اور آفتاب ڈوب گیا-حریم شفیق

تابے لکڑیاں لے آ رات تک نہیں چلنیں۔ یہ اچھا اماں ابھی تو روٹی ڈال دے بڑی بھوک لگی ہے۔تابے کا اصل نام آفتاب تھا بڑی منتوں مرادوں کے بعد نزیراں کے آنگن میں یہ پھول کھلا تھا۔آفتاب کی پیدائش کے ایک سال بعد ہی اس کے باپ نیاز نمونیا کے بروقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے چل بسا۔وہ اور اسکی ماں ایک دوسرے کا سہارا تھے۔

آج افتاب پورے پندرہ برس کا ہو گیا تھا اورنزیراں اپنے بیٹے کو نظر بھر کر دیکھتی بھی نہ تھی کہ کہیں اس کی اپنی ہی نظر نہ لگ جائے پورے گاؤں میں آفتاب لائق فائق سمجھا جاتا کہ اس نے آٹھ جماعتیں پاس کر لی تھیں اور گاؤں کے دوسرے بچوں کو پڑھاتا بھی تھا۔ہر ایک کے کام آنے والا آفتاب ہر ایک کی انکھ کا تارا تھا۔

ہر سال کی طرح اس بار بھی آزاد کشمیر کے اس گاؤں میں شدید برفباری ہو رہی تھی اور ایسے میں زندگی کا مشکل ترین دور اس گاؤں کے باسیوں کو ہر حال میں سہنا ہی ہوتا تھا۔۔نہ گیس نہ بجلی نہ ہی علاج معالجہ کی مناسب سہولیات۔۔نہ جانے وہ لوگ کون سے دور میں جی رھے تھے۔۔صبح سویرے ماں کو لکڑیاں جمع کر کے دینا اور پھر بچوں کو جمع کرکے ان کو پڑھانا اور پھر رات کولالٹین کی روشنی میں پڑھنا اس کی روزانہ کی روٹین تھی۔

آج بھی آفتاب روٹین کے مطابق لکڑیاں لینے نکل گیا وہ خراماں خراماں کشمیری گیت لبوں پہ سجائے اپنی ہی دھن میں چلا جا رھا تھاکہ اچانک ایک بھاری فرفانی تودا اس کے لئے موت کا پیغام لیے آ پہنچا۔ادھر نزیراں کا دل اس زور سے ڈوبا کے وہ تابا کہہ کر دیوانہ وار باھر بھاگی۔گاؤں میں شور مچ گیا برفانی تودا گرا ہے ہر کوئی اپنے پیارے کو ڈھونڈنے نکلا ۔سینکڑوں گھروں کے چراغ بجھ چکے تھےاور نزیراں ایک ایک کا کندھا پکڑ کہ پوچھتی تابے کو دیکھا ہے اور ہر کوئی دکھ سے سوچتا رہ گیا کہ اسے کیسے بتائیں کہ اس کا بلکہ پورے گاؤں کا آفتاب ابھرنے سے پہلے ہی ڈوب گیا۔

اور نہ جانے کب کوئ آفتاب بن کے ابھرے گا جو ان علاقوں کو بھی کم از کم بنیادی ضروریات زندگی فراہم کرے گا۔جو یہ سمجھ سکے گا کہ ھمارے وطن کو رنگ برنگی بسوں اور ٹرینوں کی نہیں بلکہ ان علاقہ جات تک ٹیکنالوجی پہنچانے کی ضرورت ہے تاکہ جب یہ قدرتی آفات آئیں تو فوری امداد سے ماؤں کے آفتاب بچا ۓ جا سکیں۔