یہ کیا خُرافات ہے- عبدالخالق بٹ

کُھلنا تھا اپنے عیب و ہنر کا بھرم کہاں
یہ بھی ہوا تو قافیہ پیمائی سے ہوا

’ تُک بندی‘ کا دوسرا نام ’قافیہ پیمائی‘ ہے۔اس مشق میں جہاں شاعر راہ نہ پا سکے اُس مقام کو ’قافیہ تنگ ہونا ‘ کہتے ہیں۔اس شوقِ قافیہ پیمائی نے شہر قُم کے قاضی کی چُھٹی کروا دی تھی۔کہتے ہیں صاحب بن عباد نے جو حکومتی وزیر اور اعلیٰ درجے کا ادیب تھا ایک مرتبہ شہر قُم کے قاضی سے کہا:

’ ایھا القاضی بقم، قد عزلناک فقُم ‘

عربی زبان میں ’قُم‘ کے معنی ہیں ’کھڑے ہوجاؤ‘ ۔ چنانچہ اس جملے کا مطلب ہوا ’ اے قم کے قاضی! ہم نے تمہیں معزول کردیا ہے، لہٰذا کھڑے ہوجاؤ‘۔اس کے بعد جب کبھی قاضی صاحب سے پوچھا جاتا کہ آپ کیو ں معزول کیے گیے ؟ تو وہ کہتے:

’ أنا معزول السّجع من غیر جرم و لا سبب‘

’ مجھے قافیہ پیمائی نے بے خطا و بلاسبب معزول کروا دیا ‘۔

جناب عیسیٰؑ مردے سے کہتے:’ قم باذن اللہ‘ یعنی ’اللہ کے حکم سے کھڑے ہوجاؤ‘ تو مردہ جی اٹھتا۔اسی رعایت سےعلامہ اقبال کی ایک نظم کا عنوان ’قم باذن اللہ ‘ ہے۔ اس نظم میں جہانِ نو کی تعمیر کے لیے اُٹھ کھڑے ہونے کا پیغام ہے۔’قُم‘ کا لفظ ’قوم‘ سے متعلق ہے۔عام طور پر ’قوم‘ کا اطلاق ہم مذہب، ہم نسل اور ہم زبان گروہوں پر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک دادا کی اولاد بھی ’قوم‘ کہلاتی ہے۔’قوم‘ سے پھوٹنے والے بہت سے الفاظ اردو میں رائج ہیں جیسے: ’ اقوام، قومیّت،قومی قومہ، قیام ، قیامت، قامت، قائم، قائمہ، قوّام، قِوام، قُم، قیّم، قیّوم، مقام،قائم مقام، اقامت، مقیم ، تقویم، استقامت، اور مستقیم‘ وغیرہ۔ان الفاظ میں بالواسطہ یا بلاواسطہ ’کھڑے ہونے‘ کا مفہوم بھی شامل ہے۔

آپ نے ایک اصطلاح اسٹینڈنگ کمیٹی (standing committee) سنی ہوگی۔اسے اردو میں ’قائمہ کمیٹی‘ کہتے ہیں۔لفظ ’قائمہ‘ کے معنی میں دوام داخل ہے۔ یعنی ہر طرح کےحالات و واقعات کی پروا کیے بغیر اپنی جگہ جم کر کھڑے رہنا۔اب ’ قائمہ کمیٹی‘ پر غور کریں آپ کو اس لفظ کے انتخاب پر پیار آجائے گا۔ حکومت بیٹھ جائے ، لیٹ جائے یا گھر بھیج دی جائے، سینیٹ کی ’قائمہ کمیٹی‘ اپنا کام انجام دیتی رہتی ہے۔’قائمہ‘ کی نسبت سے 90 ڈگری کا زاویہ بھی ’زاویۂ قائمہ‘ کہلاتا ہے۔اسے جیومیٹری سے دلچسپی رکھنے والے بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔چونکہ ہمارا جغرافیہ اور جیو میٹری دونوں کمزور ہیں اس لیے ایک شعر ملاحظہ کریں اور آگے بڑھیں:

ظہورِ زاویۂ قائمہ سے ہے ثابت
یہ کائنات ہے علمِ حساب کی زد میں

سوال کیا جا سکتا ہے کہ جب اسٹینڈنگ کا ترجمہ ’قائمہ‘ کیا ہے تو’کمیٹی‘ کا ترجمہ کیوں نہیں کیا کہ یہ لفظ بھی انگریزی کا ہے۔ہمارے مطابق یہ سوال ’قائمہ کمیٹی‘ سے پوچھا جائے تو بہتر ہے۔ کیونکہ یہ سرکاری معاملات ہیں اور کارِ سرکار میں مداخلت جرم ہے۔ویسے فارسی زبان میں کمیٹی کو ’ کمیتہ‘ کہتے ہیں۔وہ اس لیے کہ اس کا تعلق انگریزی committee سے نہیں بلکہ فرانسیسی Comité سے ہے۔ایک ’کمیٹی‘ ماہانہ بچتوں پر مشتمل ہوتی ہے۔جو محلوں اور دفتروں میں ڈالی جاتی ہے۔اہل کراچی کمیٹی کو B.C. بھی کہتے ہیں۔ B.C. ڈالنا اور B.C. کُھلنا جیسے محاورے اسی سے متعلق ہیں۔ پہلے پہل تو ہمیں B.C. کا لفظ مشکوک لگا مگر یہ جان کر شک جاتا رہا کہ B.C. ’بچت کمیٹی‘ کی ’شارٹ فارم‘ ہے۔ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر کمیٹی (B.C.) میں ایک کردار ایسا ضرور ہوتا ہے جو شامل تو آخر میں ہوتا ہے مگر کمیٹی اسے دوسرے نمبر کی چاہیے ہوتی ہے۔
بات قافیہ اور قائمہ کی حقیقت سے شروع ہوئی تو ’کمیٹی‘ کی خرافات میں الجھ گئی۔اس پہلے کہ آگے بڑھیں لفظ خرافات کی حقیقت جان لیں۔ اقبال کہہ گئے ہیں:

حقیقت خرافات میں کھو گئی
یہ امت روایات میں کھو گئی

’خُرافات‘ لفظ ’خُرافہ‘ کی جمع ہے۔اس کے لفظی معنی ’چُنا ہوا پھل‘ ہیں۔یہ اپنے لفظی معنی کے برخلاف اصطلاحی معنوں میں بولا جاتا ہے۔عربی زبان میں اس کے اصطلاحی معنی ہیں ’وہ بے سروپا بات جو سننے میں بھلی لگے‘ نیز ’جھوٹ، وہمی اور خیالی چیز‘۔ جب کہ اردو لغت’خُرافات‘ کے معنی ’بیہودہ گوئی، فضولیات اور بکواس‘ بتاتی ہے۔عربی اور اردو معنی میں بظاہر اختلاف کے باوجود دونوں میں ایک درجہ مناسبت موجود ہے۔’خرافات‘ اصطلاحی معنوں میں کیوں مشہور ہوا یہ دلچسپ قصہ ہے۔اہم بات یہ ہے کہ اس قصے کو بڑے محدثین نے بیان کیا ہے۔

روایت کے مطابق عرب میں قبیلہ بنو عذرہ کا ایک شخص ’ خُرافہ‘ نام کا تھا۔ خُرافہ کو جنات اٹھا کر لے گئے اور وہ ایک عرصے تک جنوں کے درمیان رہتا رہا۔ کچھ مدت بعد جن اُسے لوگوں کے درمیان واپس چھوڑ گئے۔خُرافہ اپنے قیام سے متعلق عجیب و غریب واقعات بیان کرتا جنہیں لوگ حیرت سے سنتے تھے۔ بعد کے لوگوں نے ہر حیرت انگیز قصے کو ’حدیث خُرافہ‘ یعنی خرافہ کی باتیں کہنا شروع کردیا۔آنے والے زمانے میں عجیب و غریب باتیں ’خُرافات‘ کہلانے لگیں یہاں تک اردو میں اس کو فضولیات کے مترادف کا درجہ حاصل ہو گیا۔

ویسے الفاظ کا اپنے اصل معنی یا مفہوم سے گر کے اسفل معنی تک پہنچ جانا نئی بات نہیں ہے۔ کتنے ہی الفاظ، القاب اور خطابات ایسے ہیں جو دوسروں کی عزت کی خاطر خود بے توقیر ہوگئے۔ ’حلال خور‘ کی اصطلاح اس کی مثال ہے۔ ’حلال خور‘ کے لفظی معنی حق حلال کی روزی روٹی کمانے والا ہیں ۔مگر اصطلاح میں خاکروب، مہتر، بھنگی اور چوڑھا حلال خور کہلاتا ہے۔ ہندستانی معاشرہ مذہبی بنیادوں پر طبقات میں بٹا ہوا تھا۔ ایسے میں غلاظت اٹھانے اور خنزیر پالنے جیسے کام شودروں کے ذمہ تھے۔

کم ذات سمجھے جانے والے یہ لوگ عام طور پر مردہ جانور بھی کھاتے تھے اور اس نسبت سے انہیں ’ہلاک خور‘ یعنی مردار کھانے والا بھی کہا جاتا تھا۔ ایک روز مغل بادشاہ جلال الدین اکبر شاہی اصطبل کا معائنہ کررہا تھا کہ اس نے ان ’ہلاک خوروں‘ کو لید سے بھر ٹوکرے ڈھوتے دیکھا تو ان کی محنت سے متاثر ہو کر انہیں ’ حلال خور‘ کا نام دیا۔جب سے آج تک خاکروبوں کے لیے پکارے جانے والے ناموں میں ’حلال خور‘ بھی شامل ہے۔مگر انجام کار یہ کہ ’حلال خور‘ جیسا بامعنی لفظ خاکروبوں کی قدر افزائی تو نہ کروا سکا البتہ خود بے قدر ہو کر رہ گیا۔

بشکریہ اردو نیوز

Comments

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ گزشتہ دودہائیوں سے قلم و قرطاس کووسیلہ اظہار بنائے ہوئے ہیں۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی سے اسلامی تاریخ میں ایم۔اے کیا ہے۔اردو ادب سے بھی شغف رکھتے ہیں، لہٰذا تاریخ، اقبالیات اور لسانیات ان کے خاص میدان ہیں۔ ملک کے مؤقر اخبارات اور جرائد میں ان کے مضامین و مقالات جات شائع ہوتے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */