حالات - عصمت اسامہ

مختلف اپنی کہانی ہے زمانے بھر سے - منفرد ہم غم حالات لئے پھرتے ہیں!
وطن عزیز پاکستان کا درد اب صبر کے جام سے چھلکنے کو ہے۔ہر ادارہ اپنے کام چھوڑ کر دوسرے اداروں سے نبرد آزما دکھائی دیتا ہے ۔نیوز سنیں تو افسوس ہوتا ہے کہ ہم بحیثیت قوم کس مرحلے پر آگئے ہیں۔ اکثرسیاسی پارٹیاں اپنے منشور کو عمل میں لانے سے قاصر اور سمجھوتوں پہ مجبور نظر آرہی ہیں ۔عدالتوں میں کئ سالوں کے مقدمات کی فائلیں التوا میں پڑی ہیں۔ انصاف کی تلاش میں پیشیاں بھگتاتے سرمایہ اور عمر دونوں ختم ہو جاتے ہیں ۔جس کے پاس طاقت ہے وہ ہر عدالت سے چھوٹ جاتا ہے اور جس کے پیچھے کوئی نہیں ہے وہ بے قصور سزا پاتا ہے۔

حالانکہ ہمارے نبئ کریم ﷺ کا فرمان _عالیشان ہے کہ تم سے پچھلی قومیں اس لئے تباہ برباد کردی گئیں تھیں کہ جب ان میں کوئ معزز جرم کرتا تو اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئ عام آدمی جرم کرتا تو اسے پکڑ لیتے تھے ،قسم ہے اس پروردگار کی جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ اگر محمد ﷺ کی بیٹی فاطمہ ؓ بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹنے کا حکم دیتا! (صحیح بخاری ۔حدیث 6789)یہاں یہ حال ہے کہ جن کو لوگوں نے ووٹ دئیے تھے کہ عوامی فلاح و بہبود کے لئے کچھ کریں گے وہ نمائندے اسمبلیوں سے غیر حاضر رہتے ہیں۔ ۔وکیلوں کے جلوس دیکھیں یا ڈاکٹروں کی بپتا سنیں۔ہسپتالوں میں مریضوں کے مسائل سنیں ۔ادویات اور فراہمیء خون کے لئے لوگوں کی دوڑیں لگی ہوئ ہیں۔ ۔بارڈر پہ جھڑپیں دیکھیں یا فوج کے معاملات ۔۔۔ہر طرف ایک افراتفری پڑی ہے۔ عوام کی حالت _زار بیان سے باہر ہے ۔روز افزوں مہنگائ کی چکی میں پستی عوام خودکشیاں کر رہی ہے ۔غریب کے پاس پیسہ نہ تعلیم کے لئے ہے نہ علاج کے لئے ۔دو وقت کی روٹی پوری کرنی دشوار ہے۔تعلیم کاروبار بن چکی ہے۔سندھ میں کتا کاٹنے کی ویکسین کی عدم دستیابی سے کئ جانیں ضائع ہونے کی اطلاعات ہیں ۔

ایسے حالات میں ترکی کے پیش کردہ ڈرامہ ارطغل میں قائی قبیلہ کے وہ مناظر بڑے عبرت آموز لگتے ہیں جب وہ قبیلہ ہجرت پر مجبور ہوتا ہے ۔چند سو گھرانوں پہ مشتمل اس قبیلے کو ایک طرف اندرونی مسائل اور اقتدار کی رسہ کشی کا سامنا ہوتا ہے تو دوسری طرف بیرونی دشمنوں کے حملوں نے اسے موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا کر رکھا ہوتا ہے ۔ہجرت کے مراحل بہت دشوار راستوں اور جاں گسل معرکوں سے طے ہوتے ہیں ۔جس قوم کے پاس اپنی مٹی ،اپنی دھرتی نہ ہو وہ کتنی ہلکی اور دوسروں کے رحم و کرم پہ ہوتی ہے۔اس کا احساس اس ہجرت کے سفر کو دیکھ کے ہوتا ہے۔کبھی موسم کے تھپیڑے اور بارش کا خدشہ تو کبھی خوراک اور ایندھن کی کمی کا خطرہ۔اس ہجرت کو دیکھ کے بےاختیار وہ ہجرت یاد آجاتی ہے جو قیام پاکستان کے وقت ہمارے آباؤ اجداد نے کی تھی۔آگ اور خون کے دریا پار کرکے یہ وطن حاصل ہوا تھا ۔اللہ پاک ہمارے وطن پاکستان کی حفاظت فرمانا ۔یا رب العالمین ہمارے پاؤں اس سرزمین پہ جماۓ رکھنا۔یارب ہمیں بنی اسرائیل کی طرح وادیء سینا جیسی دربدری نہ دینا ۔۔۔ہمیں بحیثیت قوم کے معاف کردینا ۔ہمیں راہ_ہدایت دکھا دینا ۔کتنی مسلمان قومیں اس وقت خانہ بدوشی کی حالت میں ہیں فلسطینی اور شامی پناہ گزین اور روہنگیا مسلمز۔یا اللہ ان مہاجرین کی مدد فرمانا ۔آمین یا رب۔