میرے پاس کون ہے؟؟ - عالیہ زاہد بھٹی

گھر سے نکلی تو راستے میں سبزی لیتی ہوئی خالہ حمیدہ سے سلام دعا کی حال چال پوچھ کر گزرنے لگی تو سبزی فروش کی بات پر چونک گئ جو کسی اور خالہ جان کو سبزی دیتے ہوئے اپنے نادر خیالات کا اظہار کر رہا تھا کہ " ارے آج کل تو جیب میں روپے نہ ہوں تو جورو بھی ساتھ نہ دے آپ بات کیا کر رہی ہو خالہ "

، وہ ڈرامہ نہیں دیکھ رہی ہو آپ " تم میرے پاس ہو " خالہ نے کیا جواب دیا کیا کہا میں آگے نکل آئی تھی مگر دور تک وہ جملے گونجتے رہے گویا کانوں میں جیسے وہ جملے اٹک کر رہ گئے . یونیورسٹی پہنچتے ہی سیمینار روم 2 کا رخ کیا آج 3 سیکشنز کا کمبائن سیشن لینا تھا روم میں داخل ہوتے ہی اسٹوڈنٹس کے خیر مقدم پر جوابی سلامتی دیتے ہوئے روسٹرم کی طرف آ کر روٹین ورک شروع کیا لیکچر کے دوران میری نگاہ ایان کی طرف اٹھی اور اسے گم صم پین ہاتھ میں پکڑے نگاہیں کتاب پر بے دلی سے جمائے دیکھ کر بے ساختہ پکار بیٹھی . " ایان ، کیا بات ہے بیٹا آج آپ گروپ ڈسکشن میں حصہ نہیں لے رہے ؟ " " میم ان کی فرینڈ ان کو چھوڑ کر چلی گئ ہے " ، ساتھ ہی پیچھے سے ایک آواز آئی اور کلاس میں ایک زور دار قہقہہ ابھرا " اوہو تو کیا ہوا شکر کرو فرینڈ تھی یہاں تو بیویاں چھوڑ کر بھاگ جاتی ہیں " دوسری جانب سے آواز آئی اور اس سے بھی زیادہ زور دار ہنسی ".... " یہ کیا بدتمیزی ہے دانیال بی ہیو " میں نے سرزنش کی...... بیوی کے متبرک رشتے کے بارے میں ایسے نہیں بولتے ،

یہ تو اللہ پاک کو گواہ بنا کر با وفا ترین تعلق ہے اس کے حوالے سے ایسے نہیں کہتے " " میم آپ نے کل "میرے پاس تم ہو " کی ایپی سوڈ نہیں دیکھی ہمایوں سعید کی بیوی عدنان صدیقی کے ساتھ بھاگ گئ " ایک بار پھر ہنسی میں ایک بار پھر چکرا گئ گلی محلے سے یونیورسٹی تک ایک ہی موضوع ، ایک مقدس رشتے پر تہمت ، الزام یہ معاشرے کو کس طرف لے جایا جا رہا ہے ، ؟ میرا موضوع تھا آج " آئڈیالوجی آف پاکستان " اور اسٹوڈنٹس کی باتیں اس کے سراسر متضاد تھیں جو میں پڑھانے لگی تھی میں نے ایک فیصلہ کیا اور پراجیکٹر پر چلتی سلائڈز روک کر سارا سلسلہ روک دیا ، کیونکہ کوئی میرے بچوں کی سوچ کی جڑیں کھوکھلی کر رہا تھا اور اس کھوکھلی بنیاد پر آئڈیالوجی یعنی نظریہ کی عمارت تعمیر کرنا خطرناک تھا ، اس ڈرامے پر بات کرنے کا میرا ہر گز کوئی ارادہ نہیں تھا مگر اب لگا کہ نظریہ پاکستان کی حفاظت میں اس ڈرامے کے زہر کا تریاق اس وقت اہم ترین کام ہے " اچھا تو یہ بتائیں کہ ڈرامے میں جو کچھ دکھایا جارہا ہے کیا وہ پاکستان میں ہو رہا ہے ؟

آپ کی ماما آپ کے بابا کو چھوڑ کر چلی گئیں ؟ " میرے اس انتہائی تلخ سوال پر سب کے ہنستے چہرے متغیر ہو گۓ " کیا ، یہاں کسی کی خالہ ، پھپھو ، چچی ، تائی ، آپی ، باجی ، مامی اپنے اپنے شوہر حضرات کو چھوڑ کر چلی گئیں " ؟ میں نے بمباری کا سلسلہ جاری رکھا سب کی آنکھیں پھٹی رہ گئیں اور چہرے فق کچھ دیر پہلے کی ہنسی مفقود تھی " میرے بچو یہ نظریاتی مملکت ہے اس کی جڑوں میں نقب لگانا اتنا آسان نہیں . تم ایسے جھوٹ پر مبنی کتنے ہی ڈرامے گھڑ لو اس مملکت کے ماڈ سے ماڈ گھرانے کی مردوں سے آزادانہ دوستیاں رکھنے والی مغرب زدہ بچیاں بھی جب ساری زندگی کے ساتھ کی بات کرتی ہیں تو پہلے " نکاح " کے بندھن میں بندھے بغیر رات دن گزارنے کا تصور بھی نہیں کرتیں ، یہ الگ بات کہ ان کو نکاح کے جھانسے میں رکھ کر کوئی فریب دے جائے تو اس کے بعد بھی ایسی عورتوں سے ریڈ لائٹ ایریاز تو بھرے ہوئے ہیں مگر گھروں اور خاندانوں میں ان کا وجود اور رسائی اس ڈھٹائی سے نہیں ہے ، جس کا پرچار اس ڈرامے میں کیا جارہا ہے .

میرے بچوں اپنے کلچر اور اپنی اقدار کو یہ چند ٹکوں میں بکنے والے ڈراموں کے ہاتھوں فروخت نہ کرو تم لوگ دیگر اقوام سے ممتاز ہو کہ تمہاری بنیاد نظریے پر ہے وہ نظریہ ہے "اللہ کی ماننا" اور جو اللہ کی ماننے والے ہوتے ہیں وہ وقتی طور پر راہ سے ہٹ بھی جائیں ان کی بنیاد ان کو اپنی طرف کھینچتی رہتی ہے تم لوگ خود کو جج کر لو ابھی کتنے مزے سے تم لوگ ڈرامے کی غلط روش پر مزے سے ہرزہ سرائ کر رہے تھے مگر جیسے ہی میں نے تمہارے گھر کی عورتوں کے نام لئے تم سب کے چہروں سے ہی ناپسندیدگی ہویدا تھی یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ یہ ہمارے گھروں اور دلوں کا حصہ نہیں ہے،ہاں بنانے کی کوشش کی جارہی ہے اس سے بچو اور دوسرے لوگوں کو بھی بچاؤ"میں نے جیسے ہی بات ختم کی آواز آئی"اس طرح کے ڈراموں کے خلاف آواز اٹھانے کی کوشش کریں" "ان ڈراموں کا بائیکاٹ کریں"اس طرح کی تجاویز کا ڈھیر لگ رہا تھا اور میں اپنے بچوں کے نظریات کی حفاظت کے لئے رب سے دعا گو تھی آپ کو بھی دعا سے ہٹ کر عملی طور پر ساتھ دینا ہوگا ، پھر تیار ہیں ناں آپ؟؟؟؟؟؟؟؟؟

