ملک کا کیا بنے گا- سجاد میر

دکھ یہ نہیں کہ ایسے واقعات ہو رہے ہیں بلکہ تکلیف کا سبب یہ ہے کہ ہمیں اندازہ ہی نہیں ہو تا کہ ہم کیا کہہ رہے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ایک وفاقی وزیر نے اخلاق سے گری ہوئی حرکت کی‘ بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ وہ کہتا ہے میں نے کچھ بھی نہیں کہا‘ وہ بڑی ڈھٹائی‘ ہٹ دھرمی اور تعلّی سے اپنے اس اقدام کا دفاع کر رہا ہے کہ میں لوگوں کو سمجھانے کا فریضہ ادا کر رہا تھا اور کرتا رہوں گا۔ چھوڑیے یہ کتنا بڑا جرم ہے‘ صرف اس پر غور کیجیے کہ ایک عدد بوٹ کو سرعام‘ سب کے سامنے میز پر یوں ٹکا دینا اخلاقی طور پر کیا معنی رکھتا ہے۔ اس کا جو مفہوم ہے وہ اپنی جگہ۔ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اپوزیشن نے فوج کے بوٹ چاٹ کر اس قانون کی حمایت میں ووٹ دیا ہے جو ان کے سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا ہے۔ آپ اپوزیشن کو بدنام کرتے کرتے خود کو بھی بدنام کر گئے ہیں۔ آپ تو اس قانون کے پیش کرنے والے ہیں۔ میں کہتا ہوں اس کو چھوڑیے ‘ کسی سٹوڈیو‘ کسی ڈرائنگ روم میں پہنچ کر اگر آپ کسی جوتے کو میز پر سجا کر اپنا مقدمہ پیش کرنے لگیں تو اسے کیا کہا جائے گا۔ کسی نے پوچھا ردّعمل ٹھیک تھا۔

یعنی واک آئوٹ درست تھا۔ جواب آیا دو ہی ردعمل تھے یا اٹھ کر چلے جاتے جو انہوں نے کیایا اس بوٹ کو اٹھا کر اسے دے مارتے کہ وہ اس کا سزاوار تھا اب بتائیے کون سا قابل قبول ہے۔ ایک نہیں چار واقعات ہو چکے ہیں۔ پہلے وزیر سے بڑے ایک مشیر نے دوسرے شریک بحث کو لائیو تھپڑ دے مارا۔ تاہم اتنی شرافت اس میں تھی کہ اس نے فوراً معذرت کر لی۔ نعیم الحق ایک جذباتی اور کھرے شخص ہیں۔ میں انہیں کراچی سے جانتا ہوں۔ خدا صحت دے‘ سنا ہے کہ آج کل علیل ہیں۔ انہیں گویا فوراً احساس ہو گیا کہ انہوں نے غلطی کی ہے دوسرا واقعہ فواد چودھری نے دکھایا‘ بلکہ انہوں نے تو رپیٹ پرفارمنس دکھائی۔ پہلی بار تو وزیر اعظم نے خود متعلقہ شخص سے مبینہ طور پر معذرت کی۔ یہ ایک شادی کی تقریب میں ایک اینکر کوتھپڑ مارنے کا واقعہ تھا۔ جب اس پر بڑا ردعمل بوجوہ نہیں آیا تو دوسری بار ایک اور شادی کی تقریب میں انہوں نے یہی کام پھر کر دکھایا۔ نہ صرف پھر ایک اینکر کو تھپڑ جڑ دیا بلکہ اسمبلی میں اس کا دفاع کرنے بھی جا پہنچے۔ یہ آگے کا مرحلہ ہے۔ اس پر کوئی اعتراض بھی خاص شدومد سے نہیں آیا۔ مطلب یہ کہ ہم اور بے حس ہوتے جا رہے ہیں یا ہم اس رویے کو قبول کرتے جا رہے ہیں۔ فواد چودھری ایک مخصوص انداز کی سیاست کر رہے ہیں۔ اس کا جو بھی جواز ہو‘ مگر یہ رویے الگ طور پر جواب مانگتے ہیں۔ اس میں نہ صرف آپ نے ایک عوامی شخصیت کی توہین کی۔

