تھی ۔ آج ان کی مِس نے انھیں آخری دعا یاد کروائی... رب اجعلنی مقیم الصلوۃ... (الخ) اور سلام پھیرنے کا طریقہ بتایا.. لو بھئی نماز مکمل ہو گئی ۔

تہمینہ نے جائے نماز بچھاتے بچھاتے بڑے جوش میں ثنا سے لے کر سلام تک پوری نماز بھی اماں کو سنا دی۔ اماں بھی بہت خوش کہ بٹیا رانی بغیر کہے ہی نماز کے لیے تیار ہو گئی ہیں ۔لو بھئی تہمینہ کی نماز شروع ہوئی.. نہایت خشوع و خضوع سے اللہ اکبر کہا... قیام، رکوع، سجدے اور پھر تشھد میں التحیات، درود شریف اور دعا پڑھ کے ایک رکعت پہ ہی سلام پھیر دیا اور بڑے ہی فاتحانہ انداز میں اماں کی طرف ایسے دیکھا، جیسے سومنات کا مندر انہی محترمہ نے توڑا ہو۔

اماں حیران.ارے بٹیا! تم نے ایک رکعت پہ ہی سلام پھیر دیا، پوری نماز تو پڑھتیں.۔ "اماں جان! پوری نماز تو پڑھی ہے! ہمیں تو اتنی ہی سکھائی ہے ٹیچر نے ۔ ارے بٹیا تم نے ایک ہی رکعت پڑھی ہے کم از کم دو رکعت تو پڑھو۔ یہ رکعت کیا ہوتی ہے اماں؟ تہمینہ نے بھول پن سے پوچھا۔ پھر اس کے بعد اماں نے دو، تین اور چار رکعتیں پڑھنے کا طریقہ خوب سمجھایا مگر وہ تہمینہ ہی کیا جنھیں رکعتوں کا فلسفہ سمجھ آ جائے اور کوئی بات سیدھے طریقے سے ان کے دماغ میں بیٹھ جائے ۔ بڑے تیقن سے بولیں : "نہیں اماں!! ہم نے کتاب میں اتنی ہی نماز سیکھی ہے اور ایسے ہی پڑھتے ہیں بس ایک دفعہ!اچھا یہ بتائیں اماں! مغرب کی نماز میں کتنی بار سلام پھیرتے ہیں؟ تھوڑی دیر بعد تہمینہ پھر مصلیٰ اٹھائے اماں کے سر پہ کھڑی تھی ۔ معصوم بچی کو رکعتوں اور فرائض و سنتوں کی سمجھ نہیں آرہی تھی ۔

بس تین فرض پڑھنے ہیں تو بھی ایک رکعت پہ سلام پھیر دیا اور دو سنت پڑھنی ہیں تو بھی ایک رکعت پہ سلام پھیر دیا ۔ بس نیت میں فرق رکھا کہ تین فرض، پڑھ رہی ہیں یا چار، دو سنت ہیں یا چار... لیکن پڑھنی ایک ہی رکعت ہے۔اماں نے تو ہار مانی اور بٹیا کو ان کے حال پہ چھوڑا... ابھی چھوٹی ہے، آہستہ آہستہ سیکھ جائے گی انھوں نے اپنے دل کو تسلی دی۔تہمینہ نے اس دن ساری نمازیں بس ایک ایک رکعت ہی پڑھیں.. اگلے دن جب اسکول میں اپنا کارنامہ سنایا تو سمجھ دار سکھیوں نے سمجھایا کہ ایسے نہیں، نماز ایسے پڑھتے ہیں۔

"اچھا!!!! تو اماں ٹھیک ہی کہہ رہی تھیں مگر کتاب میں یہ سب کیوں نہیں لکھا؟تہمینہ کی سوئی وہیں اٹکی تھی ۔تب سکھیوں نے سمجھایا کہ کتاب میں تو صرف یہ لکھا ہے کہ نماز میں کیا کیا پڑھا جاتا ہے، پوری نماز کیسے پڑھتے ہیں وہ اگلے سبق میں آئے گا ۔اور جب ہم قیام سے لے کر سجدوں تک نماز پڑھ لیتے ہیں تو اسے ایک رکعت کہتے ہیں ۔ آئی سمجھ؟تہمینہ کی سمجھ دار اور عمر میں بڑی ایک سہیلی نے سمجھایا ۔ہممم!! اب تو سمجھ آ گئی ۔پھر گھر آ کر اماں سے تصدیق کی.. انھوں نے بھی وہی بات دوبارہ سمجھائی ۔شکر الحمد للہ کہ تہمینہ کو نماز کا طریقہ سمجھ آیا ۔

اگلے دن مغرب کی اذان ہوئی تو اماں نے چھوٹے دودھ پیتے بھیا کو تہمینہ کی گود میں پکڑایا کہ اسے سنبھالو میں ذرا نماز پڑھ لوں ۔لیکن اماں مجھے بھی تو پڑھنی ہے ۔ تہمینہ کو اپنی نماز خطرے میں نظر آئی۔ارے میں پڑھ لوں تو پھر تم بھی پڑھ لینا.. لو اسے سنبھالو شاباش!اماں نے یہ کہا اور چھت پہ جا کے نماز پڑھنے لگیں ۔اسے بھی اپنی نماز کی فکر۔ہائے اللہ میری نماز قضا ہو گئی تو.... فرشتے تو بہت برا مارتے ہیں۔ یہ بڑے بڑے لوہے کے ڈنڈے ہوتے ہیں ان کے پاس قبر میں جاتے ہی پٹائی شروع.۔ اور ابا میاں بتا رہے تھے وہاں کوئی بچانے بھی نہیں آتا ۔ خوف کی ایک جھرجھری ننھی منی تہمینہ کے پورے بدن میں دوڑ گئی ۔

کل جب اسے اتنے شوق سے نماز ادا کرتے دیکھا تو ابا میاں نے ایک حدیث سنائی تھی کہ پیاری بٹیا!حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللّٰه صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا :
"پانچ نمازیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض قرار دیا ہے۔ جس نے ان نمازوں کو بہترین وضو کے ساتھ ان کے مقررہ اوقات پر ادا کیا اور ان نمازوں کو رکوع، سجود اور کامل خشوع سے ادا کیا تو ایسے شخص سے اﷲ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اس کی مغفرت فرما دے گا اور جس نے ایسا نہیں کیا (یعنی نماز ہی نہ پڑھی یا نماز کو اچھی طرح نہ پڑھا) تو ایسے شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کا کوئی وعدہ نہیں ہے اگر چاہے تو اس کی مغفرت فرما دے اور چاہے تو اس کو عذاب دے۔‘‘ (ابو داؤد، السنن)

اور یہ حدیث اس نے زبانی یاد کر لی تھی.. جہاں مغفرت کے وعدے پر تصور میں جنت کے ہرے بھرے باغ اور محلات لہرانے لگتے، وہیں عذاب کے نام پہ ہاتھوں میں گرز تھامے خوفناک فرشتوں کا تصور اسے لرزا گیا ۔ نہیں نہیں! میں نماز قضا نہیں ہونے دوں گی، میں ضرور نماز پڑھوں گی ۔ اس نے مصمم ارادہ کیا اور کچھ سوچنے لگی.۔گھر میں کچھ تعمیراتی کام ہو رہا تھا جس کی وجہ سے ریت بجری پورے گھر میں پھیلی ہوئی تھی ۔ تہمینہ ادھر ادھر نظریں دوڑانے لگی کہ چھوٹو کو کہاں بٹھائے تاکہ خود نماز پڑھ سکے، نیچے زمین پر تو چھوڑ نہیں سکتی، بھائی مٹی میں خراب ہو جائے گا۔

گل گوتھنا سا منا جو ابھی ٹھیک سے بیٹھ بھی نہیں سکتا تھا.. اسے جائے نماز کے قریب ہی ایک لکڑی کے اسٹول پہ بٹھا دیا، تھوڑی دیر تو وہیں رک کے تسلی کی کہ گر تو نہیں رہا مگر وہ آرام سے بیٹھا رہا.. گل گوتھنا بھی تو اس نئے تجربے پر خوش ہو رہا تھا... گود سے اسٹول پہ ترقی ہو گئی تھی ۔ادھر سے مطمئن ہو کے تہمینہ نے تین فرضوں کی نیت باندھ لی۔ نظریں سجدے کی جگہ سے اسٹول تک کا بار بار طواف کرتی رہیں ۔ آخر جب دوسری رکعت کے سجدے میں پہنچی تو دھڑام سے کسی چیز کے گرنے کی آواز آئی... لو بھئی منے میاں اسٹول سے نیچے گرے دھاڑیں مار مار کے رو رہے تھے، مگر وہ تہمینہ ہی کیا جو نماز توڑ کے بھائی کو سنبھال لے... تو بے چاری کو ابھی خبر ہی کیا تھی کہ نماز توڑی بھی جا سکتی ہے ۔

اتنے میں اماں چھت سے دوڑی چلی آئیں.... ہائے میرا بچہ! ہائے میرا بچہ!آتے ہی منے کو گود میں اٹھایا اور ایک زور دار دھموکا تیسری رکعت میں کھڑی تہمینہ کی کمر پہ جڑ دیا ۔جب سلام پھیر کے فارغ ہوئی تو اماں نے خوب جھاڑا... بے وقوف لڑکی! آج ہی حجن بننا تھا، ساری نمازیں آج ہی پڑھنی تھیں. تھوڑا انتظار نہیں کر سکتی تھی؟ میرے پڑھنے کے بعد نماز پڑھ لیتی۔مگر نماز قضا ہو جانے کا خوف جو سر پہ سوار تھا اوپر سے خوفناک لال انگارہ آنکھوں والے فرشتوں کی ہیبت...!!! تہمینہ اماں کی ڈانٹ پر افسردہ ہو گئی ۔

اماں تو اپنے لال کو سنبھالنے لگیں اور اس نے پھر سے نماز کی نیت باندھی اور دو سنتیں پڑھنے لگی۔چھوٹی سی تہمینہ کے دل میں نماز کی بڑی محبت تھی اور جب کبھی یہ محبت کمزور پڑنے لگتی، فرشتوں کا خوف سامنے آ جاتا... معصومہ کو مار سے ڈر بھی تو بہت لگتا تھا ۔تہمینہ نے اکثر نماز کے بعد اماں کو انگلیوں پہ کچھ پڑھتے دیکھا تھا کبھی کبھی تو وہ بھی کھیل کھیل میں انگلیوں پر جھوٹ موٹ کچھ پڑھا کرتی تھی... مگر اب تو نمازن ہو گئی تھی تو فکر ہوئی کہ یہ انگلیوں والی عبادت ہمیں بھی کرنی چاہیے ۔

اب پھر اماں سے جا کر دریافت کیا کہ وہ انگلیوں پر کیا پڑھا کرتی ہیں؟اماں نے جو بٹیا کا ذوق و شوق دیکھا تو بڑی تفصیل سے سمجھایا اور کہنے لگیں۔آؤ تمہیں دورِ نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک شاندار واقعہ سناؤں۔ تہمینہ ہمہ تن گوش ہو گئی ۔اماں نے کتاب اٹھائی اور پڑھنے لگیں ۔"ایک مرتبہ فقراء مہاجرین رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : مالدار، بلند درجے اور ہمیشہ رہنے والی نعمتیں لے گئے - آپ علیہ السلام نے پوچھا: وہ کیسے؟ انھوں نے عرض کیا :جیسے ہم نماز پڑھتے ہیں وہ بھی پڑھتے ہیں، جیسے ہم روزہ رکھتے ہیں وہ بھی رکھتے ہیں (لیکن) وہ صدقہ دیتے ہیں ہم نہیں دے سکتے اور وہ غلام آزاد کرتے ہیں، ہم نہیں کر سکتے ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ سکھا دوں کہ جس کی وجہ سے تم اپنے سے آگے بڑھنے والوں کے درجوں کو حاصل کر لو اور اپنے سے کم درجے والوں سے آگے بڑھے رہو اور کوئی تم سے افضل نہیں ہو سکتا جب تک کہ یہ عمل نہ کر لے - انھوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ضرور بتا دیجیے ۔آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : ہر نماز کے بعد سبحان اللہ، الحمد للہ، اللہ اکبر 33 ، 33 بار پڑھ لیا کرو. (چنانچہ انھوں نے وہ عمل شروع کردیا لیکن مالداروں کو پتا چلا تو وہ بھی اس پر عمل کرنے لگے) فقراء مہاجرین دوبارہ حاضرِ خدمت ہوئے اور عرض کیا کہ ہمارے مالدار بھائیوں نے بھی یہ سن لیا اور وہ بھی یہی کرنے لگے - تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو اللہ کا فضل ہے جسے چاہیں عطا فرما دیتے ہیں (مسلم) "

اماں نے حدیث سنائی اور ہمہ تن گوش بیٹھی تہمینہ سے پوچھا سمجھ آئی بٹیا؟جی اماں بالکل سمجھ آئی اور اس نے بھی ہر نماز کے بعد انگلیوں پر سبحان اللہ، الحمدللہ اور اللہ اکبر پڑھنا شروع کر دیا۔اور دل ہی دل میں اپنے رب پہ نثار اور بے حد خوش کہ اتنے سے عمل پہ اتنے بڑے بڑے ثواب کے وعدے .۔ اللہ اکبر"اللہ تعالیٰ کتنے اچھے ہیں ناں اماں..!!" بڑے مان سے اماں سے تائید چاہی۔ہاں بیٹی!! اللہ تعالیٰ بہت اچھے ہیں بہت پیارے! اپنے بندوں سے بہت محبت کرتے ہیں ۔ تب ہی تو بہانے بہانے سے انھیں نوازتے ہیں ۔اماں میں نماز کے علاوہ بھی انگلیوں پہ پڑھ لیا کروں؟

ہاں بٹیا ضرور پڑھا کرو۔یہ تو جنت کے پودے ہیں تم جتنا پڑھو گی اتنے ہی تمہارے نام کے درخت جنت میں لگتے چلے جائیں گے اور تمہاری جنت خوب ہری بھری شان دار اور پھل دار ہو گی۔ جنت میں جا کے وہاں کے میوے کھاؤ گی اور اللہ تعالیٰ کہیں گے یہ تو میری بندی تہمینہ کے ہاتھوں کی کمائی ہے۔ اماں نے محبت سے کہا اور تہمینہ نے خوش ہو کے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو دیکھا اور پھر سے بڑی محبت اور جذب سے ورد کرنے لگی۔

سبحان اللہ

الحمدللہ

اللہ اکبر۔