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • اے آر وائی ڈیجیتل کے ڈرامے ,, میرے پاس تم ہو،، پرمختلف تبصرے دلیل میں پڑھنے کے بعد یہ اندازہ ہوا کہ الحمد للہ ابھی بھی ہمارے معاشرے میں شر کےخلاف مزاحمت کا جذبہ اور برائی سے نفرت موجود ہے، ورنہ میڈیا نے تو کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی پاکستانی معا معاشرے کو بے حس اور بےحیا بنانے میں ۔، میرے پاس تم ہو پر تبصرہ کرنے والے مختلف رائٹرز جیسے رمانہ عمر اورقدسیہ ملک اور عالیہ زاہد بھٹی نےبہت اچھے نکات اٹھائے ہیں اپنی تحریروں میں ۔ایک بات میں بھی بیان کر نا چاہوں گی کہ آج کا مرد خواہ وہ باپ ہو، بیٹا یا بھائی یا پھر کسی کا شوہر... آخر کیوں اس قدر آذاد خیال،.ماڈرن اور روشن خیال,, حقیقت میں بے غیرت،، ہو گیا ہے کہ اپنی بہن یا بیوی یا والدہ کے ساتھ شادی کی تقریب میں سب کے سامنے رقص کرنا شروع ہوجاتا ہے۔ایسی ہی محفلوں میں شہوار جیسے بھیڑیے موجود ہو سکتے ہیں جو اپنی دولت اور طاقت کے بل بوتے پر دوسرے کی عزت پر شب خون مارتے ہیں. بےشک آج بھی پاکستانی معاشرے کی عورت اتنی مضبوط ہے کہ وہ ایسی ترغیبات کا مقابلہ کر سکتی ہے۔مہوش جیسی گھٹیا کردار کی عورتیں کم ہی نظر آئیں گی لیکن لالچ اور گناہ کے اس دروازے کو پہلے ہی مرحلے پر بند کیوں نہ کر دیا جائے ۔کیا ہمارا دین ہمیں نامحرموں کے ساتھ خلط ملط ہونے سے نہیں روکتا؟ کیا ایک لڑکی باحجاب رہتے ہوئے اعلی تعلیم حاصل نہیں کر سکتی؟ کیا ایک باپ، بھائی اور شوہر قرآن و سنت کی روشنی میں اپنی بیٹی، بہن اور بیوی پر یہ ا ختیار نہیں رکھتا کہ اسے باپردہ رہنے کا حکم دے سکے؟ لیکن آج کے اس روشن خیال دور میں یہ سب باتیں شاید دقیانوسی ہو چکی ہیں ۔جب ہی تو ، آج میرے پاس تم ہو جیسے ڈراموں کو اتنی. پذیرائی مل رہی ہے ۔حلال روزی کمانے والا دانش اگر اپنی حسین بیوی کے ساتھ سرعام محفل میں ناچنے کے بجائے خاموشی سے بیٹھا رہتا تو اس کی بربادی کا آغاز نہ ہو تا۔یا پھر بیوی کو پہلے ہی قدم پر ملازمت کرنے سے روک دیتا تو ایک امیر آدمی کے ہاتھوں اپنا گھر برباد ہونے سے بچا سکتا تھا ۔مہوش سے کہیں زیادہ خوبصورت لڑکیاں ہیں جو اپنے کم آمدنی والے شوہروں کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں ۔اس ڈرامے میں ایک ماں کے کردار کو بھی ٹھیس پہنچائی گئی ہے ۔ایک عورت جب ماں بن جاتی ہے تو اپنے بچے کی خاطر ظالم اور جابر شوہر کے ساتھ بھی گزارا کر لیتی ہے لیکن یہاں تو ایک ایسی ماں دکھائی گئی ہے جو پر آسائش زندگی کے لیے اپنی اولاد کو بھی چھوڑ جاتی ہے، خیر ہمارے.معاشرے میں . ایسے چند استثناء پائے جاتے ہیں لیکن بہرحال یہ معاشرے کا عمومی رویہ نہیں ہے ۔آخر میں یہی کہنا چا ہوں گی کہ کفر چاہے کتنا ہی زور لگادےہم پر اپنے نظریات و خیالات نافذ کرنے کی لیکن ہمیں پوری قوت کے ساتھ اس کا راستہ روکنا ہے کہ یہ وطن پاکستان ہمارے بزرگوں نے ہزاروں قربانیاں دے کر اس لیے حاصل کیا تھا کہ اسے اسلام کا قلعہ بنائیں گے ۔ان شاء اللہ