جامعۃ الرشید کراچی میں ایک دن- محمد عرفان ندیم

ایک ہزار قبل مسیح میں ہندوستانی مہاجرین کا ایک گروہ ایشیا کے راستے یورپ میں داخل ہوا ، یہ یورپ کے مختلف خطوں سے ہوتا ہوا اٹلی میں دریائے ٹبر کے گرد آباد ہو گیا،ماضی کے لوگ پکھی واس ہوا کرتے تھے ، یہ کسی ایک جگہ پر پڑاؤ نہیں کرتے تھے چناچہ یہ لوگ بھی سارے اٹلی میں پھیل گئے ۔یہ لاطینی زبان بولتے تھے، یہ جہاں بھی گئے لاطینی زبان بھی ان کے ساتھ ساتھ سفر کرتی رہی اور کچھ ہی عرصہ بعد یہ سارے اٹلی میں پھیل گئی ۔

رومن سلطنت قائم ہوئی تو اس کو سرکاری زبان کا درجہ مل گیا،رومن سلطنت میں تمام تعلیمی اور حکومتی سرگرمیاں لاطینی زبان میں سرا نجام دی جاتی تھیں ،رومن فوج دنیا کے مختلف علاقوں میں گئی تو یہ زبان بھی ساتھ لے گئی۔ لاطینی یورپ کی تمام بڑی زبانوں مثلا فرانسیسی، اطالوی، ہسپانوی، پرتگالی اور انگلش کی ماںہے اور یہ اس وقت بھی رومی کلیسا کی مذہبی زبان ہے۔ ازمنہ وسطی اور نشاۃثانیہ کے دور تک یورپ کی تمام علمی، ادبی اور سائنسی تحریریں لاطینی زبان میں لکھی جاتی تھیں،آج کی دنیا نے بیشتر سائنسی اور علمی اصطلاحات اسی زبان سے لی ہیں۔

رومن ایمپائر کے زوال کے بعد لاطینی دیگر یورپی زبانوںمیں ارتقاء پذیر ہوئی ، سولہویں سے اٹھارویں صدی کے دوران انگریز مصنفین نے یونانی اور لاطینی کو بنیاد بنا کر انگلش کے ہزاروں نئے الفاظ وضع کیئے اور آج بھی انگلش کے پچاس فیصد الفاظ لاطینی سے ماخوذ ہیں۔ انگریزی اور لاطینی کا آپس میں گہرا تعلق ہے ، پچھلے ایک ہزار سال سے یہ زبانیں علم کے میدان میں حکمرانی کرتی آ رہی ہیں ، آج دنیا میں سب سے ذیادہ علم انگریز ی میں Createہو رہا ہے ، انگریزی نے یہ سارا علم لاطینی سے لیا اور لاطینی عربی کی خوشہ چین رہی ۔لاطینی آج بھی دنیا کی اہم یونیورسٹیوں میں پڑھی اور پڑھائی جا رہی ہے ۔الومنائی(Alumni )لاطینی زبان کا اہم لفظ ہے، یہ عربی کے لفظ ’’علماء ‘‘ سے ماخوذ ہے،یہ 1635سے1645کے درمیان انگریز ی میں آیا اور انگریزی کا حصہ بن گیا۔یہ لفظ یونیورسٹی ، کالج یا اسکول کے سابق اسٹوڈنٹ کے لیے بولا جاتا ہے ۔

دنیا کی نامور اور مشہور یونیورسٹیوں نے اپنے سابق طلباء کو اکٹھا کرنے کے لیے ’’الومنائی ایسوسی ایشن ‘‘ کے نام سے تنظیمیں بنا رکھی ہیں ، پہلی الومنائی ایسوسی ایشن کا وجود اٹھارویں صدی کے آخر میں ملتا ہے ، ییل یونیورسٹی امریکہ کی قدیم ترین یونیورسٹی ہے اور اس کی الومنائی قدیم ترین ایسوسی ایشن ۔ان ایسو سی ایشنزکے سال میں مختلف فنکشنز ہوتے ہیں ،ان فنکشنز میں یونیورسٹی اور سماج کی فلاح و بہبود کے لیے تجاویز دی جاتی ہیں ، مالی معاونت فراہم کرتی ہیں ، فنڈ ریزنگ، معذوروں کی دیکھ بھال ، تعلیمی ادارے اور اس جیسی دیگر سماجی خدمات سرانجام دیتی ہیں ، طلباء اپنی مادر علمی سے اظہار محبت کرتے ہیں ، نئے طلباء سے واقفیت ہوتی ہے اور ایک دوسرے سے اپنے تجربات شیئر کیے جاتے ہیں۔ مغرب کی یونیورسٹیوں میں یہ سسٹم پچھلے چار سو سال سے نہ صرف چل رہا ہے بلکہ ڈلیور بھی کر رہا ہے اور یہ ایسوسی ایشنز اپنے ملکوںاور سماج کی بہبودمیں اہم کردار ادا کر رہی ہیں ۔

پاکستانی یونیورسٹیوں میں کہنے کوتو الومنائی ایسوسی ایشنز قائم ہیں مگر ان کا کردار صفراور نہ ہونے کے برابر ہے۔ پچھلے کچھ سال سے مدارس کی دنیا میںجامعۃ الرشید نے بھی اس روایت کا آغاز کیا ہے ، جامعۃ الرشید مدارس کی دنیا میں ابھرتا ہوا نام ہے ، اس ادارے نے بہت کم وقت میں متنوع اور ہمہ جہت خدمات سر انجام دی ہیں ،بلاشبہ ان خدمات کے پیچھے اس کے منتظمین کا اخلاص اور مسلم امہ کی فکر موجزن ہے ۔چند دن پہلے جامعۃ الرشید کا الومنائی کنونشن عرف عام میں فضلاء اجتماع ہوا ، یہ اجتماع بھی انہی خدمات کا تسلسل ہے ، اس وقت پاکستان سمیت مسلم امہ کی صورتحال کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ، مسلم امہ کا لفظ شاید بہت وسعت اختیار کر جاتا ہے، آپ صرف پاکستان کو دیکھ لیں ، پاکستانی سماج بڑی تیزی سے دین سے دور ہوتا جا رہا ہے ، عالمگیریت ، انٹر نیٹ ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا ، بڑھتا ہوا الحاد، سیکولرزم اور نوجوان نسل کی دین سے دوری یہ وہ چیلنجز ہیں جو اس سماج کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہیں، ان چیلنجز کے پیچھے مغربی تہذیب پورے تیقن کے ساتھ کھڑی ہے اور دنیا کے تمام ادیان اور تہذیبیں مغربی تہذیب کے سامنے سرتسلیم خم کر چکی ہیں ۔

اس وقت مغربی تہذیب کو اگر کسی حریف سے خطرہ ہے وہ اسلامی تہذیب ہے اور اسلامی تہذیب کی آخری نشانی مسجد و مدرسہ ہیں ۔اتنے بڑے چیلنجز اور غالب تہذیب سے نبرد آزما ہونے کے لیے مدارس کاکردارنظر ثانی کا منتظر ہے ، مدارس سے ہر سال ہزاروں طلباء فارغ التحصیل ہوتے ہیں مگر وہ سماج میں جا کر کیا کرتے ہیں اور انہیں کیا کرنا چاہئے یہ چیک اینڈ بیلنس ہے نہ ہی انہیں گائیڈ کیا جاتا ہے ۔یہ بہت بڑی افراد ی قوت ہے مگر درست استعمال ، حکمت عملی اور چیلنجز کا ادراک نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہو رہی ہے۔ ہم اس وقت جس صورتحال سے دو چارہیں اس سے نبرد آزما ہونے کے لیے مشنری جذبے کی ضرورت ہے اور مشنری جذبے کے لیے افراد کی تیاری اور ان کی ذہن سازی لازم ہے۔

جامعۃ الرشید اسی مشنری جذبے کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے ۔ ماضی کا منظر نامہ مختلف تھا اور حال کے تقاضے کچھ اور ہیں جو کسی نئی حکمت عملی کے متقاضی ہیں ،نئے منظرنامے کے مطابق جامعۃ الرشید کی پالیسیوں میں بھی تبدیلی آئی ہے اور ا ب یہ ایک نئے عزم اور نئی سوچ کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے ۔ اس سوچ کا محور ادارہ سازی ، افراد سازی ، نصاب سازی اور ماحول سازی ہے ،جب سماج کے ان چار پہلوؤں پر کام ہو گا تو اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے ۔ اس کے ساتھ جامعۃ الرشید حضرت مجدد الف ثانی ؒ کی پالیسی پر عمل پیر اہے کہ مقتدر طبقات اور شخصیات سے دوری کی بجائے ان کے قریب ہو ا جائے اور ان کی اصلاح کی جائے ۔

نفرتیں بہت ہو چکی اب محبتوں کو فروغ دیا جائے، سب ادارے اور افراد اپنے ہیں، ہم وطن اور ہم مذہب ہیں تو پھر ان سے تنفر کیوں، کمیونیکیشن گیپ کو ختم کیا جائے، ملکی استحکام کے لیے جائز امور میں حکمرانوں کی اطاعت کی جائے۔ حضرت مجدد ؒ کی کوششوںسے ہی اکبر کو مرتے وقت کلمہ نصیب ہوا اور ان کوششوں کا ثمر اورنگزیب عالمگیر کی صورت میں ملا، اس لیے جامعۃ الرشید مقتدر شخصیات خواہ وہ کوئی بھی ہوں ان کے لیے دعا گو اور اس کی اصلاح کاخواہاں ہے ۔ افواج پاکستان کے بارے میں بھی جامعۃ الرشید کا مؤقف صاف اور واضح ہے، افواج پاکستان کا وجود نہ صرف پاکستان کے لیے ضروری ہے بلکہ عالم اسلام کے لیے بھی نیک شگون ہے ۔ ماضی میں عالم اسلام پر جو چار سقوط آئے وہ اس وجہ سے آئے کہ مسلمان عسکری طور پر کمزور ہو چکے تھے ، حال میں بھی وہ مسلم ممالک جو عسکری طور پر کمزور تھے کفار کی سازشوں کا نشانہ بن گئے اس لیے افواج پاکستان کے بارے میں کسی قسم کے پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوا جائے اور اپنی افواج سے غیر مشروط محبت کی جائے ۔

جامعۃ الرشید کی ان پالیسیوں اور حکمت عملی سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر اسلام کسی کی نیت پر شک کی اجازت نہیں دیتا ۔ بعض سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو جامعۃ الرشید کی کچھ پالیسیوں سے اختلاف ہے جوخودمجھے بھی ہے مگر ہر ادارے کی طرح جامعۃ الرشید کو بھی اپنی پالیسیا ں بنانے اور اپنانے کا اختیار ہے ۔آج مسجد و مدرسہ اسلامی تہذیب کی واحد اور آخری نشانی ہیں اور ارباب مدرسہ اس نشانی کے علمبردار ، اگر انہوں نے آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا نہ کیا تو خاکم بدہن مستقبل کا کوئی اقبال مسجد قرطبہ کی طرح باشاہی مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر امت مسلمہ کی تباہی کا نوحہ لکھنے پر مجبور ہو گا۔