پھر میں نے ڈرائیونگ سیکھ لی - ماریہ تحسین

مجھے ہمیشہ سے عملی کام سیکھنے کا شوق رہا ہے۔ایسے ہی کچھ عرصہ قبل مجھے ڈرائیونگ سیکھنے کا شوق ہوا۔ شوق تو پال لیا لیکن اب سکھائے گا کون؟ یہ سوال درپیش تھا۔ ڈرائیونگ اسکول کے لیے وقت نہیں تھا یا یہ خیال بھی تھا کہ وہاں وقت کا ضیاع ہوتا ہے۔ پھر سوچا بھائی سے کہتی ہوں سکھا دیں۔ اب بھائی سے بات کی تو وہی مصروفیت کے بہانے، خیر منتوں سماجتوں کے بعد بھائی کو منا لیا۔ انہوں نے روزانہ پندرہ منٹ کا وقت دینے کی حامی بھر لی۔

کچھ روز پہلے ہی خالہ زاد بھائی نے ڈرائیونگ سیکھی تھی اور انہوں نے تو دو دن میں سیکھ لی تھی۔ میں نے یہ سوچتے ہوئے ذہن بنا لیا کہ بہت وقت لگا تو ایک ہفتہ، اس کے بعد میں ماہر ڈرائیور ہوں گی۔ سیکھنے کا عمل شروع ہوا تو کپکپاہٹ شروع ہوگئی۔ میرا حال یہ تھا کہ کبھی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی تک نہ تھی۔

بہرحال پہلے دن بھائی نے بتایا کہ سب سے پہلے ڈرائیونگ سیٹ پر آنے کے بعد کار کے مررز چیک کرنے ہیں۔ ڈرائیونگ سیٹ کے دائیں طرف باہر لگے مرر سے پیچھے سے آتی ہوئی ٹریفک دیکھتے ہیں جو اوور ٹیک کر رہی ہوتی ہے یا اوور ٹیک کرنے کے قریب ہوتی ہے۔ ڈرائیونگ سیٹ کے بائیں جانب گاڑی کی باہر کی طرف ایک مرر موجود ہوتا ہے اس سے گاڑی کے بائیں طرف سے پچھلی جانب سے آنے والی ٹریفک نظر آتی ہے۔ جبکہ بیک ویو مرر سے گاڑی کے پیچھے آنے والی ٹریفک ذرا فاصلے سے نظرآجاتی ہے۔

اس سے پہلے میں نے یہی سمجھ رکھا تھا کہ بیک ویو مررکا استعمال ڈرائیور ہیرو گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھی ہیروئن کو دیکھنے کے لیے کرتا ہے۔ یہ بات پاکستانی ڈراموں سے میں نے سیکھی تھی۔خیر ڈرامے تو ڈرامے ہوتے ہیں ان کا عام زندگی سے کیا تعلق؟ بھائی اب باقاعدہ مجھے سکھانے لگے۔ اگلی بات انہوں نے مجھے یہ بتائی کہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھیں تو دائیں پاؤں کی سمت ایکسیلیٹر، اس کے ساتھ بریک اور پھربائیں پاؤں کے سائڈ کلچ ہوتا ہے۔ایکسیلیٹر اور بریک کے لیے دایاں پاؤں استعمال کرنا ہے اور کلچ کے لیے بایاں پاؤں۔ گاڑی کے مرر چیک کرنےکے بعد سب سے پہلے گئیر کو نیوٹرل کرنا ہے، پھر کلچ کو دبا کر چابی گھماتے ہوئے گاڑی کو سٹارٹ کرنا ہے۔سپیڈ بڑھانی ہو تو ایکسیلیٹر پر فورس بڑھانی ہے اور اگر گاڑی کو روکنا ہو تو بریک پر فورس لگانی ہے۔

میں خوش ہوگئی تھی۔ مجھے لگا تھا کہ بس اتنی سی بات ہے، میں تو ابھی گاڑی چلا سکتی ہوں۔ لیکن جیسے ہی میں ڈرائیونگ سیٹ پر آکر بیٹھی تو خوشی کے غبارے سے ہوا نکل گئی۔ بھائی کی طرف سے اگلا سبق تیار تھا کہ سڑک پر سامنے دیکھتے رہنا ہے وہاں سے نظر نہیں ہٹانی ہے۔ اب میں یہ سوچ رہی تھی کہ تین مررز بھی دیکھنے ہیں اور سامنے سڑک بھی اور دو آنکھیں، بھلا اتنا کچھ ایک وقت میں کیسے دیکھا جا سکتا ہے؟

خیر میرے دل میں خیال آیا کہ ابھی کونسا میں سڑک پر ہوں اس لیے مرر کو دیکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ میں گاڑی سٹارٹ کر کے چلاؤں تو سہی۔ جیسے ہی میں نے گاڑی کو سٹارٹ کیا تو گاڑی ایک دم جھٹکے سے سٹارٹ ہوتی کہ انجن بند ہوگیا۔ ابھی بھائی یہ کہنے ہی والے تھے کہ یہ کیا کِیا؟ ۔ میں سہمے سے انداز سے ڈرتے ہوئے بھائی کی طرف دیکھا اور کہا کہ بھائی! یہ گاڑی بند کیوں ہوگئی ہے اس میں پٹرول ہے بھلا۔

بھائیوں کو تو ویسے ہی تپنے کا موقع درکار ہوتا ہے سو غصے میں بولے: میں نے بتایا تھا کہ سب سے پہلے گئیر کو نیوٹرل کرنا ہے۔ گاڑی گئیر میں کی تھی تا کہ پتا چل سکے کہ ڈرائیونگ سیٹ پر آکر جاگ رہی ہو یا سو رہی ہو۔ گاڑی سٹارٹ کرنے سے پہلے تمھارا دھیان گاڑی کو نیوٹرل کرنے کی طرف جاتا ہے یا نہیں۔

خیر ڈرائیونگ سیٹ پر آئیں تو پھر آہستہ آہستہ ڈرائیونگ آہی جاتی ہے۔ جنوری میں پڑنے والی ٹھٹھرتی سردی میں گاڑی چلانے کی عملی مشق کے دوران میں پسینے سے شرابور ہوتی رہی، ساتھ ہی بھیا کی ہلکی ڈانٹ ڈپٹ میں کہی گئی بات کہ مجھ سےلکھوا لو، اس لڑکی کو ڈرائیونگ نہیں آسکتی۔ تین مہینے کی بھاگ دوڑ کے بعد میں نے گاڑی چلانی سیکھ لی لیکن اس کے ساتھ ساتھ زندگی کے رموز سیکھنے سے متعلق بھی خیالات جنم لیتے رہے۔ کئی سبق سیکھے اور کئی باتیں ذہن کے دریچے میں ابھریں جیسا کہ :-

1- ہمیں ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔ کام شروع کرنے سے پہلے جتنا بھی خوف محسوس ہو، اپنی کم مائیگی کا جتنا بھی احساس ہو، اللہ ربی پہ بھروسہ کر کے شروع کر دیا جائے تو مکمل ہو ہی جاتا ہے۔

2- جس طرح سے ڈرائیونگ کرتے ہوئے ایک لمحے کے لیے بھی سامنے سے آتی ہوئی سڑک سے نظریں نہیں ہٹا سکتے بالکل اسی طرح اپنی زندگی کے لیے طے شدہ مقاصد سے ایک لمحے کے لیے بھی غافل نہیں ہونا چاہیے۔

3- سڑک پر گاڑی چلاتے، آپ کے دائیں بائیں اور جہاں پر ون وے نہ ہو، وہاں ٹریفک مخالف سمت سے بھی آرہی ہوتی ہے۔ بس یہ دھیان رکھنا ہوتا ہے کہ جتنی جگہ میں سے میری گاڑی نکل سکتی ہے، کسی سے ٹکرائے بغیر بس گاڑی ٹریفک میں سے نکالنی ہے۔ بالکل اسی طرح سے زندگی میں بے شمار لوگوں سے پالا پڑتا ہے، کوئی ہمارے برابر جا رہا ہوتا ہے اور کوئی ہماری مخالف سمت سے آرہا ہوتا ہے۔ ہمیں اپنے برابر والے لوگوں کے ساتھ بھی مقابلہ بازی نہیں کرنی، نہ ہی مخالف سمت سے آنے والے سے ٹکرانا ہے۔ اگر کسی سے بھی ٹکرائیں گے تو نقصان تو بہر حال ہو گا ہی۔ بس اتنا کرنا ہے کہ گاڑی بہ حفاظت منزل مقصود پر پہنچانے کی طرح بس بچ بچا کر درمیانی راہ نکال کر الجھے بغیر اپنی زندگی گزارنی ہے۔

3- ٹریفک میں اصول ہوتا ہے کہ دو گاڑیاں اگر ایک ہی سمت میں ایک ہی رفتار سےجا رہی ہیں اورایک گاڑی آگے ہے اور دوسری پیچھے ہے۔ ھب اگلی گاڑی اچانک سے رفتار کم کرتی ہے تو پچھلی گاڑی سے ٹکرانے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اس صورت میں پچھلی گاڑی کے ڈرائیور کی غلطی ہو گی کیوں کہ اسے تو صورتحال سامنے نظرآرہی ہوتی ہے۔ اسے چاہیے کہ وہ اپنی گاڑی کی رفتار کو اس حساب سے رکھے کہ ٹکراؤ نہ ہو۔ اسی طرح اپنی زندگی میں اگرچہ ہماری غلطی نہ ہو لیکن پھر بھی حالات، و موقع کے تناظر میں ایسے فیصلے کرنے چاہیے کہ نقصان سے بچا جا سکے۔

4- گاڑی چلاتے ہوئے بروقت فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ ایک لمحے کی تاخیر اور ایک لمحہ قبل کیے گئے فیصلے سے نقصان ہو سکتا ہے۔ کہیں تو گاڑی کی رفتار بڑھا کر گزرنا ہوتا ہے اور کہیں گاڑی کی رفتار کم کرنی ہوتی ہے۔ بالکل اسی طرح زندگی میں کہیں تو فوراً سے فیصلہ کرنا ہوتا ہے اور کہیں سست روی سے۔ ہاں سوچ بچار کا ساتھ رکھنا چاہیے۔ بس یہ بات ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ وقت کا ایک ٹانکہ بے وقت کے نو ٹانکوں سے بہتر ہے۔

5- گاڑی چلاتے ہوئے آنکھیں، کان، ہاتھ، پاؤں کی مستعد رکھنا اور حاضر دماغی سے کام کرنا ضروری ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح ہر وقت تمام حسی اعضاء کا اتکاز ایک کامیاب زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے۔ اس کے لیے ہمیں اپنے آس پاس موجود ہر فرد کی بات توجہ اور دھیان سے سننی چاہیے۔ ہر جگہ سے گزرتے ہوئے مناظر پر دھیان رکھا جائے کہ کون سی چیز کہاں پڑی ہے۔ بس اپنے لیے دھیان رکھنا ہوتا ہے۔ اعلانات نہیں کرنے نہ دوسرے لوگوں کے ساتھ بلاوجہ کی گفتگو کا موضوع بنانا ہے۔

مجھے دو تین ماہ میں ڈرائیونگ سیکھنے کے ساتھ ساتھ زندگی گزارنے کے کئی اصول سیکھنے کو ملے۔ اصولوں کو سامنے رکھا تو زندگی کی گاڑی چلانی بھی آسان رہے گی۔ میں نے محسوس کیا کہ فنی مہارتیں سیکھنے کا فائدہ ہوتا ہے کہ انسان کا انحصار دوسروں پر کم ہو جاتا ہے۔ ساتھ ہی نت نئے تجربوں سے سوچوں کے نئے در بھی وا ہوتے ہیں۔ ہم اصولوں پر چلتے اگر زندگی کی گاڑی دوڑائیں گے تو امید واثق ہے کہ خوشیاں نصیب ہوتی رہیں گی۔