کچھ کاروباری ٹپس - بشارت حمید

کاروبارعام طور پر دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک میں آپ کوئی پراڈکٹ خود تیار کرتے ہیں یا مارکیٹ سے خرید کر اسے سیل کرتے ہیں اس میں آپکی اپنی کم یا زیادہ انویسٹمنٹ بھی شامل ہوتی ہے اور کاروبار کسی وجہ سے بند کرنا پڑ جائے تو آپکے پاس سٹاک کی صورت میں کچھ نہ کچھ راس مال موجود ہوتا ہے۔

دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ آپ مارکیٹ میں‌ ہنرمند افراد کی ٹیم کے ساتھ کوئی سروسز مہیا کرتے ہیں وہ کسی بھی قسم کی ہو سکتی ہے ۔ مثال کے طور پر فری لانس یا پھر لوکل مارکیٹ میں آپ خود کوئی ہنر سیکھ کر یا کچھ تجربہ کار لوگوں‌کو ہائر کرکے اپنی سروسز کی مارکیٹنگ کریں‌اور آرڈر لے کر پوری ذمہ داری کے ساتھ انہیں‌مکمل کریں۔

شروع میں‌آپ اپنی پروفائل بنانے کے لئے بہت کم ریٹ پر سروسز دیں‌پھر جب چند کسٹمرز آپ سے کام کروا چکیں‌تو آگے اسی کام کی بنیاد پر اپنے کام کی تشہیر کریں۔ آپ کے کام سے مطمئن کسٹمرز فری میں آپکی تشہیر کرنے کا بہت بڑا ذریعہ ہوتے ہیں۔

کسی بھی کسٹمر کی جانب سے شکایت کا بروقت ازالہ ایک ایسا کام ہے جو لوگوں‌کو آپ کا گرویدہ بنا سکتا ہے۔ ہمارے ہاں‌اکثر کاروباری حضرات کسٹمر کی چھوٹی موٹی شکایت پر مناسب ریسپانس نہیں دیتے اور اسے اگنور کر دیتے ہیں جبکہ ایسا کرنا ایک مطمئن کسٹمر کو ناراض کسٹمر میں تبدیل کر سکتا ہے۔ اور کسی کے بارے اچھی رائے عوام میں پھیلتے تو پھر بھی وقت لگتا ہے لیکن بری رائے بہت تیزی سے پھیل جاتی ہے۔ اگر کوئی آپ سے خریدی ہوئی شے واپس کرنے آیا ہے تو خوش دلی سے واپس لیں۔ بہت سے بڑے کاروباری لوگ بھی بیچی ہوئی شے واپس لینے سے انکاری ہو جاتے ہیں۔ یہ صحیح طریقہ نہیں‌ہے۔

اکثر نوکری پیشہ لوگ یہ پوچھتے ہیں‌کہ کوئی کاروبار کرنا چاہتے ہیں لیکن سمجھ نہیں‌آتا کیا کیا جائے ۔ اس کا بہترین جواب یہ ہے کہ اپنی طبعیت اور ذوق کے مطابق شعبے کا انتخاب کریں اور ممکن ہو تو اس شعبے کے کاروبار میں کچھ عرصہ جاب کرکے چاہے کم تنخواہ پر ہی کیوں‌نہ ہو مطلوبہ تجربہ حاصل کریں۔ پھر نیک نیت کے ساتھ اللہ پر توکل رکھتے ہوئے اپنے کام کا آغاز کریں۔ اگر اپنے شوق کی کاروبار میں ڈھال لیا جائے تو اس سے بہتر کوئی آپشن نہیں ہے۔

کسی بھی بندے کے لئے دوسرے کو کاروبار کی لائن کا مشورہ دینا آسان نہیں کیونکہ ہر بندہ مختلف مزاج کا ہے۔ اس لئے اپنے مزاج کے مطابق ہی لائن کا انتخاب کرنا چاہیئے۔مارکیٹ میں‌تعارف ہوتے شروع میں کچھ وقت لگے گا۔۔ اس کے بعد آپ کے کسٹمرز ہی آپ کی ایڈورٹائزمنٹ کرنے لگ جائیں گے لیکن شرط یہی ہے کہ کسی بھی کسٹمر کو چھوٹا سمجھ کر نظرانداز نہ کریں اور اس کی تسلی اور اطمینان کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ اسے عزت دیں اور اس کو اپنی پراڈکٹ سیل کرتے یا سروسز دیتے وقت کچھ اپنی طرف سے بطور گفٹ مزید کام کرکے دیں۔

اس کا کام کرتے وقت خود کو اس کی جگہ محسوس کر کے کام کریں کہ اگر آپ کو یہ کام کروانا پڑے تو آپ کس معیار کا کروانا پسند کریں‌گے۔اگر کوئی کسٹمر شکایت لے کر آتا ہے تو اس میں یہ مت سوچیں کہ مجھے کتنے پیسوں کا نقصان ہو گا بلکہ اس کسٹمر کے مسئلے کو نیک نیتی کے ساتھ حل کروانے میں جت جائیں ۔ اگر ایک شکایت پر کچھ اپنی جیب سے خرچ ہو بھی جائے تو یہ کمی کسی اور طرف سے پوری ہو جائے گی ۔

لیکن اگر پیسوں کے چکر میں کسٹمر کا اعتماد زائل ہو گیا تو یہ نقصان کبھی پورا نہیں‌ہو سکے گا۔کاروبار میں‌پیسہ کمانا کبھی ٹارگٹ نہ بنائیں بلکہ لوگوں کی خدمت کے جذبے سے انکے کام کرکے ان کا اطمینان اور دعائیں حاصل کرنے کے ارادے سے کام کریں پیسہ ثانوی شے ہے یہ خود بخود آتا جائے گا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */