ایران و امریکہ ، ترکی سافٹ پاور - اعظم علی

اس وقت کوئی بھی مسلمان ریاست اس قابل نظر نہیں آتی کہ براہ راست امریکہ و اسرائیل کو للکار سکے۔ خالی بڑکوں سے جنگیں لڑی اور جیتی جاسکتیں تو اب تک کشمیر فتح اورالقدس آزاد ہو چکا ہوتا۔عقلمند اقوام کسی جنگ کو شروع کرنے سے پہلے اپنی اور دشمن کی طاقت کا درست اندازہ کرتی ہیں کسی ایسے معرکے سے پہلو بچانے کی پوری کوشش کرتی ہیں جسکے مثبت نتائج کا یقین نہ ہو (دفاعی جنگ جب تھونپ دی جائے تو مجبوری بن جاتی ہے)۔

پاکستان نے یہ سبق کئی جنگوں کے بعد سیکھا اسوقت پاکستان اپنے ازلی دشمن بھارت کے خلاف بھی محدود جارحیت ہی کا اظہار کرتا ہے لیکن حدت کو ایک حد سے آگے نہیں بڑہنے دیتا (ہماری پوری کوشش کھلی جنگ سے بچنے کی ہوتئ ہے مقامی نوعیت کی لڑائیوں میں ہم نے زیادہ تر بھارت کو منہ توڑ جواب دیا)۔ جب بھارت نے بالاکوٹ پر حملے کی حماقت کرہی لی تو اسکا محدود حدتک جواب دیکر اپنی برتری بھی ثابت کر دی گئی لیکن ساتھ ہی جتا بھی دیا کہ ہم بہت کچھ کرنے کے قابل تھے لیکن بس ایک ابتدائی نمونہ دکھا کرچھوڑ دیا۔

بھارت نے کشمیر کے آرٹیکل ۳۷۰ ختم کرنے کا اعلان کیا تو تمام تر داخلی دباؤ کے باوجود فوج و حکومت نے اعلان جنگ کرنے سے احتراز کیا۔ اگر ان تمام چیزوں کو ساتھ رکھیں تو ایک تصویر واضع ہو جاتی ہے۔ کہ فوج بھارت سے حتی المکان مکمل جنگ سے احتراز کرتی ہے کہ بطور چھوٹی فوج پورے ملک کے سلامتی کو کسی ایسے ایڈونچر جنکے نتائج نامعلوم ہوں پر داؤ پر نہیں لگائے جاسکتے۔ چاہے پسند کریں یا نہیں یہ اداراتی اور پروفیشنل بلوغت کی علامت ہے۔

ایران عراق جنگ جو آٹھ سال تک چلی کی وجہ سے ایران کا بطور سخت جان جنگجو قوم رعب قائم ہو گیا تھا، تالی دو ہاتھوں سے بجتی ہےعراق بھی اس جنگ میں آٹھ سال کھڑا رہا ورنہ یہ جنگ آٹھ ماہ بھی نہ چل سکتی لیکن اسکے پیچھے فوجی نہیں تو عرب ممالک کی معاشی قوت شامل تھی۔ اس معاشی سپورٹ سے محرومی کے بعد دونوں خلیج کی جنگوں میں وہی آٹھ سال تک ایران کے سامنے کھڑے ہونے والا عراق چند دنوں بھی نہ کھڑا رہ سکا۔

ایران نے جنرل سُلیمانی کے قتل پر جس قسم کے ردعمل کا مظاہرہ کیا ہےوہ بڑی حدتک ایران کے حالات ، تاریخ اور روئیوں کے عین مطابق تھا، درحقیقت ایران ایک مشکل صورتحال میں گھر چکا تھا کہ اس انتہائی اشتعال انگیز اقدام کا جواب دینا یا نہ دینا دونوں کے ناپسندیدہ عواقب تھے۔

ایران اس پوزیشن میں نہیں تھاکہ امریکہ سے براہ راست جنگ لڑ سکے لیکن جنرل سلیمانی کے قتل کے بعد ایرانی قوم کے جذبات کی ترجمانی بھی ضروری تھی۔اسکے باوجود جتنی عجلت میں پہلے اطلاع دیکر ایک “علامتی“ قسم کے میزائیل حملے کی صورت میں انتقام پورا ہونے کا اعلان کرکے امریکہ کو شاخ زیتون پیش کی گئی وہ ایک طرف سے اینٹی کلائمیکس یا کچھ یو ٹرن کی شکل لگتی ضرور ہے۔ جسکا منفی تاثر پیدا ہوا۔

یوٹرن ، بزدلی و حماقت ہی نہیں عقلمندی کی بھی علامت ہو سکتا ہے۔ افراد و اقوام کو اپنی بڑکوں کے یرغمال ہو کر ملک و قوم کو فضول جنگوں میں پھنساکر ناقابل تلافی نقصان کرانے کی بہ نسبت ، ایک قدم پیچھے ہٹ کر آئندہ دوقدم آگے بڑہنے کے امکانات کھلے رکھنے چاہیں۔

ایران کی امریکہ سے کوئی براہ راست سرحد نہیں ملتی اس لئے دنیا کی سب سے طاقتور ترین فوج کے ساتھ ریموٹ کنٹرول جنگ جسمیں ایران کی سرزمین تو دشمن کے حملوں کا نشانہ ہولیکن دشمن درحقیقت جوابی حملوں سے محفوظ ہوگا ( خطّے میں موجود چند ہزار امریکی افوج کوئی بڑا ہدف نہیں ، انہیں “تنگ “ کرنے کے دوسرے راستے موجود ہیں) اس قسم کی یکطرفہ جنگ سے بچنا بزدلی نہیں عقلمندی ہوتی ہے۔

افغان جنگوں کی تاریخ بھی یہی سبق دیتی ہیں کے جب تک دشمن اپنے بُوٹ زمین پر رکھنے کو تیار نہ ہو لڑائی کا فائدہ نہیں ہے، اسوقت عراق میں انتہائی محدود تعداد میں امریکی بُوٹ موجود ہیں ایران انہیں اپنے “چھوٹوں” کے ذریعے باآسانی “مصروف” رکھ سکتا ہے۔اس یوٹرن کے دو نتائج نکلے ایک تو ایران عراق جنگ سے قائم شدہ ایران کی طویل جنگیں لڑنے کی وہ افسانوی شہرت جسکی بناء پر دیگر ممالک ایران سے براہ راست تصادم سے گھبراتے تھے وہ ٹوٹ گئی۔

یہ بھی پڑھیں:   محض ایک یوم نہیں - صفیہ نسیم

واضع رہے ایران عراق جنگ کے بعد، ایرانی افواج گذشتہ ۳۲ سال سے کسی ملک کے خلاف بھی براہ راست جنگ میں ملوث نہیں ہوئیں، عراق، شام میں پاسداران انقلاب محدود حدتک شریک تھے، ورنہ زیادہ تر (حزب اللہ لبنان میں، یمن میں حوثی باغی، بحرین میں بھی مقامی شیعہ عوام) پروکسی جنگیں ہی لڑی جارہی ہے۔اس لحاظ سے یہ تو کہا جاسکتاہے کہ ایرانی اسٹیبلشمنٹ پروکسی جنگوں کا تو بے تحاشہ تجربہ حاصل کر چکی لیکن کیا انکی افوج کے باقائدہ جنگی تجربے و تیاری کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

رہی سہی کسر ایران کے ہاتھوں یوکرائن کے مسافر طیارے کو مار گرانے کے واقعے سے بھی یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اوّل تو ایران کا فضائی دفاعی کمانڈ و کنٹرول نظام اتنا کمزور ہے کہ وہ تہران کے ہوائی اڈّے سے پرواز کرنے والے مسافر طیارے اور دشمن ملک کے جنگی طیاروں میں فرق کرنے میں ناکام رہا، دوم یہ کہ ایران کے دفاعی نظام میں پیشہ وارانہ اہلیت کا فقدان ہے۔

درحقیقت یہ کمزوریاں کئی دہائیوں کی بین القوامی پابندیوں کی بناء پر نہ صرف نئے اور بہتر ہتھیار و آلات ایران کی دسترس سے باہر ہونے، اور بیرون ممالک سے ایران کے فوجی تربیتی پروگرامات نہ ہونے کے نتیجے میں فوج کی پیشہ روانہ صلاحیت میں اضافہ نہ ہونے کا نتیجہ ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایران ان حالات میں کوئی بڑی جنگ لڑنے کے قابل بھی ہے؟ بظاہر اسوقت ایران کمزور نظر آرہا ہے، جس سے خطّے میں ایران مخالف ممالک کو یقیناً تقویت ملے گی، اسکے اثرات خطّے میں جاری جنگوں پر بھی ہوں گے۔ اس کمزوری کا فائدہ ایرانی اپوزیشن بھی اُٹھا رہی ہے ملک میں حکومت کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

بہت سے دوست ممکنہ تیسری عالمی جنگ کی بات کررہے تھے، لیکن ایران کی بین القوامی تنہائی بذات خود اس بات کی ضمانت ہے کہ اس خطے میں ہونے والی کوئی بھی جنگ اسلحے کے تاجروں کو تو فائدہ دے سکتی ہے اسے حالیہ تاریخ کی مشرق وسطی کی جنگ ضرور بنا سکتی ہے۔ لیکن دیگر ممالک کو براہ راست کمزور ایرانی ریاست کی مدد کے لئے کودنے پر مجبور نہیں کر سکتی ، اور اسے تیسری عالمی جنگ نہیں بنا سکتی۔

نوشتہ دیوار واضع ہےاسلامی بلاک بدقسمتی سے یاتو دشمنوں کے ساتھ ہوگا۔ عراق اور شام کی کمزور حکومتیں اس قابل نہیں کہ ایران کے ساتھ ملکر کوئی قابل لحاظ فوجی اتحاد بنا سکیں ۔ ایران کے پاس واضع پتّہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا ہے۔ اور وہ بھی درحقیقت ایران کو فائدے کی بجائے نقصان پہنچانے کا سبب بنے گا۔

۱۹۷۰ کی دہائی کی بہ نسبت اسوقت امریکہ تیل کی پیداوار میں خود کفیل ہو چکا ہے، بلکہ مشرق وسطی کے تیل کی ترسیل میں رکاوٹ امریکی تیل کمپنیوں کے لئے تیل کی بڑہتی ہوتئ قیمتوں کی صورت میں لاٹری کھول دے گی۔دوسری طرف چین، جاپان اور یورپ اپنی تیل کی ضروریات کا بڑا حصہ مشرق وسطی کے تیل سے پوری کرتے ہیں۔ اس معاملے میں کسی رُکاوٹ کی صورت میں وہ اپنی انرجی سپلائی کو برقرار رکھنے کے لئے فوجی مداخلت کریں گے۔اور وہ مداخلت ایران کے آبنائے ہرمز بند کرنے سے روکنے ہی کے لئے ہوگی۔

جاپان نے پہلے ہی اپنی سمندری فوج کو خطّے میں بھیجنے کا اعلان کر دیا ہے۔اگر یہ معاملہ آگے بڑہا تو دیگر ممالک بھی یہی کریں گے۔ٹرمپ نے کئی ماہ پہلے ہی ایشیا اور یورپ کے ممالک کو متنبہ کردیا تھا کہ امریکہ انکی توانائی کی سپلائی کو اپنی خرچے پر سے محفوظ نہیں رکھ سکتا۔ دوسرے الفاظ میں یاتو امریکہ کو فوجی اخراجات کی ادائیگی کرو ورنہ اپنی فوج بھیجو۔یاد رہے پاکستان بھی اپنی تیل و گیس کی سپلائی مشرق وسطی سے حاصل کرتا ہے۔اس سپلائی میں رخنہ ہماری توانائی کی سیکیورٹی کے لئے بھی ناقابل برداشت ہوگا۔اور پاکستان غیر جانبدار رہنے کی خواہش کے باوجود سمندری راستے کھلے رکھنے کے لئے مداخلت کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔

ادھر ایک ہم ہیں زمانہ ادھر

ایران نے گذشتہ دہائی میں مشرقی وسطی میں امریکی اقدامات کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنی پوزیشن کو مضبوط کیا ہے (یہ سوال تو باقی رہے گا کہ کیا امریکی احمق تھے یا یہ بھی کھیل کا حصہ ہے)۔ میرے پاس اس سلسلے میں کوئی دلیل نہیں کہ میں کوئی پوزیشن لے سکوں۔

صرف اتنا ضرور ہے کہ امریکی اقدامات نے اپنی سرحدوں تک محدود ایران کی جھولی میں عراق و شام کو ڈال دیا، لبنان میں وہ پہلے ہی حزب اللہ کے ساتھ شریک اقتدار تھا۔ اب یمن اور بحرین میں بھی سعودی عرب کی سرحدوں پر دستک دے رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   منسٹر صاحب آپ کو مستعفی ہو جانا چاہیے۔ ریلوے بند کر دی جائے - چیف جسٹس کا شیخ رشید کو مشورہ

دوسری طرف خوفزدہ عرب بادشاہتیں اپنی حفاظت کے لئے امریکی اسلحہ کے بڑے خریدار بن کر امریکی افواج کو اپنی سرزمین پر پالنے پر مجبور گئیں۔ اسوقت بحرین امریکی پانچویں بحری بیڑے کو اپنی سرزمین پر پال رہا ہے۔ سعودی عرب بھی امریکی اسلحہ کا بڑا خریدار ہی نہیں بلکہ امریکہ افوج کی بھی میزبانی کررہا ہے اور یہ سب کچھ مفت نہیں ہے۔حیران کُن بات یہ کے کہ قطر بھی امریکی CENTCOM کا ہیڈ کوارٹر ہے۔

اس صورتحال میں ایرانی قیادت کو انتہائی بلوغت کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے،اگر اس غیر مساوی جنگ کانتیجہ خلاف نکلا تو ایرانی انفرااسٹرکچر کی تباہی ، خطّے میں اسکے بڑہتے ہوئے رعب کی کمی (جو پہلے ہی نام نہاد میزائل حملے کا شکار ہو کر زخمی اور کمزور ہورہا ہے) اور بہت کچھ جو خاموش مداخلت و ڈپلومیسی کے ذریعے حاصل کیا گیا ہے ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔ایران کو چاہیے کہ خطے میں تفریق کرنے والی کی بجائے متحد کرنے والی طاقت بننے کی کوشش کرے ۔اور بجائے شیعہ، سُنّی کھیل کے سارے مسلمانوں کو متحد کرنے والی قوت بنے کی کوشش کرے۔

بظاہر بہت مشکل نظر آتا کہ دونوں اطراف کے انتہاپسند مسلکی عینک اُتارنے کو تیار نہیں ہیں (اسمیں ایران اور سعودی عرب دونوں نے پورا حصہ ڈالا ہے) لیکن انتہاپسند ہمیشہ اقلیت ہوتے ہیں، خاموش اکثریت جو ان مسلکی جنگوں سے بیزار ہی نہیں مخالف بھی ہے کو اپنی کی جانب متوجہ کرنے ضرورت ہے۔ یہ ایک اور یوٹرن ہوگا جو بظاہر مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن لگ رہا ہے۔

تاریخ سے ثابت ہو چکا ہے سافٹ پاور کا تاثر زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے۔ سرد جنگ کے زمانے میں مغرب نے سافٹ امیج کو استعمال کیا جسمیں نہ صرف فوج بلکہ امداد و ہالی ووڈ کی فلمیں و کلچر ملکر ایک تصویر بنائی گئی ، جبکہ کمیونسٹ روس ایک جارح ہارڈ پارو کے طور پر پیش کیا کیا ۔

بھارت نے کانگریس حکومتی ادوار میں خود کو سافٹ پاور کے طور پر پیش کیا جسمیں اسکا کلچر شاعری اور فلم انڈسٹری کو بھی بطور آلہ استعمال کیا گیا۔ اسکے بھی بے تحاشہ فوائد بلخصوص سفارتکاری کے میدان میں حاصل ہوئے۔ نریندر مودی کی حکومت نے اس سافٹ پاور ڈپلومیسی کو کھڑکی باہر پھینک کر بھارت کے بین القوامی تاثر کو بے تحاشہ نقصان پہنچایا ہے بلکہ بظاہر اس پہیے کو واپس گھمانا ممکن نظر نہیں آتا۔

ایسا محسوس ہوتا ہےکہ ایران کی بہ نسبت اسلامی دنیا میں ترکی ایک اُبھرتی ہوئی سافٹ پاور کا کردار اختیار کرتا نظر آرہا ہے۔کٹّر غیر مذہبی بلکہ اسلام دشمن ترکی سے ترکی کی موجودہ انقلابی تبدیلیوں نے جسمیں کھلے سیکیولر سے لیکر مذہبی طبقے تک سب کے لئے قابل قبول ماحول فراہم کرکے خطّے میں اپنی سافٹ پاور پروجیکٹ کررہا ہے۔اس وقت پاکستان سمیت کئی مملک میں ترکی کے مقبول ٹی وی ڈرامے ثقافتی یلغار کا ایک حصہ ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ترکی کی یونیورسٹیاں فراخ دلانا اسکالر شپ کے ذریعے بین القوامی طلباء کو اپنی طرف متوجہ کررہی ہیں۔

اسی لئے عرب حکومتیں ترکی کے بڑہتے ہوئے اثرات سے بہت زیادہ خوفزدہ نظر آرہی ہیں۔ حال ہی میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارت کی حکومتوں نے ترکی کے ٹی وی ڈراموں کے ذریعے ثقافتی یلغار کا مقابلہ کرنے کے لئے سلطنت عثمانیہ کو ظالم ثابت کرنے کے لئے خود بھی ٹی وی ڈراموں کے خطیر سرمایہ کاری کااعلان کیا ہے۔لیکن اے کاش کوئی سمجھائے کہ صرف ٹی وی ڈراموں کلچرل سرگرمیوں کے ذریعے ہی دنیا اپنی طرف متوجہ کر سکتے تو سویت یونین میں موسیقی سے لیکر رقص کھیل نہ جانے کن کن شعبوں میں اپنا لوہا منوالیا تھا ناکام نہ ہوتا۔

بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ بطور سافٹ پارو ترکی کے لئے بین القوامی و علاقائی رول کو آگے بڑہانا ضروری ہے، لیکن ترکی کا کرد اقلیت اور انکے ساتھ مسلسل حالت جنگ ترکی کے لئے بوجھ بھی ہےاور اسکی ترقی کے لئے رُکاوٹ بھی۔اگر ترکی اس مسئلے کو پُرامن اور کرد عوام کی خواہشات کے مطابق کچھ لو اور دو کے جذبے سے حل کر لیے تو نہ صرف ترکی بلکہ اُمت مسلمہ کے لئے خوش آئند ہوگا۔