ہنر اور مدارس - امیرجان حقانی

بلاشبہ"ہنز" مدارس وجامعات اور علماء امت کا قدیم اثاثہ اور ضرورت ہے۔ اس ضرورت کی ہردور میں آبیاری کی گئی ہے۔ مدارس سے منسلک اہل علم کی ایک بڑی تعداد

خصاف

نساج

حلاج

دباغ

حلوائی

حصیری

حریری

قدوری

کہلائے۔

تاریخ میں ایسے ہزاروں کردار ہیں جو حدیث و فقہ کے ماہر تھے، فضل و کمال کی مسند پر تھے۔ مگر کوئی جوتا بناتا تھا، کوئی کوئی کپڑا بننے والا، کوئی بیچنے والا، کوئی تیل بیچنے والا، کوئی نائی تو کوئی موچی کے ہنر سے رزق حلال کمارہا تھا۔اور علم و فن کا عروج پارہا تھا اور تاریخ میں اپنے آپ کو امر کررہا تھا۔دور جانے کی بھی ضرورت بھی نہیں،مفتی شفیع عثمانی جلد بنایا کرتے تھے۔ مولانا نور حمد نے طباعت کا کام کیا۔شیخ سلیم اللہ خان، مفتی تقی عثمانی اور مفتی رفیع عثمانی کتابوں کے کاروبار سے منسلک ہیں. مولانا اسلم شیخ پوری صاحب تدریس کیساتھ شہد اور مسواک بیچا کرتے تھے۔ مولانا مترجان بکریاں چراتے تھے. ہزاروں مثالیں ہیں۔آج بھی بہت سارے سمجھ دار علماء ایسا ہی کررہے ہیں۔

مگر مجھ جیسا کوئی مدارس کا پڑھا ہوا سماجی زندگی کا گہرا مشاہدے کے بعد، مدارس و جامعات میں باقاعدہ نظم کے ذریعے "ہنر" کی بات کرتا ہے، جدید سکلز اور مہارتوں کی طرف توجہ مبذول کرواتا ہے اور اسلاف و اکابر کے حوالے بھی دیتا ہے اور اس کو وقت کی ضرورت اور مقتضائے حال بھی قرار دیتا ہے، تو پتہ نہیں کیوں لوگ بھڑک اٹھتے ہیں بالخصوص مدارس سے وابستہ احباب۔کیوں فورا اس ضرورت کے پیچھے انہیں سازش نظر آتی ہے. کیوں ان کو کادالفقر اں یکون کفرا نظر نہیں آتا۔

کیا یہ ممکن نہیں کہ آج بھی علم وفضل اور تحقیق و تدریس کیساتھ کوئی مدارس کا فاضل
کمپوز

ڈیزائنر

گرافک ڈیزائنر

فوٹو گرافر

پیج میکر

ویب ڈیزائنر

ڈسٹری بیوٹر

سپلائر

سیلز مین

ہاوس کیپر

شوومیکر

مارکیٹنگ منیجر

ہوٹل منیجر

لیب منیجر

بینکر

فنانشل ایڈوائزر

اکاونٹنٹ

اکانومسٹ

بک سیلر

آٹومکینک

موبائل میکنک

ہیئر ڈیزائنر

کارپینٹر

مسینر

ٹیلر

کنسلٹنٹ (ہرشعبہ کی)

گائیڈر

ٹور اپریٹر

ٹرینر

کیریئر کونسلر

ٹرانسلیٹر

ایڈیٹر

رپورٹر

کالمسٹ

نیوز ایڈیٹر

پروپوزل رائٹر

پروفیسر

ریسرچر

پبلشر

موٹیویشنل اسپیکر

فیوزوتھراپسٹ

ایکسرے ٹیکنیشن

ریڈیالوجسٹ

آپٹیشن

ریسپشینسٹ

پیپر سیٹر

ایویلویٹر

گارڈنر

فارمر

سنگر(حمد، نعت اور نظم)

ڈریس ڈیزائنر

پلمبر

الیکٹریشن

بیوٹیشن

نرسنگ

آئیرمین

باکسر

ریسلر

فٹ بالر

کرکٹر

ایڈوکیٹ

انجینئر

ڈاکٹر

ایڈمینسٹریٹر

وغیرہ وغیرہ بن جائے۔

غرض آج کے دور میں مذکورہ پیشوں سمیت ہزاروں مناسب پیشے ہیں جن کو اختیار کیا جاسکتا ہے.وقت کیساتھ پیشوں کی ہیئت اور ساخت میں تبدیلی آئی ہے۔ کچھ کے نام بدل گئے ہیں اور کچھ نئے کام دنیا میں وجود میں آئے ہیں۔ ان کی مارکیٹ ویلیو کچھ زیادہ ہی ہے۔ان میں سے کسی ایک میں مہارت حاصل کی جائے اور پھر اس کو ذریعہ معاش بناکر باقی سارا ٹائم تدریس و مطالعہ کو دیا جائے۔جس پیشہ کے ساتھ بھی دلی لگاؤ ہے اس کو اختیار کرنے، ڈگری حاصل کرنے اور ڈپلومہ و ٹریننگ کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں، ان میں سے ایک بھی پیشہ ایسا نہیں جو آپ کو علم وفضل سے روکے.اپ کو بڑے انسان بننے میں ان میں سے کوئی ایک بھی پیشہ ممد ومعاون بن سکتا ہے۔ ہمارے اسلاف بھی کسی ایک پیشہ کو ذریعہ معاش بناکر پھر علم و فضل کے عروج کو پاگئے تھے. دو چار کی ہی سوانح عمریاں پڑھی جائیں تو سب عیاں ہوگا۔

جھے حیرت ہے کہ مدارس و جامعات کے فضلاء صرف مسجد کے امام و خطیب اور مکتب و مدرسہ کے استاد بننے پر کیوں اکتفاء کرتے ہیں۔ کیا سالانہ ہزاروں فضلاء کو جگہ اور جاب دینے کے لیے اتنے مدارس، مکاتب اور مساجد ہیں؟اس سے بھی حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مدارس و جامعات کے ارباب اپنی روحانی اولاد کو صرف یہ کیوں بنارہے ہیں۔کیا صرف یہی ترجیحات ہیں؟باقی زندگی کے سارے شعبوں اور پیشوں کو چھوڑ دینا ہے؟ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو