بڑی امی نے نسل کی حفاظت کیسے کی - عالیہ زاہد بھٹی

"راحمہ! بڑی امی نے تخت پر بیٹھے بیٹھے پکار لگائی مگر جواب ندارد۔"او راحمہ!اب کے آواز زور دار تھی۔"جی،جی ماما جی آگئی!" راحمہ دوڑ کر آئی۔"تمہیں سنائی نہیں دیا تھا۔""سنائی دیا تھا مگر وہ فہد مصطفی کا شو آرہا تھا، وہ دیکھ رہی تھی۔" راحمہ نے بے نیازی سے جواب دیا۔

"ناں فہد مصطفی تمہارے چچا کا بیٹا ہے جو اس طرح دنیا جہاں بھلا کر اس کا شو دیکھ رہی تھی کہ نہ اذان کی ہوش نہ نماز کی فکر۔""اب چھوڑ بھی دیں ماما جی! یہ کیا آپ دقیانوسی امّاؤں کی طرح بہو سے پوچھ پڑتال میں پڑ گئی ہیں، آپ پڑھی لکھی ساس ہیں، ریٹائرڈ گورنمنٹ اسکول پرنسپل۔" شایان راحمہ کی مدد کو آیا اور ماں کے کندھے دبا کر انھیں ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرنے لگا۔

"نہیں تو پڑھا لکھا ہو کر کیا رب بدل جاتا ہے، اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی شروع جاتی ہے، قرآن، نماز، بڑوں کے ادب آداب کا طریقہ بدل جاتا ہے، میں کب سے محسوس کر رہی ہوں کہ بہو ہر وقت ٹی وی اور موبائل میں مصروف ہے۔ چلو تم دونوں آپس میں ایک دوسرے کو ٹائم دو تو سمجھ بھی آتا ہے۔ یہ ہر وقت ٹی وی موبائل؟ ابھی تمہاری شادی کو سات آٹھ ماہ ہوئے ہیں، کل کو بچے ہوں گے، ان کی ذمہ داری کیسے اٹھاؤ گے؟ کہ آج ایک دوسرے کے لئے تمہارے پاس وقت نہیں۔"بڑی امی تو گویا منتظر تھیں نصیحت کرنے کی۔

"بڑی امی! شایان بھائی نے وعدہ کیا ہے راحمہ بھابھی سے کہ وہ ان کو فہد مصطفی کے شو میں لیکر جائیں گے۔" پاس بیٹھے عادل نے بڑی امی کے سامنے دھماکہ کیا۔"اللہ خیر!"بڑی امی نے حقیقت میں دہل کر سینے پر ہاتھ رکھا۔"یہ میں کیا سن رہی ہوں شایان! تمھیں کیا ہوگیا ہے، اس بندر کے تماشا کرنے والے کی ڈگڈگی کا شکار تم بھی ہو گئے۔ آج تم اپنی بیگم کو لے کر جاؤ گے، کل بہنیں ضد کریں گی، پرسوں بیٹیاں اٹھ کر تم سے کہنے کی زحمت بھی نہیں کریں گی، وہ خود فہد مصطفی جیسے کسی سرکس کے مداری کے ساتھ چل پڑیں گی۔"

"کیا ہوگیا ہے ماما جی آپ کو۔" شایان جزبز ہوا۔"مجھے نہیں اپنے آپ سے پوچھو، تمہیں کیا ہوا ہے۔ تم وہی ہو جب چھوٹے سے تھے اور گھر میں کوئی گیسٹ آئی تھیں جو سر پر دوپٹہ نہیں لیے ہوئے تھیں تو تم نے کس اعتماد سے ان سے کہا تھا کہ آپ سر پر دوپٹہ نہیں لیتیں۔ آج تم ایک ایسے شو میں اپنی بیگم کو لے کر جا رہے ہو، جہاں کہا جائے گا کہ ''آؤ میرے ساتھ بائک پر بیٹھو'' تو تم بٹھا دو گے' جبکہ ایسا کہنے والا اگر تمھاری گلی کا کوئی لوفر لڑکا ہوگا تو تمھیں کیسا لگے گا۔""منہ توڑ دوں گا اس کا۔" شایان بے ساختہ بولا۔

"نہیں توڑ سکو گے، اگلے تمھارا منہ توڑ دیں گے کہ غیر محرم تو سب ایک جیسی حیثیت رکھتے ہیں۔ فہد مصطفی ہو یا گلی کا لوفر، اگر تم ایک کو حق دے رہے ہو کہ وہ تمھاری عورتوں کو اپنے پیچھے بائک پر بٹھائے تو پھر گلی کے آوارہ لڑکوں کو بھی اجازت دے دو کہ تمھاری بہنوں کو کالج چھوڑ کر آنے کی ڈیوٹی لے لیں۔"

"برا لگ رہا ہے ناں ایسا سننا بھی؟ کرنااس سے بھی برا لگے گا۔'' دیکھو بیٹا یہ ایک سسٹم کے تحت ہم سے ہماری اقدار چھین رہے ہیں، برائی ہر روپ میں برائی ہی ہے، اسے سمجھو، پردے میں چھپا کر کی جائے یا میڈیا کی اسکرین پر، دونوں طرف ایک جیسی تباہی لائے گی۔ یہ ٹی وی کے مداری کیا ہیں، کسی بھی گلی محلے کے لوفر جن کو میڈیا کے سرداروں نے موقع دے دیا، یہ تو ایسے ہی ہے کہ جیسے اپنی گلی کے لوفر کو چھوڑ کر دوسری گلی کے لوفر کے ساتھ بیٹی کو بھگا دیا جائے تو کیا بھاگنے کا عمل جائز ہو جائے گا۔"

شایان اور راحمہ کے تو پسینے چھوٹ گئے اس گفتگو پر۔ "میں کبھی بھی بہو کے سامنے اس انداز کی گفتگو نہ کرتی، اگر تمھارے ارادوں کا پتہ نہ چلتا، اس وقت یہ نشتر لگانے پڑے تاکہ جاگ جاؤ۔ میڈیا تمہاری غیرت کو سلانا چاہ رہا ہے، آج میری باتیں تمھیں بری لگ رہی ہیں، کل تم میڈیا سے ہو کر آجاتے تو کہتے سب چلتا ہے ماما جی۔ بیٹا شرم کی پرت بہت ہلکی سی ہوتی ہے، ایک بار ایک کے لیے اترے ناجائز طریقہ سے تو پھر عادی ہو جاتی ہے ہر جگہ اترنے کے لیے۔ اس کی پہلے مرحلے پر ہی حفاظت کرلو تو تمھاری نسلیں تک محفوظ ہو جائیں گی۔"

بڑی امی آبدیدہ ہوگئیں تو شایان اور راحمہ دونوں ان کے اردگرد گرد بیٹھ گئے۔ "ماما جی جیسے آپ نے سمجھایا، کاش ایسے سب مائیں پہلے مرحلے پر روک لیں تو آج کوئی میڈیائی جوکر کسی کے گھر میں نقب نہ لگا سکے۔ پورا پاکستان میرا گھر ہے میں اسے بچانے کی کوشش کروں گا ان شاء اللہ۔ شایان نے عزم کیا تو راحمہ نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ اور ان دونوں کے ہاتھ کے اوپر بڑی امی کا ہاتھ تھا، کمزور صحیح لیکن اتنا دم تھا کہ اپنی نسل کی حفاظت کر سکتا تھا۔