میرے پاس تم ہو کا تنقیدی جائزہ - رمانہ عمر

اے آر وائی چینل پر پیش کیے جانے والے ڈرامے ''میرے پاس تم ہو'' کو سال رواں کا مشہور ترین ڈرامہ گردانا جائے تو بےجا نہ ہوگا۔ اس ڈرامے نے شہرت، شدید تنقید، پسندیدگی اور ناپسندیدگی کے ملے جلے ردعمل، شدت سے اگلی قسط کا انتظار، بے پناہ تجسس اور کرداروں سے ہمدردی اور نفرت، یہ سب احساسات اکٹھے ہی سمیٹ لیے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ رائٹر خلیل الرحمن قمر, پروڈیوسرہمایوں سعید اور شہزاد نصیب، ہدایت کار ندیم بیگ اور اداکار ہمایوں سعید، عائزہ خان، عدنان صدیقی وغیرہم، سب ہی اپنی کارکردگی کو منوا چکے۔

کہانی کی کامیابی کی ایک علامت یہ ہے کہ قاری یا ناظر کرداروں سے شدید ہمدردی یا شدت کی نفرت محسوس کرنے لگے, اور نہ چاہتے ہوئے بھی انجام کو منطقی اور درست ماننے پر مجبور ہوجائے۔ اس ڈرامے نے ناظر کو ہر لمحے اپنے ساتھ لے کر چلنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

اگرچہ اس کی پہلی قسط اگست میں آئی مگر مجھ تک اس کی اطلاع نومبر میں پہنچی۔ جب سوشل میڈیا پہ اس کا بارہا ذکر پڑھا تو مارے تجسس کے ایک قسط دیکھی۔ اس ایک قسط کے بعد رکنا ممکن نہ رہا اور یوں پوری اٹھارہ اقساط دیکھ لیں۔ اٹھارویں قسط تک میں سوچتی رہی کہ ڈرامائی تشکیل میں کوئی رخنہ نظر نہیں آتا مگر کہانی ایک انتہائی حساس موضوع کو لے کر چلی ہے۔ عورت کو بہت گھناؤنے روپ میں دکھایا گیا ہے، اور یہ موضوع اگر زبان زد عام ہو گیا جیسا کہ اب ہو رہا ہے تو یہ نہ معاشرے کے لیے کسی خیر کا باعث ہوگا اور نہ ہی عورت کی ذات کے لیے جو کہ فطرتا وفا شعار اور بچے کے لیے دن رات ایک کرنے والی ہوتی ہے۔

اس ڈرامے کا مرکزی کردار دانش حلال کمانے والا، قناعت پسند، فیملی سے محبت کرنے والا، بیوی کو شدت سے چاہنے والا اور اپنی عورت کے لیے غیرت مند انسان دکھایا گیا ہے۔ جس کی بیوی دن دہاڑے اس سے بے وفائی کرتی ہے۔ بارھویں قسط تک شہوار کے منفی کردار نے اپنے پنجے مضبوطی سے گاڑ لیے جسے تمام تر حرام کاموں میں ملوث دکھایا گیا ہے۔ مجھے سخت اعتراض اس بات پر ہے کہ کیا ضروری تھا کہ ہر دوسرے سین میں خاص اہتمام سے اس کے ہاتھ میں شراب کا جام دکھایا جاتا؟ شرابی کو اشارے کنایوں میں بھی دکھلایا جا سکتا تھا جیسا کہ پہلے ہمیشہ ڈراموں میں نوٹ کرتی رہی ہوں مگر اب توگلاس پر فوکس کر کے ساتھ میں ایک پیغام چلا دیا جاتا ہے کہ شرب نوشی حرام ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ شراب نوشی کو سگریٹ کی طرح عام انداز میں دکھانا مقصود ہے۔ کیا یہ ناظرین کو حرام کی قبولیت کی طرف خاموشی سے لے جانا نہیں؟ اس بات پر اگر سوال کیا جائے تو جواب یہ ملتا ہے کہ ''جی آج کل تو یہ بات عام ہے''۔

بہر کیف، ڈرامے کو کلائمکس تک لانے کے لیے عورت کی آشنائی کو کھلم کھلا اور بہت ہی غلیظ انداز میں دکھایا گیا۔ بیوی شوہر کو دھوکا دیتی ہے اور پورا دن آشنا کے ساتھ گزار کر رات کو اپنے گھر لوٹ آتی ہے۔ شوہر سے طلاق لینے کے بعد پانچ ماہ بغیر نکاح کےگزارتی ہے اور پھر ایسے ڈائیلاگ دکھائے گئے کہ ''نکاح میں تو طلاق ہوتی ہے محبت میں طلاق نہیں ہوتی'' ایسے گھٹیا جملے ایک منجھے ہوئے رائٹر کے قلم سے نکلتے ہوئے زیب نہیں دیتے۔

یہ درست ہے کہ آخر میں اس عورت کا انجام عبرت کی طرف جا رہا ہے، مگر میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ تھپڑ کے کلائمکس تک پہنچنے سے پہلے تک جو ڈھٹائی، بے شرمی، حرام کاری کی نمائش اور لفظ بوائے فرینڈ کی تکرار دکھائی گئی، وہ لوگوں میں اور گھروں میں موضوع بحث رہی اور نتیجتا معاشرے پر منفی اثرات چھوڑے گی۔ حیرت اس بات پر تھی کہ یہ الفاظ اس ڈرامہ نگار کے قلم سے نکل رہے ہیں، جس کا کہنا ہے کہ میں چالیس برس تک سوچتا اور پھر لکھتا ہوں اور یہ کہ معاشرے کی تربیت کرنا چاہتا ہوں۔

اسی میں ایک کردار اسکول ٹیچر کا ہے جو کہ مثبت ہے۔ اسے انیسویں قسط کے بعد بڑی سمجھداری کی باتیں کرتے دکھایا گیا ہے، مگر بچے سے اس کے باپ اور طلاق یافتہ ماں کے بارے میں کرید کرید کر باتیں کرنا اور اس کے باپ کی دوسری شادی کی باتیں کرنا، کیا کسی اسکول کی پروفیشنل ٹیچر کو زیب دیتا ہے؟ کیا واقعی پکی عمر کی عورت سات سالہ بچے کے مدعا کو سمجھ نہیں پا رہی جو اسی سے اپنے پاپا کی شادی کروانا چاہتا ہے؟ کہا جا سکتا ہے کہ یہ تو ڈرامہ ہے حقیقت نہیں ہے، اس لیے مبالغہ دکھایا گیا، لیکن یاد رکھیے کہ معاشرے کے ٹرینڈز کو میڈیا مسلسل بدل رہا ہوتا ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے کہ پہلے معاشرہ بدلا اور پھر میڈیا، بلکہ سچ یہ ہےکہ ہمارے انھی ڈراموں کی بدولت آج بوائے فرینڈ، گرل فرینڈ، شوہر پر شک، دوسری شادی، چھپ کر آشنائی جیسے رویے معاشرے میں قابل قبول ہوگئے ہیں۔

اس ڈرامے پر اپنی رائے بنانے اور یہ سب کچھ لکھنے سے قبل میں نے انتظار کیا کہ انجام تک دیکھ لیا جائے، کیونکہ کہانی کے درمیان میں اس پر تنقید شروع کر دینا مبنی بر انصاف بات نہیں ہے۔ بعض اوقات کلائمکس کے بعد کہانی مکمل طور پر مڑ جاتی ہے، اور ایسا ہی اس ڈرامے میں بھی ہوا۔ انیسویں قسط کے بعد کہانی کے بارے میں ناظرین کی رائے یکسر تبدیل ہو چکی تھی۔

آخری قسط تو ابھی منظر عام پر نہیں آئی ہے مگر کہانی مڑ چکی ہے۔ انیسویں اور بیسویں اقساط کے ڈائیلاگ سن کر اندازہ ہوا کہ مرکزی خیال کیا تھا اور بتانا کیا مقصود تھا۔ اسی قسط سے اندازہ ہونا شروع ہوا کہ رائٹر کا پیغام کیا ہے۔

مذہبی اور معاشرتی تاروں سے بندھا ہوا رشتہ اور اس پر اٹھنے والا سوالیہ نشان، یعنی کہ نکاح کے رشتے کے تقدس کو پامال کرنے اور طلاق لے کر کسی اور کے ساتھ چلی جانے والی عورت کا کردار، اس کا پچھتاوا، اس کا معافی مانگنا، یہ اصل کہانی ہے۔ اور سب سے گہرا تاثر یہ تھا کہ اس مرد پر کیا گزرتی ہے جو شوہر بھی ہے، باپ بھی اور اپنا گھر ٹوٹتا ہوا اپنی آنکھوں سےدیکھ رہا ہے۔ اس کا ردعمل، اس کا دکھ، جسے ہمایوں سعید نے بہترین اداکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پیش کیا۔

اپنے متعدد انٹوریوز میں خلیل الرحمن کہتے ہیں کہ میں نے عورتوں کو پیغام دیا ہے جسے وہ ساری زندگی یاد رکھیں گی، اور یہ کہ اس ڈرامے کوہر لڑکی ضرور دیکھے۔ تو لیجیے اب اصل پیغام کی طرف آتے ہیں جو رائٹر کے بقول ان کا مدعاے اصل تھا۔ انیسویں قسط میں ٹیچر کاایک جملہ تھا کہ ''میں شادی شدہ عورت کو ایسی غلطی کی اجازت نہیں دوں گی۔ اسے غلطی نہیں گناہ کہوں گی، کیونکہ نسلوں کی شناخت عورت کے رحم و کرم پر ہے۔“ اور یہ کہ ''آپ اس کی نہیں، خدا کی مجرم ہیں، کیونکہ وہ اسی کے بھروسے آپ کو چھوڑ کر جاتا تھا۔'' پھر اسی قسط میں دوست سلمان کہتا ہے کہ ''جب ہم نکاح کرکے اعلان کرتے ہیں تو گویا یہ بتا دیتے ہیں کہ اب ہم کسی دوسرے کے لیے میسر نہیں ہیں۔ اگر ہر کوئی اسی طرح غلطی کرکے معافی مانگ کے واپس آجائے تو یہ دنیا کیسے چلے گی۔''

یہاں جس طرح رائٹر نے ڈھکے چھپے نہیں بلکہ کھل کر نکاح کے مقدس رشتے اور عورت باحیثیت ماں کے کردار کو پیش کیا ہے، بلکہ سپورٹ کیا ہے، اس پر میں انھیں مبارکباد دیتی ہوں۔ اگرچہ میں جانتی ہوں کہ عورت نواز طبقوں کو اس پر شدید مرچیں لگی ہوں گی کہ ''صرف عورت ہی کیوں؟'' اسی سوال کا جواب ان اقساط میں منجھے ہوئے ڈائیلاگز کی صورت میں آیا ہے۔ ہر جملہ گویا نگینے کی طرح اپنے مقام پر فٹ ہے اور میں نے یہ بھی محسوس کیا ہے کہ دانش کے ساتھ انتہائی ہمدردی اور مہوش سے شدید بغض پیدا ہونے کے باعث ناظر نے ہر جملے اور ہر نتیجے کو بلا چوں چرا ہضم کر لیا، اور دل میں کہا کہ اس کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے تھا۔

ایک اور نکتہ یہ پسند آیا کہ کرپشن کو نو کہنے والے اور باپ کی تربیت کے نتیجے میں حلال کھانے والے شخص کو بہت بری سہنی پڑی، مگر بہرحال جو پیسہ اس کے نصیب میں تھا، وہ اسے ملا۔ جبکہ پیسے کی چمک کے پیچھے بھاگنے والی منہ کے بل گر گئی۔ عزت، پیسہ، زندگی، رشتے، چاہتیں، کچھ اس کے پلے نہ رہا۔ یہ بھی ایک بہت مثبت اور مضبوط پیغام تھا۔ قناعت کو ہاتھ سے چھوڑتی سوسائٹی کو یہ زاویہ دکھانا بہت ضروری تھا۔

لیکن پھر بیسویں قسط سے یہ کنفیوژن شروع ہوئی کہ پچھتانے والی عورت کو معافی مل سکتی ہے کہ نہیں؟ سچ کہوں تو مجھے اس بےتکے پن کی وجہ سمجھ نہ آسکی۔ یہ پچھتاوے کو اس قدر بڑھاوا کیوں دیا گیا ہے؟ کیا رائٹر کا مدعا یہ ہے کہ طلاق بائن کے بعد عورت کو پلٹنے کا آپشن لیتے دکھایا جائے، جس کی اسلام میں گنجائش ہی نہیں۔ ایک ایسے دروازے کو کھولنے کی صلاح دی جا رہی ہے جسےکھولنے کی اجازت ہے نہ ایسی کوئی ریت موجود ہے۔ دوست سلمان اور اس کی بیوی صلاح دیتے ہوئے کیا اس بات سے لاعلم ہیں؟

جس طرح نکاح کی رسم جب اسلام کے بتائے ہوئے طریقے سے انجام پاتی ہے، تب ہی قانونی طور پر بھی نکاح قائم ہوتا ہے، اسی طرح طلاق کا بھی دینی اور قانونی طریقہ موجود ہے۔ جس پر کنفیوژ کرنے کے بجائے اسے تسلیم کرنا چاہیے۔ مثلا یہ کہ طلاق واقع ہونے اور عدت گزر جانے کے بعد اب سابقہ میاں بیوی میں رجوع کی گنجائش ہی نہیں۔ تو پھر معافی تلافی اورپلٹنے پر کنفیوژن کیوں دکھائی جارہی ہے؟ ہاں انسان سوچتا ہے، پچھتاتا بھی ہے مگر قانونا جب اختیار ہی نہیں ہے تو کیا سوال؟

بیسویں قسط میں دانش اس سوال پر کہ تم معاف کیوں نہیں کر سکتے، یہ کہتا ہے کہ شرک تو خدا بھی معاف نہیں کرتا۔ یہ ایک ذاتی نقطہ نظر ہے جو کہ رائٹر نے اپنے انٹرویو میں بھی بیان کیا تھا۔ یہ ان کی ذاتی رائے ہے جس سے اختلاف یا اتفاق کیا جا سکتا ہے۔ بہرحال مذہبی لٹریچر میں کہیں بھی یہ بات یا اس کا اشارہ تک موجود نہیں ہے کہ مخلوق کا خالق کی ذات میں شرک کرنے اور بیوی کے شوہر کے ساتھ بے وفائی کرنے یعنی دوسرے مرد سے ناجائز تعلق قائم کرنے کے عمل میں کوئی مماثلت ہے۔ یا یہ بات کہنا کہ مرد خدا کی صفت کا پرتو رکھتا ہے اور شراکت برداشت نہیں کر سکتا۔ اس بات کی بھی کوئی اصل نہیں۔ شرک جیسے گناہ کو ظلم عظیم کہا گیا ہے، اور مشرک اگر شرک کرتا ہوا اس دنیا سے گیا تو اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ البتہ شرک سے توبہ کر لینے اور توحید پر پلٹ آنے والے کی توبہ قبول ہوجاتی ہے، جس طرح کسی بھی دوسرے بڑے سے بڑے گناہ کی توبہ سچے دل سے معافی مانگنے سے قبول ہوتی ہے۔ جبکہ یہاں جو گناہ دکھایا گیا ہے، وہ شادی شدہ عورت کا زنا کرنا ہے۔ ایسی عورت اور اس کے ساتھ زنا میں ملوث شادی شدہ مرد، دونوں کی سزا اسلام میں سنگساری ہے۔ اسلام اس سزا میں دونوں کو شامل کرتا ہے، صرف عورت کو نہیں۔ جبکہ ڈرامے کی تھیم میں یوں دکھایا گیا ہے کہ بدکردار مرد یعنی شہوار تو بیوی سے معافی پا لیتا ہے مگر مہوش کو معافی نہیں ملتی۔ جس بدکرداری میں دونوں شامل تھے، اسے فوکس ہی نہ کیا گیا، بلکہ بے وفائی کو اصل مسئلہ بتایا گیا ہے۔ یہ اتنا سخت فحش عمل ہے کہ اس سزا کو کھلےعام دینے کا حکم ہے۔ لیکن وہ مرد جس نے اپنی بیوی پر اس کا الزام رکھا اور پھر طلاق بھی دے دی، وہ دونوں بہرحال کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے سوائے حلالہ کے۔

اس تفصیل میں جانے کا مقصد محض یہ ہے کہ اتنے نازک معاملات کو ڈرامائی رنگ دے کر گڈمڈ نہ کیجیے، اس سے نئی نسل بہک جائے گی۔ کوئی کہے گا معاف کردینا چاہیے، کوئی کہے گا کبھی معاف نہ کرو۔ یہ غیرت کا مسئلہ تو ہے ہی لیکن اس سے پہلے اللہ کی حدود کا مسئلہ بھی ہے، جو بہت سخت بات ہے۔ خلیل قمر صاحب منجھے ہوئے رائٹر ہیں۔ بہت گہرا اور بے باک لکھتے ہیں۔ سچ سے عشق رکھتے ہیں۔ میری ان سے یہی درخواست ہے کہ اسلام کے مسلمہ اصولوں میں دراڑ نہ ڈالیے۔ وہ خود کہتے ہیں کہ میں قرآن کو بہت بار پڑھ چکا ہوں، تو آپ سے درخواست ہے کہ یاد رکھیے! آپ کا لکھا ہوا ہر لفظ اور ڈائیلاگ معاشرے پر اثرات چھوڑے گا اور میزان میں تولا جائے گا۔

ایک انٹرویو میں ہمایوں سعید سے جب پوچھا گیا کہ اس ڈرامے کو گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر نہیں دیکھ سکتے، حتی کہ شوہر کے ساتھ بھی دیکھنے میں برا محسوس ہوتا ہے۔ جملے اس قدر بے باک ہیں کہ عورت کو خود شرم آتی ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ پھر آپ کسی کے ساتھ نہ دیکھیں۔ اب اگر رائٹر ، ڈائریکٹر اور ایکٹر سب یہی نقطہ نظر رکھتے ہیں کہ ناظرین ایسے ڈراموں کو اکیلے اکیلے دیکھ لیا کریں، تو اس پر سر ہی پیٹنا چاہیے۔ یعنی کہ آپ کھلا ڈلا لکھیں اور پیش کریں، جبکہ ہم کانوں میں ہیڈ فون لگا کر گویا چوری چھپے آپ کی پیشکش کو دیکھیں۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر اصولی طور پر ڈراموں کی بھی پی جی پلس ریٹنگ ہونی چاہیے۔

ہم تو اب اسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ بچوں کے ذہنوں کو خراب ہونے سے بچانا ہے تو انہیں موجودہ چینلز کے ڈراموں سے ممکنہ حد تک دور رکھیں۔ ہم اس بات کو بجھے دل سے تسلیم کر چکے ہیں کہ پچھلی نسل کے جن بچے بچیوں نے فاطمہ ثریا بجیا، حسینہ معین، نورالہدی شاہ اور بانو قدسیہ جیسے رائٹرز سے ہلکی پھلکی تفریح کے نام پر زندگی کے گہرے اور مثبت اسباق سیکھ لیے تھے، ان کے بچے اب اس طرح کے مواد سے محروم ہو چکے ہیں۔ چینل بہت ہیں، ڈرامے بہت ہیں، ریٹنگ اونچی اونچی ہے، گلیمر ہے اور کھلی زبان ہے۔ کہیں تشدد ہے، کہیں عصمت دری کے سین ہیں تو کہیں بغیر شادی کے ساتھ رہنے والے جوڑے کو دکھایا جا رہا ہے۔

میڈیا کس سمت میں رواں ہے، یہ اب بالکل عیاں ہے، لیکن نوجوانوں کی تربیت کرنے کا دعوی رکھنے والے رائٹرز کے قلم سے توقعات وابستہ ہو ہی جاتی ہیں۔ اور پھر بائیس تئیس قسطیں صبر سے دیکھنے والوں پہ اتنی ذمہ داری تو بنتی ہے کہ اپنی رائے پہنچائیں۔ آگے جو چاہے آپ کو حسن کرشمہ ساز کرے۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • ڈرامہ ٖ دیکھا تونہیں ہے ۔ لیکن یہ تبصرہ اچھا لکھا گیا ہے۔ یہاں اضافہ کروں گی کہ حلالہ ٖکی کو ئ شرعی حثیٖت نہیں ہے اسلام میں _

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */