پھوپھی ایک انمول رشتہ‎ - نیاز فاطمہ

اللہ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک نعمت رشتے بھی ہے یہی رشتے ملکر ایک خاندان کی حیثیت اختیار کرجاتے ہیں ہرمعاشرے کی اکائی ایک خاندان ہوتا ہے کوئی بھی معاشرہ اس وقت منظم نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی اکائی کے سب ہی جزومیں اتحادویگانگت نہ پایا جائے۔

ایک مکمل خاندان میں باہم محبت اور عزت ہونی چاہیے اور اس عمل کو صلہ رحمی کہتے ہیں اس عمل کی قرآن کریم میں بہت تاکید کی گئی ہے قرآن کریم میں ارشاد ہوا الَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِن بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَن يُّوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الأَرْضِ أُولَـئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَo
البقرة، 2 : 27

(یہ نافرمان وہ لوگ ہیں جو اللہ کے عہد کو اس سے پختہ کرنے کے بعد توڑتے ہیں، اور اس (تعلق) کو کاٹتے ہیں جس کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صلہ رحمی کو رزق میں کشادگی کا سبب قرار دیا۔ امیر المؤمنین سیدنا علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم: من سره ان یمد له فی عمره و یوسع له فی رزقه، و یدفع عنه میتةالسوء فلیتق اللہ ولیصل رحمه۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :جسے خوش آئے کہ اس کی عمر دراز ہو، رزق وسیع ہو، بری موت دور ہو وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور رشتوں کو جوڑے۔

المسند لاحمد بن حنبل، 3:266

مجمع الزوائد للهیثمی، 8: 136

بفضل تعالی ہمارے ہاں رشتوں کا تقدس ہے مگر آج کل جس رشتے پر بہت تنقید بلکہ اس رشتے کی توہین کی جاتی ہے وہ ہے پھوپھی۔جی ہاں میں بات کررہی ہو باپ کی بہن پھوپھی کی جس کی ہر گھر میں بہت حپثیت ہوتھی تھیں مائیں اپنے بچوں کو پھوپھی کا احترام سکھاتی تھیں کہ یہ ایک مقدس رشتہ ہے اللہ نے اس کو محرم بنایا ہے قرآن کریم میں ارشاد ہوا تم پر حرام کردیا گیا پھوپھی سے نکاح کو۔پھوپھی ہم سے بہت پیار کرتی ہے ہم جب پیدا ہوتے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:   زندگی میں ہی بیٹیوں کو حصہ دیں - ڈاکٹر محمد مشتاق

تو یہ بہت خوش ہوتی ہے اس کے علاوہ زندگی کہ ہر موڑ پر ہمارے لیے دعا گو ہوتی ہے اس کے ثمر میں بھتیجے بھتیجیا ں بھی اپنی پھپو پر جان چھڑکتے تھے مگر یہ بات تھی جب ہم انٹر نیٹ سے نابلد تھے جب سے ہمارے ہاتھوں میں سوشل میڈیا کی چڑیا آئی ہے اس وقت سے پھوپھی جیسے مقدس رشتے کا تقدس پامال کرناحد سے بڑھ گیا ہے تمام گھریلو مسائل کاسبب پھوپھی کو قرار دیاجاتا ہے اور کوئی بھی تہوار ہو پھوپھی کو خوامخواہ اس میں لا کر ضرور بل ضرور گھسیٹا جاتا ہے ۔

سوشل میڈیا کا یہ نہایت برا استعمال ہے اور اچھے خاصے میچور انسان بھی اس طرح کی پوسٹیں شئیر کرتے نظر آتے ہیں اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ایسا بھی ہوا ہوگا کہ اس رشتے نے کہی لوگوں کے ساتھ برا سلوک کیا ہوگا لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ ھم اپنے اقدار بھول کر اس مقدس رشتے کو مسلسل تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہمیں چاہیے کہ پھوپھی جیسے مقدس رشتے کی قدر کریں