خواتین میں ظاہر ہونے والی ہارٹ اٹیک کی علامات

دل کا دورہ (ہارٹ اٹیک) ایک ایسا مرض ہے جس میں فوری طبی امداد فراہم نہ کرنے پر مریض کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔ماہرین کافی عرصے سے دل کا دورہ پڑنے کی وجوہات تلاش کرنے میں لگے ہوئے تھے تاکہ انسان کو سنگین دورے (ہارٹ اٹیک) سے قبل ہی آگاہی ہوجائے اور وہ کچھ امداد کرسکے، کیونکہ دل کا دورہ دنیا بھر میں اچانک موت کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

تحقیقاتی ماہرین کے مطابق خواتین اور مردوں میں دل کا دورہ پڑنے کی علامات مختلف ہوسکتی ہیں، اس مضمون میں ہم 6 علامات بتائیں گے جو ہارٹ اٹیک کے وقت صرف خواتین میں ظاہر ہوتی ہے۔

ٹھنڈا پسینہ :

ماہرین کا کہنا ہے کہ دل کا دورہ پڑنے سے قبل خواتین کو ٹھنڈا پسینہ آنا بنیادی علامت ہے ایسی صورتحال میں فوری ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے کیونکہ ممکن ہے یہ اعصابی تناوٓ سے جڑا ہو۔

سینے میں درد اور گھٹن :

دل کے دورے کے دوران سینے میں درد ہونا بنیادی علامت ہے لیکن یہ درد سینے کے بائیں طرف ہوتا ہے اور دونوں جنسوں میں یہ علامت یکساں ہے لیکن خواتین کے دائیں جانب اور سینے کے درمیان میں بھی درد ہوسکتا ہے جبکہ پورے سینے میں بھی درد کی شدت محسوس ہوسکتی ہے لہذا ایسی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر کو دکھانا چاہیے۔

کمر، گردن، جبڑا اور بازو میں درد :

کمر، گردن اور جبڑے میں درد بھی دل کے دورے کی علامات میں سے ایک ہے جو خواتین کو کنفویز کرسکتے ہیں، یہ درد اچانک شدید ہوسکتا ہے اور دھیما بھی ہوسکتا ہے جبکہ بائیں بازو میں درد ہونا مرد و خواتین دونوں میں ہارٹ اٹیک کی یکساں علامت ہے لیکن خواتین کے دائیں بازو میں بھی درد ہوسکتا ہے۔

اگر ان میں سے کوئی بھی علامت ظاہر ہو فوری ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے۔

سانس اکھڑنا اور نیم بے ہوشی :

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ سانس چڑھنا یا اکھڑنا دل کی شریانوں کے بند ہونے کی علامت ہے۔

معدے پر تیز دھار درد :

دل کا دورہ پڑنے والا ہے یہ معدے میں تیزابیت سے ظاہر ہوجاتا ہے، بہت سی خواتین معدے پر بھاری بوجھ محسوس کرتی ہیں، تحقیق کاروں نے مشورہ دیا کہ ایسی صورت میں خواتین کو فوری معالج سے رابطہ کرنا چاہیے تاکہ مرض کی درست تشخیص ہوسکے۔

شدید تھکاوٹ :

بعض اوقات خواتین سوکر اٹھنے کے بعد بھی شدید تھکاوٹ محسوس کرتی ہیں، اگر ایسی صورتحال کا سامنا ہے تو یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ دل خون کا درست طریقے سے پمپ نہیں کررہا۔ جو دل کا دورہ پڑنے کی علامت ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */