میرے پاس تم ہو - قدسیہ ملک

ہمارے ایک استاد نےڈرامہ اور فلم رائٹنگ کی کلاس میں دوران لیکچر بتایاکہ پاکستان میں اب اچھا لکھنا کوئی بڑی بات نہیں۔این جی اوز اور مشنری گروپوں کے ہم خیال ڈرامے لکھناہی دراصل کارکردگی گرداناجانے لگاہے۔کیونکہ اس میں آپ کو ایک اسکرپٹ کے باسانی لاکھوں روپے مل جاتے ہیں۔انہوں نے شعیب منصور کی ایک فلم "خداکےلئے" کا حوالہ دیتے ہوئے بتایاکہ اس وقت وہ اور شعیب منصور ساتھ اسکرپٹ رائٹنگ میں آئے تھے۔

ہمارے استاد پاکستان کی روایت،ثقافت اور بچوں پر زیادہ لکھتے۔جب کہ شعیب منصور زیادہ تر لکھائی این جی اووز کے کہنے پر لکھاکرتے۔ جس پر انہیں اچھی رقوم ملا کرتی ۔ فلم "خداکے لئے" میں جس طرح فیملی پلاننگ اور موسیقی کو عین جائز قرار دینے کے ایجنڈے پر انہوں نے کام کیا ۔ لگتاایساہےکہ پاکستان میں رہنے والے ایک عام آدمی کو ان دو مسائل کے علاوہ تیسرا کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں۔انہوں نے جس خوبصورتی سے زیادہ بچے پیداکرنا ، غربت میں اضافہ اور زیادہ بچوں کی پیدائش میں خواجہ سراوں کی پیدائش کو آپس میں جوڑاتھا۔واقعی قابل ستائش تھا۔ہوسکتا ہے اس فلم کی تحریرمیں انہیں بہت بھاری رقوم کی پیشکش کی گئی ہو۔جس سے وہ انکار نا کرسکیں ہوں۔ اب آتے ہیں پاکستانی ڈراموں کی جانب۔ جب میں اسکول میں تھی ہمارے ہاں بڑوں کی کیبل سے مخالفت کے باعث صرف پی ٹی وی ہی آتاتھا۔اس زمانے میں ایک ڈرامہ"انکار" جو پاکستان اینٹی نارکوٹکس فورس کی جانب سے نشر کیاگیاتھا۔اس ڈرامے میں اور بھی بہت سی این جی اوز کی خدمات اور سرمایہ شامل تھا ۔ بہت مشہور ہواتھا۔ اس ڈرامے میں جن مسائل کی جانب نشاندہی کی گئی تھی، قابل ستائش تھے۔

لیکن ساتھ ہی ساتھ اس میں مرد و زن کاتفریح کے نام پر سماجی انداز ،میل ملاپ،شراب و ہیروئن کی مخلوط محفلیں، عورتوں کو اس زمانے میں انتہائی بے حجابانہ و چست لباس پہنے دکھایاگیاتھا ۔ ساتھ ہی ساتھ اس میں کالج یونیورسٹیوں کی لڑکیوں کی لڑکوں سے دوستیاں،آزادانہ فحاشی اور شادی سے پہلے بننے والی ماوں کا کرداربھی بڑے ہی مہارت کے ساتھ کھلے اور چھپے انداز دکھایاگیاتھا۔لیکن اس وقت یہ سب ایک مخصوص طبقے کو نشانہ بناتے ہوئے ایک نافرمان اولاد کی ہیروئن اور چرس کے نشے میں مبتلا ہونے کے بعد کی زندگی کی کہانی تھی۔سرکاری چینل ہونے کے باعث بہت کچھ ڈھکےچھپے انداز میں دکھایاگیاتھا۔لیکن ان سب میں بھی دیکھا جائے تو"انکار" میں ہونے والی تمام سماجی سرگرمیاں پاکستانی معاشرے کی عکاس نہیں تھیں۔لیکن وہی بات کہ میڈیارائے عامہ بنانے میں اہم کردار ادا کرتاہے۔رائے عامہ کو اپنی جانب موڑ لینے اور رائے عامہ میں بعض اوقات بحثیت ایک استاد کاکردارادا کرتاہے۔لوگ میڈیاکی رائے مقدم سمجھتے ہیں۔اس کے فوری بعد ہی تواتر سےسرکاری ونیم سرکاری درسگاہوں میں نشے کی لت میں مبتلا طلبہ و طالبات کی خبریں برقی و اطلاقی میڈیا میں گردش کرنےلگیں۔

لیکن لوگ چونکہ ایسے ڈرامے دیکھ دیکھ کر ان کرداروں کے عادی ہو چکےتھے۔اسلئے کوئی خاص ردعمل سامنے نہیں آیا ۔کراچی کے بازاروں میں عورتوں کی جینز ٹی شرٹس اور چست و باریک پاجامے باآسانی دستیاب ہونے لگے۔حالانکہ پہلے یہ سب چھوٹی بچیوں تک کے لئے محدودہوا کرتے تھے۔اس وقت بھی کیبل چینلز تھے۔لیکن اس طرح کی بھرمار نہ تھی۔لوگ پی ٹی وی کے پروگرامات بھی دیکھاکرتےتھے۔رفتہ رفتہ سرکاری ٹی وی کا زور مکمل طور پر ٹوٹ گیا۔چینلوں کی بھرمار کے باعث ہر طرح کے پروگرامات نشر کئےجانے لگے۔لیکن بدقسمتی سے قومی وقار،ملکی سالمیت، علاقائی ہم آہنگی، عصبیت سے پاک ، اسلام کے اصولوں کے مطابق نشریات ان تمام چینلوں میں سے کہیں جگہ ناپاسکیں۔کیونکہ ایسے پروگرامات کے لئے مالی تعاون کرنے کوئی تیار نہیں ہوتا۔ جیو کے ایک پروگرام میں جس کی میزبانی غالبا سہیل وڑائچ کررہے تھے۔خلیل الرحمان جو ڈرامے کے رائٹر ہیں اعتراف کرتے ہیں کہ وہ ایک کہانی لکھنے کے پچاس لاکھ یا اس سے زیادہ وصول کرلیتے ہیں۔اس کےعلاوہ ان کا یہ بھی کہناہے کہ میرے لکھے ہوئے جملوں کو کوئی ڈائریکٹر آج تک تبدیل نہیں کر سکا۔ جس نے کوشش کی تو اس کے ساتھ پھر میں نے کام ہی نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھیں:   کٹ پیس اور میرے پاس تم ہو - ذیشان نور خلجی

اس کے بعد ڈرامہ رائٹر خلیل رحمان فاروقی کا شاہانہ طرز رہائش دکھایاجانےلگا۔ حقیقت میری اور آپ کی نظروں سے ابھی بھی اوجھل ہے۔حقیقت کیاہے آئیے کچھ جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ جدیددور میں این جی اوز نے بہت زیادہ اہمیت اختیار کر لی ہے۔تمام ممالک میں ان کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے ۔ بہت زیادہ سول سوسائٹی کو ان کے ذریعے منظم اور باہم مربوط کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ این جی اوز کا تصور بذات خود برا نہیں ہوتا۔ ان کے بنیادی اہداف نیک ہی ہوتے ہیں ۔ دنیابھرمیں بڑھتی ہوئی آبادی اور وسائل کی کمی کے باعث صحت ، تعلیم ، غربت اور سماجی شعور کے متعلق مسائل گھمبیر شکل اختیار کر چکے ہیں ۔حکومتوں کے لیے یہ ممکن نہیں رہا کہ وہ یہ مسائل سرکاری سطح پرحل کر سکیں ۔ اس رجحان کے تحت این جی اوز کا قیام کسی نیک مشن سے کم نہیں ہوتا۔ لیکن یہ نیک مشن اس وقت معاشرے کے لیےمصیبت بن جاتے ہیں جب ان کےبظاہرنیک اہداف کے پیچھےپیچھے ان کے خفیہ مقاصد بھی معاشرے میں نفوذپذیری اختیارکرلیتےہیں۔ یہ این جی اوز ترقی یافتہ ممالک کے فنڈز اور ڈونر خفیہ ایجنسیوں کی امداد سے دنیابھرمیں چلتیں ہیں ۔

امداد کے ساتھ ساتھ این جی اوز اپنےمشنری ، مذہبی ، اقتصادی ، جغرافیائی اور دیگر خفیہ مقاصد کو بھی معاشروں میں پھیلانے کا سبب بنتی ہیں۔ اس لئے ان مخصوص اہداف اور مقاصد کا شکار زیادہ تر تیسری دنیا کے مسلم ممالک ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں یہ مشنریز این جی اووز اپنے مذموم وخفیہ مقاصد حاصل کرنے کے لئے پوری دنیا سےفنڈز اکٹھاکرتی ہیں۔ پاکستان میں کام کرنے اہم این جی اووز میں USAID,DFIDاور JAICA شامل ہیں۔اس کے علاوہ بے تحاشہ غیرسرکاری تنظیمیں ہیں۔ان میں سے بعض تنظیمیں پاکستان میں بھی ریاست کے اصولوں کے خلاف کام کررہی ہیں۔ نائن الیون کے بعدسے مشرف دورمیں ان این جو اووز کی تعداد میں اضافہ شروع ہوا۔ پاکستان میں اب تک بے تحاشہ این جی اووز کام کررہی ہیں۔جن کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے۔ پاکستان میں نظریاتی اور مذہبی افراد کے تعاون سے بعض این جی اووز بہترین خدمات بھی سرانجام دے رہی ہیں۔لیکن فنڈز کی کمی کے باعث ایسی این جی اووز حکومتی طبقے اور میڈیا کی بے رخی کا شکار ہیں۔ اسکے برعکس غیر ملکی اور عیسائی مشینری این جی اووز گروپوں کو جہاں حکومتی سرپرستی حاصل ہے وہیں وہ میڈیا میں بھی اپنے اعتقادات ونظریات کے لحاظ سے آگے آگے ہیں۔

کیونکہ ایسی این جی اووز میں حکومت کو صرف اپنا مفاد صاف نظرآتاہے۔ جبکہ مفاد عامہ کے نام پربھی یہ این جی اووز کھلم کھلا فحاشی و عریانی پھیلانے میں سرگرم عمل ہیں۔تیسری دنیا کے رائٹروں کو منہ مانگی قیمت دے کر خرید لینا، رائے عامہ اپنی مرضی سے ہموارکرنا، ملکی و قومی مفاد کی دھجیاں اڑانا انکےخفیہ بنیادی اہداف ہوتےہیں۔ اب آتے ہیں آج کل مقبولیت کی بلندیوں کو چھونے والے ڈرامے" میرے پاس تم ہو" کی جانب جو اے آروائی ڈیجیٹل سے پیش کیاجارہاہے۔ جس میں بڑی مہارت،حاضر دماغی اور زبان کے الٹ پھیر سے پاکستانی معاشرت، تہذیب وتمدن، رہن سہن، طرز معیشت، کلچر اورکئی جگہوں پر زبان کےساتھ جس خوبصورتی کےساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے عام آدمی اس سے حاصل شدہ ہولناک نتائج کاتصور بھی نہیں کرسکتا۔ کہیں کہیں تو ان تمام جزئیات کی دھجیاں تک اڑا دی گئی ہیں۔لیکن یہ کام اتنی مہارت اور حاضر دماغی سے کیاگیاہےکہ عوام الناس اس کےروح فرسامضمرات سے مکمل طور پر نا آشنا نابلد ہیں۔ جس طرح ہمارا پاکستانی میڈیاخصوصاالیکٹرانک میڈیا تفریح طبع کے نام پر مسلسل اسلامی تعلیمات کو مسخ کرنے والے مواد کی تشہیر کررہاہے۔

یہ بھی پڑھیں:   دانش کی موت - عرفان اقبال جتوئی

بالکل اسی نظریئے اور خیال کو لے کر یہ ڈرامہ اپنی شہرت کے مدارج کو طے کررہاہے۔ اس میں پاکستانی معاشرے میں عام آدمی کی مکمل کردار کشی کی گئی ہے۔اس ڈرامے میں شروع سےآخر تک کہیں پاکستانی معاشرے کے عام فرد کی درست سمت نشاندہی نہیں کی گئی۔انتہائی حساس موضوعات کو بہت غلط ملط انداز میں پیش کرکے رائے عامہ ہموار کی گئی ہے۔ ایسا لگ رہاہے کہ گویا یہ ڈرامہ پاکستانی عوام کو ہاتھ پکڑ کر دینی و اسلامی معاشرت سے ہٹاکراپنی سمت چلنے کی دعوت دے رہاہو۔ سب سے پہلے مخلوط محفلیں جو پہلے کہیں شاذونادر ہی سننے میں آیا کرتی تھیں،اب عمومی رجحان بن چکی ہیں۔ لیکن اس ڈرامے میں مخلوط محفلوں کے ساتھ مغربی معاشرے کی طرز پر مرد و خواتین کا ساتھ رقص و سرور کرنا، بیوی کااپنے شوہر کی آمدنی سے بڑھ کر پھر فرمائشیں کرنا، فرمائشیں پوری نا ہونے کی صورت میں شوہر کی طرح نوکری کرنا،

اپنے شوہرسے جھوٹ بولنا، شوہر کے ہوتے ہوئے مغربی معاشرے کی طرز پر دوسرے مرد کے ساتھ تعلقات استوار کرنا، شوہر اور بچے کو چھوڑ کر صرف محدود وسائل اور دولت نا ہونے کے باعث دوسرے مردوں کے ساتھ ناجائز زندگی گزارنا،شوہر سے طلاق لے کر بغیرعدت کے دوسرے مرد کے ساتھ حرام کاریاں کرنا،پھر اس مرد کے چھوڑ دیئے جانے پر دوبارہ شوہر کے ساتھ بغیر حلالہ کئے زندگی گزارنے کو خواہش ظاہر کرنا،مرد و عورت دونوں کا بدکرداری کو عین جائزدکھانا،اگر مرد کے لئے معافی ہے تو عورت کے لئے کیوں نہیں یا نکاح میں طلاق ہوتی ہے محبت میں نہیں۔ایسے جملوں کی تکرار کی باعث عورت کی عزت اور محصنات کی توہین کرنا۔یہ سب اس ڈرامے کے چنداہم نکات ہیں۔

متنازعات سے بھرے اس ڈرامے میں اگرچہ کچھ اچھے جملے اور اچھے اصول بھی بتائے گئے ہیں لیکن ان چند اچھے اقدامات کی وجہ سے ڈرامے کی بہت ساری غیر شرعی، غیر اسلامی و غیرقانونی روایات کو صحیح نہیں کہاجاسکتا۔ بدکرداری کا لیبل دونوں کے لئے نقصان دہ ہے۔گھروں میں عورت کی درست اسلامی تربیت ہوگی تو وہ اسلامی طرز پر نسلوں کی تربیت کرسکے گی۔اسلام ہی ان تمام مضمرات کی بیخ کنی کے لئے کافی ہے۔دین اسلام سے مکمل آگہی اور نظریاتی تشخص کی حفاظت وقت کی اہم ضرورت ہے۔ میڈیا کی باگ دوڑ کس کے ہاتھ میں ہے۔کون صرف کٹھ پتلی بناکھیل رہاہے۔اب یہ سب بالکل واضح ہے۔ ترکی ڈرامہ ارطغرل کے نام سے تو آپ سب واقف ہی ہونگے۔اب تک دنیا کے 78مما لک میں یہ سیریز دیکھی جا رہی ہے جس میں مستقل اضافہ ہو رہا ہے۔تاریخ کے ان عظیم کرداروں کو محمدبزداغ عبدالرحمان نے بطور مصنف اور اسکرین رائٹر بڑی مہارت اور شان سے زندہ کیا ہے۔ ہمارے پاس بہترین لکھنے والوں کی کمی نہیں ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی سرپرستی میں پاکستان کی نظریاتی و اسلامی سالمیت کو پیش نظر رکھ کر ڈرامے بنائے جائیں۔غیر ملکئ این جی اووز کو ایک قانون کا پابندکیاجائے۔تاکہ اقوام عالم میں پاکستان کا وقار بلند ہوسکے۔

Comments

قدسیہ ملک

قدسیہ ملک

قدسیہ ملک شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ کراچی میں ایم فل سال اوّل کی طالبہ ہیں۔ مختلف رسائل، اخبارات اور بلاگز میں لکھتی ہیں۔ سائنس، تعلیم، سماجی علوم، مذہب و نظریات دلچسپی کے ایسے موضوعات ہیں جن پر آپ قلم اٹھاتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.