اسلام ہی انسانیت کی آخری امید ہے، غیر مسلم سیاستدان کا اعتراف

بدھا پسٹ : ہنگری کے غیر مسلم سیاستدان نے اسلام کی آفاقیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کے اندھیروں میں روشنی پھیلانے کیلئے اسلام ہی انسانیت کی آخری امید ہے۔یہ بات ہنگری کی سیاسی جماعت جوبیک موومنٹ کے صدر گوبر وونا نے ترکی کے دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

مختلف یونیورسٹیوں کا دورہ کرتے ہوئے اپنی گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ان کی پارٹی کا اسلامو فوبک یا دائیں بازو کی یورپی جماعتوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔جابیک موومنٹ کے صدر نے بتایا کہ ترک معاشرے میں جو خاندان کی محبت، روایت کا احترام اور حب الوطنی کے مضبوط جذبات میں ڈوبا ہوا ہے، ہنگری کے لئے ایک بہترین مثال ہے۔

وونا کا مزید کہنا تھا کہ وہ اسلام سے بے حد متاثر ہیں، ان کی ذاتی زندگی اسلام اور مسلمانوں سے اس لیے متاثر ہے کہ وہ اپنے مسلمان دوستوں اور ساتھیوں سے ملتے رہے ہیں، مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کی شادی میں ایک گواہ بھی فلسطینی تھا۔

واضح رہے کہ ہنگری کے حالیہ پارلیمانی انتخابات کے دوران سیاسی جماعت جاببک موومنٹ نے قومی اسمبلی میں 47 نشستیں حاصل کرکے مجموعی طور پر16.67 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ رسول اللہ کی سنت اور سیرت اور صحابہٴ کرام کی زندگی انسانیت کے احترام اس کے حقوق کی حفاظت اور انسانیت پسندی کا اعلیٰ نمونہ ہے خود حضور صلى الله عليه وسلم لوگوں سے فرماتے تھے کہ ”اگر میں نے کسی پر ظلم کیا ہے تووہ اس کا بدلہ لے لے، خلفاء راشدین بھی اسی نہج پر روبہ عمل رہے۔

اسلام میں امن وامان، انسانیت کے احترام اور اس کے حقوق کی حفاظت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، لہٰذا اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنا ایک غیر معقول بات اور غیرمنصفانہ عمل ہے اور ایک عالمگیر مذہب اور اس کے ماننے والوں کی صریح حق تلفی ہے۔