وغیرہ وغیرہ وغیرہ - قادر خان یوسف زئی

اب تک کے سارے اندازے غلط ثابت ہوئے۔ تجزیئے، خدشات، تحفظات اور پیش گوئیاں وغیرہ وغیرہ۔رجحان کے ساتھ، ایران امریکا تنازع کا یقینی نتیجہ سامنے آچکا کہ فی الوقت دنیا کو کسی تیسری عالمی جنگ کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔دنیا بھر میں سیاسی پنڈتوں نے تیسری عالمی جنگ کا جو نقشہ کھینچا اور جن جن تباہ کاریوں کی منظر کشی کی تھی۔

وہ مناظر شاید اب ہالی وڈ کی کسی اچھی پروڈکشن کے اسکرپٹ میں شامل کرلئے جائیں۔واضح رہے کہ راقم قطعی طور پر امریکا، ایران کے درمیان یا عالمی جنگ وغیرہ وغیرہ کا مخالف اور تشدد کے خلاف ہوں، جارحیت کو شدید ناپسند کرتا ہوں، امن اور جنگ (جہاد)کے لئے قرآن کریم وسنت ﷺکے دیئے گئے اصولوں و قوانین کے مطابق ایمان رکھتا ہوں۔ شکر ہے کہ تیسری عالمی جنگ وغیرہ وغیرہ نہیں ہوئی اور کم ازکم ایران اور امریکا کے تنازع کی وجہ سے تو کئی دہائیوں تک ممکن نظر نہیں آتی، یہ ایک اچھی بات ہوگی۔ میں اپنے اظہاریہ میں واضح لکھتا رہا ہوں کہ کم ازکم ایران و امریکا کے درمیان روایتی یا غیر روایتی براہ راست جنگ کا کوئی امکان نہیں، گو کہ ایران نے واضح کیا تھا کہ وہ پراکسی جنگ نہیں لڑے گا، سر عام انتقام لے گا، تاہم اس بات کا اب بھی یقین ہے کہ ایرا ن و امریکا براہ راست جنگ نہ لڑنا چاہتے تھے اور نہ ہی لڑیں گے۔

سوشل میڈیا نے دونوں فریقین کو ایک سکے کے دورخ قرار دیا، حالیہ تنازعات کو لے کر دونوں فریقین پر شکوک ظاہر کئے کہ انہوں نے اپنی مملکتوں میں اٹھتے احتجاج، مظاہرے، مواخذہ اور انتخابی مہم وغیرہ وغیرہ کو دبانے کے لئے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت یہ سب کچھ کیا۔ میں سوشل میڈیا کی باتوں پر زیادہ توجہ نہیں دیتا، جذباتی نوجوان سمیت دانش ور طبقہ بھی جذبات میں، یا خصوصی وابستگی کے تحت کچھ بھی لکھ، کہہ سکتے ہیں،ہمیں ایسی باتوں کو زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہی نہیں، اب دیکھ لیں کہ جذبات میں انسانی غلطیاں سرزد ہوہی جاتی ہیں، یوکرائن مسافر طیارے کا انتہا ئی افسوس ناک واقعہ رونما ہوگیا، اگر ٹھوس شواہد سامنے نہ آتے تو اسے انجن کی خرابی ہی سمجھا جاتا، لیکن یہ دماغی خلل تھا جس کا نتیجہ بے گناہ طیارہ مسافروں کو اٹھانا پڑا اور معاملہ ”سوری“ اور وغیرہ وغیرہ پر ختم ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں:   حکومت کے تہلکا خیز انکشافات - حبیب الرحمن

امریکا نے ایران پر مزید اقتصادی پابندیاں لگادیں، ایران نے اعتراف کیا کہ وہ انسانی جانوں کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے تھے، وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔۔۔ یہ سب کچھ ہونے کے باوجود امریکی صدر کے خلاف مواخذہ تحریک رُکی نہیں، ایران کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ ایک بار شروع ہوگیا، عراق میں ہونے والے مظاہرے، ایرانی حکومت کی تبدیلی کے لئے پھر اٹھ کھڑے ہوئے۔ کیونکہ جب تک اصل جڑ کو ختم نہ کیا جائے اُس وقت تک حقیقی معنوں میں مسئلے کا حل نہیں نکل سکتا۔ یہ حقیقت دنیا کے تمام ممالک کے ارباب اختیار کے جانتے ہیں، میڈیا کا کردار ایک ایسے وقت کی طرح ہے کہ وہ ہر آنے والے نئے دن میں نئی اسٹوری تلاش کرتا ہے، کچھ دن کے لئے ہلچل مچتی و مچاتا ہے لیکن دنیا کے اس اسٹیج میں اتنے کردار ہیں کہ وہ کبھی ختم ہی نہیں ہوسکتے۔

حکومت نے وزیر خارجہ کو تین ممالک کے دورے پربھیجنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے، ایک اچھا عمل ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمیں اپنی سرزمین پرزیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اپوزیشن و دیگر لسانی و مذہبی اکائیوں وغیرہ وغیرہ کے ساتھ مل بیٹھ کر”پاکستا ن ڈاکٹرائن“ بنانے کی ضرورت ہے۔ سر زمین کا درجہ ایک ماں کے برابر ہے۔ ماں کی خدمت و خیال رکھنے کے بجائے کسی دوسرے کے پیر دباتے رہے، تو وہ کسی بھی وقت اپنے مفادات کے لئے گردن دبانے سے گریز نہیں کرے گا۔اس وقت سیاسی، معاشی اور ریاستی مسائل انتہائی گھمبیر ہیں، اپوزیشن لیڈر و وزیر اعظم کی آج تک ایک ملاقات یا مشاورت وغیرہ وغیرہ کا نہ ہونا خود پارلیمنٹ کے اہمیت پر سوالیہ نشان ہے۔

چھوٹی سیاسی جماعتیں حلیف ہونے کے باوجود حکومت سے شکوہ کنا ں ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستا ن کے کنوینر ڈاکٹر مقبول خالد صدیقی نے اپنی وفاقی وزرات سے استعفیٰ دینے کا باذریعہ میڈیا اعلا ن کرتے ہوئے کہہ دیا کہ اس کے بعد بھی معاہدے پر عمل درآمد نہ ہوا تو تعاون کا ”اصولی“ فیصلہ تو جاری رہے گا لیکن وزرات کا حصہ نہ ہوں گے وغیرہ وغیرہ۔ ان کی جماعت کے وزیر قانون فروغ نسیم کو خود حکومت نے منتخب کیا تھا اس لئے اگر ایم کیو ایم پاکستان کہے بھی تو وہ اُن کا فیصلہ شاید ہی مانتے۔ یہ سیاسی انتشار کی چھوٹی سی جھلک ہے، نیز سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایم کیو ایم پاکستان یہ کیوں کررہی ہے؟ وغیر وغیرہ وغیرہ۔ اس لئے امریکا، ایرا ن، سعودی عرب تنازع و عالمی جنگ کو روکنے کے لئے حکومتی وفد کی پھرتیاں مضحکہ خیز نظر آتی ہیں کہ جن میں اپنے گھر کا بگاڑ و نااتفاقی کو دُور کرنے کی اہلیت ہی نہیں اور اُن معاملات میں ہاتھ ڈال رہے جن کے سامنے ہمیشہ ہاتھ پھیلائے گئے۔ میرے لئے یہ خود شرمندگی کا مقام ہے، لیکن یہ احساس پشیمانی بھی ریاستی پالیسیوں کی وجہ سے ہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   وزیر اعظم کامہنگائی کے عفریت سے نمٹنے کے لیے 10ارب کا امدادی پیکج - شہزاد حسین بھٹی

ضرورت اس امر کی ہے کہ ”پاکستان ڈاکٹرائن“ بنائیں، اس کو پروان چڑھائیں، اسے فروغ دیں، پھر آپ کو کسی کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہوگی، دنیا آپ کے پاس آئے گی کہ آپ ثالث بنیں، ہمارا مسئلہ، تنازعہ حل کرائیں، صادق و امین لکھنے اور ہونے میں بڑا فرق ہے۔ عالمی تنازعات میں الجھنے کی پالیسی کے بجائے گھر کی گرتی دیواروں کو سنبھالیں، یقین کیجئے کہ ایران، امریکا اسی کوئی حرکت نہیں کریں گے کہ جس سے تیسری عالمی جنگ وغیرہ وغیرہ کا خطرہ ہو، آپ کا ایک بیان پر قائم رہ جانا ہی سب کچھ ہے کہ پاکستا ن کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں کریں گے۔

عمل کریں، ثابت کریں، دنیا یقین کرلے گی،میرا دعویٰ ہے کہ آپ کو یقین دلانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اس وقت تمام اداروں کو اپنے ملک کے داخلی مسائل و خارجی پالیسی کے لئے سنجیدگی کے ساتھ وسیع تر اقدامات وغیر وغیرہ وغیرہ کی ضرورت ہے۔