پرچہ - قیصرہ پروین

میرے پاس کورس کی تمام کتابیں موجود تھیں سال گزر گیا مگر میں نے اپنی مصروف زندگی سے کچھ وقت نکال کر ان کو نہ دیکھا اور نہ ہی ان میں موجود اسباق کو پڑھنے کی کوشش کی۔بس کبھی کبھار اپنے بڑوں کے پاس چند لمحے بیٹھ کر جو قصے کہانیاں سنی تھیں ،وہی یاد تھیں ۔باقی کورس تو گویا کورے کاغذ کی مانند تھا ۔

آج صبح میرا پیپر تھا ور اس پیپر کی تیاری نہ ہونے کے برابر تھی۔ہوتی بھی کیسے میری اورمصروفیات کم تھیں کیا جو کتابوں کو ایک نظر کھول کر دیکھتی ۔ مزے کی بات یہ تھی کہ آج بارش بھی زوروں پہ تھی۔ویسے بھی بارش کاموسم تو مجھے بہت اچھا لگتا ہے ۔سکول کے گراونڈ میں بارش میں بھیگنا، سہلیوں کے ساتھ اٹکیلیاں کرنا یہ سب تو میری کمزوری تھی۔طالبات کی کمی کی وجہ سے ٹیچر سے فری پیریڈ کا کہہ کرکھیل کود میں گزار دینا ۔سکول کا تو ایک بہانہ تھا ۔

میں دل ہی دل میں دعا مانگ رہی تھی کہ بارش زور کی ہو اور پیپر سے بھی جان چھوٹ جائے مگر یہ میری خام خیالی تھی پیپر کا تو ایک دن مقرر تھا ۔جو کہ نہ آگے ہو سکتا تھا اور نہ پیچھے ۔پینسل، قلم ڈھونڈا مگر جلدی میں کچھ نہ مل رہا تھا ،سوچا کہ سکول پہنچ کر کسی دوست سے جا کر لے لوں گی ۔مگر جب اپنی اپنی پڑی ہو تو کب کسی کا خیال آتا ہے ۔سکول ہمارے گھر سے تھوڑا دور تھا بارش اور پھر گراونڈ میں نہانا نہ چاہتے ہوئے بھی سکول کی طرف چل دی ۔

بھیگی ہوئی سکول پہنچی، پرچہ میرے ہاتھ میں تھا ایک دو سوال کے سوا کچھ نہ آتا تھا میں زہن پہ زور دے رہی تھی کہ شاید کوئی جواب آ جائے ۔مگر کیسے ؟کبھی کتابوں کو کھول کر دیکھا تھا جو جواب آتا۔بلکہ کتابوں کو کھولنا تو دور کی بات میں نے تو اپنے سے زیادہ علم والوں کے پاس بیٹھنا بھی گوارا نہ کیا ۔سال کھیل تماشے میں گزار دیا ۔زیادہ حیرانگی اس وقت ہوئی جب ٹیچر نے مجھ سے پیپر چھینا اور میں ان کی منتیں کرتی رہ گئی میم مجھے دو تین سوالوں کے جواب آتے ہیں ۔میں دس منٹ میں لکھ لوں گی ۔ انھوں نے میری ایک نہ سنی اور پیپر لے کر کلاس سے باہر چلی گئیں ۔سردی تھی کہ خوب زوروں پہ تھی -ہوا ایسی تھی کہ ہر چیز کو اندر تک ٹھنڈا کر رہی تھی ، گیزر کا پانی خوب گرم ہو گیا تھا ۔گرم گرم لحاف اور پھر میٹھی میٹھی نیند- اتنی آساہشوں کو چھوڑنا بھلا آسان تھا ۔مرغ کی بانگ ،پرندوں کی تسبیح یہ تمام چیزیں میرے دل کو شرمندہ کر رہی تھیں ۔

یہ بھی پڑھیں:   معجزے آج بھی ہوتے ہیں - ایم سرورصدیقی

دور دور سے اذانوں کی آوازیں آ رہی تھیں٬ گرم لحاف کو کھینچ کر کانوں تک کر لیا۔رزق تقسیم کرنے والے فرشتے کتنی دفعہ میرے دروازے پہ آ کر مایوس لوٹ چکے تھے ۔آو نماز کی طرف آو فلاح کی طرف ، یہ کیسی آواز ہے؟ میں روز ہی سنتی ہوں ۔آج نہیں اٹھتی ، بہت سے اور بھی تو لوگ ہیں جو پانچ وقت کے بلاوے پہ سوئے پڑے رہتے ہیں ۔انھیں بھی تو پالنے والا پال رہا ہے بڑی بڑی گاڑیاں ،بنگلے ، خوبصورت لباس طرح طرح کے کھانے ۔نیند بہتر ہے اس نماز سے ۔میم پلیز مجھے دس منٹ دے دیں،میں میڈم کے پیچھے پیچھے بھاگ رہی تھی بالکل ایسے جیسے کسی بچے کو اس کی ماں گھنے جنگل میں چھوڑ کر چلی جائے اور وہ ماں کو اپنے سے دور ہوتے نہ دیکھ سکتا ہو اور اس کا دامن پکڑ اس کے ساتھ چمٹ جائے ۔

آنسو میرے لحاف کو گیلا کر چکے تھے دل کی زمین بھی تو نرم ہو چکی تھی ۔گویا کہ پودے لگائے کے لیے زمیں تیار پڑی تھی صرف تھوڑی سی محنت درکار تھی ۔میں نے اپنے آنسو پونچے، پاس پڑے موبائل پہ وقت دیکھا جو کہ مجھے مزید شرمندہ کر گیا صبح کے سات بج رہے تھے ، آج تو میری زندگی کا ایک سال ختم ہو گیا تھا اور میں نے اسے خوش آمدید کہنے کے بجائے سو کر گزار دیا ۔اپنی زندگی کے نئے سال پہ رازق کے بیجھے ہوئے تحفے کو کھو دیا تھا ۔ اف میرے خدایا کیا یہ خواب تھا ۔صبح اٹھی تو اس خواب پہ غور کیا تو معلوم ہوا کہ خواب محض خواب نہیں ہوتے ۔ان کے پیچھے بہت بڑا مقصد ہوتا ہے ، بلکہ ہمیں زندگی کو ضائع کرنے اور فضول کاموں سے روکنے کے لیے آتے ہیں ۔زندگی کو بہتر سے بہتر گزارنے کے اصول بتا کر چلے جاتے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:   دل وہاں چھوڑ آیا ہوں _ احسان کوہاٹی

اللہ تعالی کی کتاب ایک بہترین تحفے کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے نہ ہم نے اسے کبھی کھول کر پڑھا نہ سمجھا اور نہ ہی عمل کرنے کی کوشش کی ۔تمام سوالوں کے جواب اس میں موجود ہیں صرف جواب ڈھونڈنے کی ضروت ہے ۔تمام آساہشیں پا کر بھی ہم رب کی رضا پہ راضی نہیں ۔اندھے،بہرے اور گونگے بن کر زندگی کو ختم کر رہے ہیں ۔ندامت کے آنسو چاہتے ہوئے بھی ہماری آنکھوں سے نہیں نکلتے ۔زندگی کا پرچہ خالی دے کر اس دنیا سے چلے جائیں گئے اور یہی خالی پرچہ سبھی کے سامنے ہمارے سامنے رکھ دیا جائے گا ۔اس وقت کسی پر کوئی ظلم نہ کیا جائے گا بلکہ مجرم چہروں سے ہی پہچان لیے جائیں گئے ۔بد لوگ جہنم کی طرف ہانکے جائیں گئے جبکہ نیک لوگ جنت میں ۔اعلی مقام پہ تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گئے ۔

جہنمیوں کا کھانا تھور ، پینے کے لیے کھولتا ہوا پانی اور پیپ دی جائے گی جبکہ اہل جنت کو ہر طرح کے کھانے مشروبات اور ایسے ایسے پھل پیش کیے جائیں گئے جو کہ دنیا میں میں کسی آنکھ نے نہ دیکھیں اور نہ کسی زبان نے چھکے ہوں گئے ۔فرشتے قطار بنا کر اپنے رب کی طرف سے انھیں سلام پیش کریں گئے ۔