امن کی طلب - فرح رضوان

شَفَا حُفْرَةٍ پارٹ 2
پروردگار، اِس شہر کو امن کا شہر بنا " - ۱۴:٣٥ میں ابرہیم علیہ السلام کی دعاؤں کی ابتدا " امن کی طلب " سے ہو رہی ہے - بنجر بیابان لق و دق صحرا میں معصوم بیوی بچے کو تن تنہا چھوڑتے وقت؛ روٹی ،کپڑا اور مکان میں سے اولین ترجیح کوئی ایک بھی نہیں ! نہ تقاضا نہ انتظام بلکہ رب تعالیٰ سے امن کے لیے فریاد کی اور امان بھی کیا شاندار اور پائیدار ملا کہ قیامت تک انسان تو انسان کسی جانور کو بھی حرم کی ان حدود میں مارا نہیں جا سکتا اور نہ ہی اسے ہنکارکے دوڑا کر باہرلاکر شکار کیا جاسکتا ہے۔

اور یہی سب سے اہم نکتہ ہے کہ صرف فوری طور پر جان سے مار ڈالنا ہی گناہ کبیرہ نہیں بلکہ ایسے اسباب پیدا کردینا کہ ، انسان جیتے جی مرجاۓ اس میں جینے کی آس امید وجہ ارمان ہی نہ رہ جاۓ رمق تک باقی نہ چھوڑی جاۓ ، وہ مسلمان جس کی عظمت بیت اللہ سے بڑھ کر ہے اسکی ذرا ذرا سی بات پر بے عزتی کی جاۓ ، مذاق اڑایا جاۓ ،رسوائی کے سامان اور سازش کی جاۓ یہ بھی مار ڈالنے ہی کے برابر کا گناہ ہے ( یا شاید اس سے بڑھ کر ہو ) - اور اس طرح کی چپکی مار کا آسان طریقۂ واردات شیطان نے انسان مہروں کو یہ سکھایا ہے کہ گھر، جس کو امن کا گہوارہ ہونا چاہیۓ ، وہاں امن کی بحالی کو اپنی انا ، ضد اور کلچرل "رکھ رکھاؤ " کے نام پر، ہر ہر طرح ناممکن بنا دیا جاۓ - خواہ انسان کا رشته ،جنس ، عمر کچھ بھی ہو کروٹ کروٹ وہ کڑواہٹ پھیلانے کا کام کرتا رہے۔یوں تو دنیا بھر میں اور خاص کر خطے میں "امن کی بحالی " کا رونا مچا ہوا ہے -مگر یہ بات طے ہے کہ ساری دنیا میں امن ہو مگر آپکا دل ہی اس عظیم نعمت سے خالی، تب بھی آپکو کوئی فرق نہیں پڑنے والا مگر اس سے بھی اہم بات یہ کہ آپ سے سوال اس بارے میں تو ضرور ہی ہوگا کہ اپنے گھر میں امن کے قیام کے لیۓ آپ نے کیا اقدامات فرماۓ ؟

کیسا ایثار کیا ؟ سیکھا اور جانا کیا اس بارے میں ؟ یا اپنی مرضی کے اصولوں کے بت بنا کر اسکی پوجا کرتے رہے ؟ سیکھنے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جب تک آپکے گھر کی اکائی میں امن نہ آجاۓ تب تک یہ ارد گرد کے دسیوں ،سینکڑوں ….کھربوں گھروں کو پہنچ بھی نہیں سکتا اور پلٹ کر آپکو مل بھی نہیں سکتا؛ کہ وہ جو پھل سے بیج نکل کر واپس ایک سائکل شروع ہوتا ہے ؛جیسے بیج کے بغیر پودے،درخت ،پھل سبھی کا تصور اسکی طلب اسپر باتیں ،ڈرامے ،سمینار ،مذاکرات سب بیکارہیں؛ جبکہ دوسری طرف صرف ایک بیج سے سات بالیاں اور ہر ایک میں سو سو دانے پھلتے پھولتے ہیں امن کی برکت بھی اسی طرح معاشرے میں سرائیت کرتی چلی جاتی ہے ۔ ہم گھریلو مسائل اور بے سکونی کی شکایت تو بہت کرتے ہیں ساس ایسی بہو ویسی شوہر ترش خو اور رنگین مزاج، بیگم تلخ ،خشک اور بدمزاج، بہن بھائی نند دیور جیٹھ اورانکے شریک حیات وغیرہ وغیرہ کےساتھ گھریلو اور نفسیاتی مسائل، تنگ وسائل ،امن سے خالی گھر اور جنگ سے بوجھل دل۔لیکن ! ہم ایک غلطی کرتے ہیں کہ حل بھی انہی افراد میں اصلاح سے چاہتے ہیں جو فوری طور پر ممکن نہیں ہوپا تا.

جبکہ خود میں صبر کی گنجائش نکال پانا تک بھی ناممکن سا لگ رہا ہوتا ہے - مگر اپنی ذات ہی تو وہ واحد جگہ ہوتی ہے جسپر کام کیا بھی جاسکتا ہے اور جسکا نتیجہ بھی بہرصورت بہترین ملنے کی امید رکھی جا سکتی ہے ۔ اسے یوں سمجھ لیں کہ عمدہ رہائشی سکیمز کی ڈیمانڈ تو ہوتی ہی ہے؛ کراۓ کے علاوہ انکی مینٹینینس فیس بہت زیادہ ہونے کے باوجود یہ مونہہ مانگی رقم اس لیۓ ادا کی جاتی ہے کہ ان کی مینجمنٹ مینٹیننس کا بخوبی خیال رکھتی ہے -جس کے سبب سوسال تک بھی ایک باوقار عمارت قائم اور آباد رہ سکتی ہے جبکہ صرف چند سالوں میں ایک نئی عمارت اپنی مینیجمنٹ کی لالچ،لاپرواہی ، خود غرضی، خیانت ، بیوقوفی بے خوفی کے سبب اور پرسش سے آزاد سوچ کے باعث بدحالی کا شکار ہو چکی اور باقیوں کو کر چکی ہوتی ہے۔ اور یہی خیانت خود غرضی خواہش پرستی ہی دل کے صنم کدے میں بتوں کو جنم دیتی ہے جس سے حفاظت کی،دعا ابراھیم علیہ السلام نے امن کے اگلے حصے میں فرمائی کہ [ "پروردگار، اِس شہر کو امن کا شہر بنا - اور مجھے اور میری اولاد کوصنم پرستی ( بت پرستی) سے بچا۔ پروردگار، اِن بتوں نے بہتوں کو بھٹکا دیا /گمراہی میں لا ڈالا " ]۔

صنم یا بت کون ہے اسے سمجھ لیں تو ان شا اللہ دعا کی گہرائی کا اندازہ ہوسکے گا۔کوئی بھی شے جو دل میں بسی ہو اور اسکی عادت اوڑھنا بچھونا بن جاۓ وہ تصور یا تصویر سبھی کچھ بت ہے؛ انسان خود کو خواہ ،مسلمان لکھتا اور سمجھتا رہے،یا دن بھر میں بار بار إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ(اے اللہ!) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں)پکارے مگر وہ بت پرستی کا شکار ہوسکتا ہے؛کسی جان سے پیارے کا حب دل کے لب میں بس جاۓ تو۔ یہ محبت قلب کےمرکزمیں سما جاۓ تو - نفس (میری مرضی) کا بت ،انا کا بت ،ستائش کا، ریا کا ،احساس برتری کا یا پھر سیلف پٹی کا بت اوڑھنا بچھونا بن جاتا ہے - سلیبریٹی /آیئدلز/ اولاد / ازواج / کریئر کا بت کہ اسکے آگے ہر رشتے یا عبادت کےلیے وقت یا مال یا توجہ دینا مشکل بن پڑے - کیپیٹلزم کا بت؛ کہ لوگ دھڑا دھڑ فری تھنکر بن کر مذھب سے ناطہ توڑ کرمال و زر اوررتبے کی چاہ کو اوڑھنا بچھونا بناۓ دوڑے جاتے ہیں ؛ ہر دور کا بت ،ہر دور کا فتنه ،ہر دور کا بچھڑا مختلف رہا ہے ۔صنم ایسا بت جسکی کوئی بھی شکل ہو سکتی ہے ،سکرین سے حاصل کردہ لذت گناہ ،خرافاتی گمراہ کن مواد …..بھلا ایسے جی میں، جس میں جگہ جگہ ہی صنم سجے ہوں سکون قلب والی کیفیت پنپ سکتی ہے ؟ نہیں نا!

کیونکہ جسطرح سرد علاقوں میں آم اور کھجور کی کاشت انتہائی محنت ، مال اور صلاحیت لگانے کے باوجود بھی ناممکن ہے اسی طرح ہر نماز مسجد میں پڑھ کر بھی ،اور دل سے صدقه خیرات کر کے بھی،قرآن پڑھ پڑھ کر بھی ایسے صنم کدے میں امن کا پودا لگنا اس کا بڑھنا پھلنا سبھی کچھ ناپید ہوتا ہے ۔ تو بلا شبہ کوئی اللہ کے نام پر ہی مانگے تب بھی جو چیز آپکے پاس ہوگی ہی نہیں، وہ آپ کس طرح دے سکتے ہیں ؟ جب دے نہیں سکتے تو لے بھی نہیں سکتے ؛کیونکہ مسلمہ اصول ہے کہ ہم جو کچھ دیتے ہیں وہی تو پلٹ کر کئی گنا واپس ملتا ہے ۔ایک بات کو گرہ میں باندھ لینا کارآمد ہوسکتا ہے کہ بتوں کے گمراہ کرنے بھٹکانے کے لیے جو لفظ ض ل ل کے مادے سے اس دعا میں آیا ہے،وہ تو بار بار سورہ الفاتحه میں وَلَا الضَّالِّينَ میں ہم پڑھتے ہیں نا ! تواس پر غور کرنا ضروری ہے کہ یہ ایسی گمراہی یا راہ بھٹکنا ہے۔ جیسا صحرا کا مسافر بھٹک جاۓ ، اسکا پانی ، کھانا اور جسم کی توانائی سب کچھ ختم ہو جاۓ اور لاغر دیکھ کر چیل کوے گدھ ،جگہ جگہ سے اسکے زندہ جسم کو ہی نوچنے لگیں ،وہ تل تل تڑپتا رہے مگر بے یار و مددگارہو یہ ہے ضللالت کا بھٹکنا ایسی روح کا تڑپنا اور شیاطین کا جھپٹنا نوچنا سب کے بیچ بھی بے یار و مددگار تنہا کر دینا۔
.ان شا اللہ جاری ہے

Comments

فرح رضوان

فرح رضوان

فرح رضوان کینیڈا میں مقیم ہیں۔ خالق کی رضا کی خاطر اس کی مخلوق سے لگاؤ کے سبب کینیڈا سے شائع ہونے والے ماہنامے میں قریباً دس برس قبل عائلی مسائل پرلکھنا شروع کیا تھا، اللہ کے فضل و کرم سے سلسلہ جاری ہے۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.