اس حد تک گئے جہاں کوئی مہذب شخص نہیں جایا کرتا‘ بلکہ کسی کی تقریب میں کھنڈت ڈالی۔ اس آخری بات پر میں اس لئے زور نہیں دے رہا ہوںکہ ان میں سے ایک تقریب کا تعلق کچھ ہم سے بھی ہے۔ ویسے تو اپنے گھر میں یا مخالف کے گھر پر یہ حرکت کرنا بھی غیر اخلاقی ہے۔ مگر کسی کی تقریب میں جہاں آپ بھی مہمان کے طور پر گئے ہوں ‘کسی دوسرے مہمان کو زدوکوب کرنے کی کوشش کرنا تو انتہائی معیوب ہے۔ پھر اسمبلی میں جا کر اس کا دفاع کرنا اور اپنے رویے کو جائز قرار دینا تو کسی طور پر بھی روا نہیں ہے۔ رہا یہ آخری واقعہ تو یہ تو ساری حدیں عبور کرنے کے مترادف ہے۔ اینکر کوئی نو آموز نہیں تھا۔ مجھے بھی خیال آیا کہ اس نے فوری ردعمل کیوں ظاہر نہیں کیا۔ اس کی وضاحت انہوں نے خود کر دی جب اگلے ہی روز اپنے پروگرام میں اعتراف کیا کہ ان کا رسپانس ٹائم زیادہ تھا۔مطلب یہ کہ انہیں فوری ردعمل کے طور پر وزیر موصوف کو جوتے نیچے لے جانے کے لئے کہنا چاہیے تھا یا کم از کم واک آئوٹ کرنے والوں کو روکنا چاہیے تھا۔ شاید یہ واقعہ اتنا اچانک تھا کہ ایک منٹ کے لئے تو وہ بھی سناٹے میں آگئے ہوں گے۔ پہلے دن تو جو تبصرے آئے اس میں ان پر بھی تنقید ہوئی کہ ایک شخص اتنا بڑا جوتا لے کر اندر کیسے آ گیا۔ سوچنے کی بات ہے کہ اگر ایک وزیر ایک اس طرح کا تھیلا اٹھائے چلا آ رہا ہو تو کسے شک ہو گا کہ یہ ایسی حرکت کر سکتا ہے‘ ایسے موقع پر تو سکیورٹی کے تقاضے بھی ضروری نہیں سمجھے جاتے۔ اس کا کوئی ناجائز فائدہ اٹھائے تو ہے نا یہ حد سے گری ہوئی حرکت ۔

اس سے اگلی بات اس سے بھی سنگین ہے‘ پیمرا نے اینکر پر دو مہینے کی پابندی لگا دی۔ مگر وزیر کو کچھ نہیںکہا۔ کہا جاتا ہے کہ وزیر اعظم نے سرزنش کی‘ پھر رات گئے دو ہفتے کسی ٹی وی پروگرام میں شرکت سے منع کر دیا۔ یہ کیا بات ہوئی‘ ایسا شخص آپ کا وزیر کیسے رہ سکتا اور اس ٹائپ کے وزراء آپ کے غضب سے کیوں بچے رہتے ہیں۔ اور آپ انہیں محفوظ کیوں نکال لے جاتے ہیں۔ اس بار یہ تھوڑا سا ردعمل بھی اس وجہ سے ہے کہ درمیان میں ’’بوٹ‘‘ آ گیا ہے۔ نواز شریف کا زمانہ ہوتا تو ڈان لیکس سے بڑا مقدمہ بنتا۔ صرف ایک نہیں دو چار بندے معاونت جرم میں بھی رگڑے جاتے۔ کفش برداری ہی کا جرم لگا دیا جاتا۔ میرے خیال میں اس میں میڈیا بھی ذمہ دار ہے‘ مگر ایک اور انداز سے۔ یہ تینوں چاروں واقعات میڈیا سے متعلق افراد کے ساتھ ہوئے ہیں۔ کیا میڈیا کا فرض نہیں کہ وہ ان افراد کے کم از کم میڈیا پر آنے پر پابندی لگا دیں۔ یہ تو بہت نمایاں واقعات ہیں‘ بعض افراد میڈیا کا استعمال اتنی بدتمیزی سے کرتے ہیں کہ سوال پوچھا جا سکتا ہے‘ ایسے لوگوں کو دوبارہ بلایا کیوں جاتا ہے۔ ایک آدھ غلط بیانی کا واقعہ سپریم کورٹ تک جا پہنچا تو میڈیا نے کمال جرأت سے اپنے ساتھی کو مطعون کیا۔ مگر پھر بھی میڈیا کا ردعمل بعض واقعات کے لئے شدید تر ہونا چاہیے۔ عمران خان کون ہیں پابندی لگانے والی۔ زیادہ تحقیق کی بھی ضرورت نہ تھی۔ میڈیا کی طرف سے پابندی لگ جاتی۔ پارٹی ردّعمل ظاہر نہ کرتی تو اسے بھی سزا دینے کا بندوبست کیا جاتا۔ ہمارے چینل ریٹنگ حاصل کرنے کے جنون میں یا کسی اور وجہ سے ایسی ایسی باتوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں جو مناسب نہیں ہے۔ اخبارات میں ٹریڈ یونین ہوتی تھیں۔ کارکن اور مالکان مل کر کچھ نہ کچھ کر لیتے تھے۔

الیکٹرانک میڈیا کے آنے سے ہم کوئی راہ ہی تراش نہیں سکے ہیں۔ اس وقت جتنے واقعات ہوئے ہیں‘ وہ سب حکومت کی طرف سے ہیں۔ یہ نہیں کہ اپوزیشن والے کچھ نہیں کر رہے۔ وہ کم از کم توہین عدالت کی سزا تو بھگت چکے ہیں۔ کسی نے بڑی تعلّی سے کہا ہے کہ یہ ہے نا فرق۔ نواز شریف نے تو شکایت پر اپنے وزیر نکال دیے۔مشاہد اللہ خاں‘ پرویز رشید‘ طارق فاطمی‘ عمران خاں اپنے لوگوں کو بچا کر رکھتا ۔ اب اس پر کیا رائے دی جائے۔ سب کچھ بگڑ چکا ہے‘ کسی کو احساس تک نہیں۔ اتنا مگر خیال رہے کہ اگر کوئی سوچتا ہے کہ اس طرح مار دھاڑ سے معاملات چلتے رہیں گے تو ایسا نہیں ہو گا‘ بالکل نہیں ہو گا۔ صورت حال زیادہ دگرگوں ہوتی ہے تو پھر عوام جوابی تھپڑ مارتے ہیں‘ بوٹ چٹواتے ہیں۔ ایک شخص کا رویہ اگر بار بار غلط آ رہا ہو تو اس کا علاج تو ہونا چاہیے اور بھی لوگ ہیں اور ان وزیر موصوف کی اور باتیں بھی ہیں۔ اگر وہی برداشت نہ ہوتیں تو کم از کم یہ واقعہ نہ ہوتا۔ لوگ تو یہ بھی شک کرتے ہیں کہ یہ واقعات یونہی نہیں ہو جاتے‘ کروائے جاتے ہیں۔ دونوں باتیں اپنی اپنی جگہ تکلیف دہ ہیں۔ یاد رکھیے کہ اگر یہ رویہ جاری رہا تو اس کا نقصان اس کے ذمہ داروں کو ہو گا‘ مخالفوں کو نہیں مسئلہ مگر یہ ہے‘ ملک کا کیا بنے گا۔