معجزۂ شقُ القمر کا کھلی آنکھوں‌ سے مشاہدہ کرنے والا بادشاہ

ایک مشہور روایت ہے کہ چیرامن پیرومل نے شقُ القمر کا کھلی آنکھوں سے مشاہدہ کیا تھا۔ یہ وہ معجزہ ہے جس کا ذکر قرآن حکیم میں‌ موجود ہے۔تاریخی حوالوں میں لکھا ہے کہ چیرا قدیم زمانے سے بادشاہوں کا لقب چلا آرہا ہے۔

اللہ کے آخری نبی حضرت محمد ﷺ سے جب مکہ کے مشرکین نے معجزہ دکھانے کو کہا تو کائنات نے چاند کا بٹ جانا دیکھا اور وہ لوگ جن کو توفیق ہوئی انھوں نے اسے مانا جب کہ بدبخت اور نامرادوں نے اس کا انکار کردیا۔ کہتے ہیں خطۂ ہند کے فرماں روا نے یہ منظر دیکھا اور ششدر رہ گیا۔ اس نے نجومیوں سے دریافت کیا کہ یہ کیا انہونی ہوئی، لیکن وہ اس کی توجیہہ اور سبب بیان نہ کرسکے۔

ملابار اور ہندوستان کے دیگر علاقے اس زمانے میں بھی تجارت کے لیے مشہور تھے اور یہاں عرب تاجر بھی آتے رہتے تھے۔ ان راستوں سے گزرنے کے لیے وہاں کے بادشاہ کی اجازت درکار ہوتی تھی اور انہی کی زبانی چیرامن پیرومل کو رسولِ اکرم ﷺ معجزۂ شقُ القمر کا علم ہوا۔ تب وہ آقائے دو جہاںﷺ کے دربار میں حاضری کا مشتاق ہوا اور ایک روز اس غرض سے حجاز روانہ ہوا۔

روایات کے مطابق یہ بادشاہ حضرت محمدﷺ کے لیے اپنے ساتھ ادرک کا اچار لے کر گیا تھا اور وہاں جاکر اسلام قبول کرلیا تھا۔

بعض محققین نے لکھا ہے کہ چاند کو ٹکڑے ہوتا دیکھنے والا مالدیپ کا بادشاہ تھا، جس کے شہر مالی کو ملابار سمجھا جاتا رہا۔ کہتے ہیں کہ اسلامی تواریخ کے علاوہ دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے محققین نے بھی اس روایت کا اپنی کتب میں ذکر کیا ہے۔ اسی بادشاہ کے حکم پر کیرالا میں ایک مسجد بھی تعمیر کی گئی تھی جو آج بھی موجود ہے۔