نگاہ بلند سخن دلنواز جاں پرسوز - ایمن طارق

نگاہ بلند سخن دلنواز جاں پرسوز - یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے
کوئی کارواں سے ٹوٹا کوئی بدگمان حرم سے - کہ میر کارواں میں نہیں خوئے دل نوازی
اے پیغمبر ٌیہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم ان لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوے ورنہ اگر کہیں تم تند خو اور سنگدل ہوتے تو یہ تمہارے اردگرد سے چھٹ جاتے ۔
( آل عمران )

وژن کا کلئیر ہونا ، معاملات میں نرمی ، مقصد سے اخلاص اور ساتھ چلنے والوں سے مخلص ہونا ، دل سوزی ، دل جیتنے کی صلاحیت لیڈرز کے لیے اُن کی قیادت کی journey میں مددگار tools ہیں ۔ ہم وہ لوگ ہیں کہ جو قیادت کے منصب پر یا لیڈر کے طور پر صرف اسے دیکھنا چاہتے ہیں کہ جو ہر لحاظ سے آئیڈیل ہو ۔ جو دیکھنے میں بھی لیڈر نظر آۓ ، گفتگو بھی شاندار کرتا ہو ، خطابت کی صلاحیت ہو ، ہمارے دینی فریم مین بھی فٹ آتا ہو اور زمانے کے بدلتے تقاضوں کے مطابق خود کو گروم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو ۔ خواہش بری نہیں لیکن اکثر ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ایک لیڈر اور قائد کے لیے اہم ترین صفت یہ ہے کِہ وہ منزل کی سمت کا صحیح اندازہ رکھتا ہو اور اسے اندازہ ہو کہ اپنی ٹیم کو اس سمت میں کس راستے سے لے کر جانا ہے ۔ یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ ایک قائد کی اصل خصوصیت یہ ہے کہ وہ جن لوگوں پر زمہ دار ہے اُن کے دلوں کی دنیا فتح کرکے اُنہیں اپنے ساتھ اس منزل کی ڈائریکشن میں جانے کے لیے راضی کرسکے۔

ہم انسان اکثر خود اپنی راۓ اور نقطہ نظر کو درست مانتے ہیں یا اگر کسی کی اطاعت پر راضی ہوتے بھی ہیں تو اس کو اتنی اونچی مسند پر بٹھا دیتے ہیں کہ جہاں اس کی ذات ہر طرح سے پرفیکٹ ہو ۔ کبھی کبھی ایسے آئیڈیل لوگ مل بھی جاتے ہیں لیکن ظاہر ہے کوئی انسان ہمیشہ اپنی جگہ ہی نہیں رہتا اپنا وقت پورا کرکے آگے بڑھ جاتا ہے لیکن ہم ایک انسان کو آئیڈیل سمجھ کر ہر نۓ آنے والے کا ُاس سے مقابلہ کرتے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ ہمارا قائد اور mentorبننے والا ہر شخص ہمارے بناۓ ہوےمعیار کے ہر خانے میں مکمل ہو ۔ کیا یہ توقع جائز ہے ؟؟ کچھ لیڈرز ایسے بھی ہوتے ہیں جو بظاہر سب کو لیڈر نہ لگیں لیکن اُن میں لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے اور دل جیتنے کی صلاحیت ہوتی ہے ۔ ان کے اخلاق و کردار اور سمجھداری سے لوگ ان سے محبت کرنے لگتے ہیں ۔ خدا خوفی اور دین کا ٹھیک فہم انسان کی مضبوطی ہے اور یہی فہم آپ کو اللہ کے بندوں کے ساتھ بہترین معاملہ رکھنے کی صلاحیت بھی عطا کرتا ہے ۔

ایک بات جو مشاہدے میں آئی وہ یہ بھی کہ کسی انسان کی ایک خصوصیت اس کی ساری خامیوں کے باوجود اسے اس قابل بناتی ہے کہ وہ ایک گروہ کو لے کر مشکلات و نامساعد حالات کے باوجود آگے تک جانا ہے اور کہیں کہیں ساری خصوصیات کے باوجود ایک خامی ساری کارکردگی کو صفر کر دیتی ہے ۔ ٹیم کو اپنا لیڈر چنتے ہوے انہی صفات کو ذہن میں واضح رکھنا چاہیے جو کسی شخص کی بہت سی کمزوریوں پر حاوی ہیں ۔دینی اداروں میں یہ چناؤ بہرحال ہمیشہ قرآن و سنت کی سمجھ و فہم رکھنے والے شخص کے لیے ہی ہوگا لیکن اس کے ساتھ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ محض علم ہی نہ ہو معاملہ فہمی بھی ہو اور اس علم کو حکمت کے ساتھ کیسے لے کر چلنا ہے یہ سمجھ بھی ہو ۔
وقت کی رو بہت تیز ہے دوستوں
اک زرا آنکھ جھپکی اگر راہ میں
شوق منزل غباروں میں کھو جاۓ گا
اور منزل کے تیور بدل جائیں گے ۔
منزل کی طرف بڑھنے کا شوق دلانے والا قائد ،وقت کے مناسب استعمال کی طرف توجہ دلانے والا ، خود بیدار رہ کر دوسروں کو بیدار رکھنے والا اور اخلاص کی خوشبو بکھیرتا فرد ہی رہنمائ کا فریضہ انجام دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے ۔

Comments

ایمن طارق

ایمن طارق

ایمن طارق جامعہ کراچی سے ماس کمیونی کیشنز میں ماسٹرز ہیں اور آجکل انگلینڈ میں مقیم ہیں جہاں وہ ایک اردو ٹیلی وژن چینل پر مختلف سماجی موضوعات پر مبنی ٹاک شو کی میزبانی کرتی ہیں۔ آپ اپنی شاعری ، تحریر و تقریر کے ذریعے لوگوں کے ذہن اور دل میں تبدیلی کی خواہش مند ہیں۔ برطانوی مسلم کمیونٹی کے ساتھ مل کر فلاحی اور دعوتی کاموں کے ذریعے سوسائٹی میں اسلام کا مثبت تصور اجاگر کرنا چاہتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.