اور پھر سب لوگ ہنسی خوشی رہنے لگے - فرح رضوان

شَفَا حُفْرَةٍ پارٹ 1
کہانی ہو بچوں کے لیے یا سٹوری ہو بڑوں کی ،فلم ہو یا ڈرامہ کی "ہیپی اینڈنگ " ، اس پر ہی ہونا ٹہرتی ہے کہ ہیرو ،ہیروئن مل گۓ ،شادی ہوگئی ختم شد -
اور اگرکہانی ادھر ہی ختم نہ کریں تو پھر بنتا ہے ،پانچ سو قسطوں پر مبنی ساس بہو سیریل جس کا نہ سر نہ پیر نہ دین ایمان بس کلچر- اور کچھ افراد کی ذاتی سوچ -ذاتی عقائد ذاتی مفادات اور نفسانی خواہشات کے گھیرے میں گھومتی گھماتی سب کو چکراتی ذلالت کے گڑھے میں لا گرانے والی سوپ اوپرا -

جو کیمرہ ریل سے نکل کر آج ہر دوسرے گھر کی رئیل لائف سٹوری بن چکی ہے - ان شااللہ اگلی کچھ اقساط میں ہمارے انہی بگڑتے رویوں پر بات کرنے کی کوشش ہوگی ،کہ ہم سمجھ نہیں پا رہے ہیں کہ نماز روزہ قران تو بس ایمان کے خانے میں ہی آتا ہے کہ ان سے انکار یا فرار تو ایمان سے ہی خارج کر دیتا ہے ؛تو کامیابی کے لیے نیکی کا اگلا عمل یعنی عمل الصالحات کیا ہے آخر ؟ وہ یہی تو ہے نا اچھے اخلاق ، آپسی تعلقات میں صاف شفاف ،پر خلوص رویے - کیسا کمال ہے نا سالہاسال سے پوری قوم نے رونا مچایا ہوا ہے صاف شفاف الیکشن ،اور دھاندلی کا ،مگر اپنے اپنے گھروں میں رویوں میں نہ صاف کی خبر نہ شفاف کا پتا ،اور دھاندلی کر کر کے بھی "پارسا متقی ،حاجی، نمازی، قرآنی، شرعی،جنتی "بنے ہوتے ہیں ، جبکہ کردار منفی ----تو آخر ایسا کیوں ؟ کیونکہ اپنی حد یا تو پتا نہیں یا سب کچھ جان کر بھی غاصبانہ فطرت ،عقیدہ آخرت شدید ناکارہ یا مردہ یا سویا ہوا کہ ہوش ہی نہیں کہ یوم الدین تو ذرہ بھر نیکی بھی کام بنا سکتی ہے اور ذرہ بھر لوگوں کی حق تلفی ،ایذا رسانی ،سستی کاہلی چالاکیاں ،جھوٹ ،دکھاوا ،بے انصافی ،بدزبانی ،دست درازی ،بے حیائی کام بگاڑ بھی سکتی ہے -

ہمارا کام کون بگاڑتا ہے ؟ جواب ہے ولن ؛ ہماری زندگی میں ولن کوئی بھی ہو سکتا ہے ! بیوی ،شوہر سسرالی یاسگے رشتوں کے اندر جو بھی جتنے بھی افراد ہوں -دوست ہوں یا پڑوسی یا کاروباری سرکاری غیر سرکاری تعلق یا بنفس نفیس اپنا آپ تو جاننا ضروری ہے کہ ولن کیا ہوتا ہے ؟ وہ جو اپنے خرافاتی ،خود غرض رویوں کے ساتھ نہ خود سکون سے رہتا ہے نہ رہنے دیتا ہے؛بلکہ سب کا سکون غارت کرکے اس کا نفس سکون مل گیا کی گھنٹی بجادیتا ہے ،اس گھنٹی کے شور میں ضمیر کی آواز ،قرآن و حدیث ،یا کسی خیر خواہ کی آواز ،کسی مظلوم کی فریاد ،خود کے سر پر فائر الارم بجتے سنائی ہی نہیں دیتے [ إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِندَ اللَّـهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ ٨:٢٢ بیشک اللہ کے نزدیک جانداروں میں سب سے بدتر وہی بہرے، گونگے ہیں جو (نہ حق سنتے ہیں، نہ حق کہتے ہیں اور حق کو حق) سمجھتے بھی نہیں ہیں]-
----جانداروں سے یاد آیا کہ آسٹریلیا میں لگی "قدرتی " آگ ہمارے لیۓ کس قدر بڑی رحمت ہے رب تعالیٰ کی کہ جس میں کتنے ہی جاندار جھلس کر ختم ہو گۓ-

جسکے کئی دلسوز مناظر بار بار "دیکھاۓ گۓ " یہ آگ یہ جھلسے جاندار ہم سے کیا کہہ رہے ہیں ؟ دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو -اب سمجھیں ذرا اپنے رب کی محبت اپنے آپ سے اور پوچھیں سوال خود سے کہ کیا واقعی ہم اس محبت و عنایت کے ذرہ بھر بھی لائق ہیں ؟ سبحان اللہ ،وہ ہوا جو گرم اور سرد صرف رب کے حکم سے ہوتی ہے ،اور سست یا تیز رفتار بھی اللہ ہی کے حکم پر،تو جب چلی گرم ہوائیں باذن اللہ تعالیٰ تو برسوں کے عبادت گزار اطاعت گزار،سب کو صرف خیر بانٹتے ،تسبیح کرتے فرمان بجا لاتے سر سبز درخت سڑ کے سوا ہو گۓ ؛ انگنت صبح شام مالک کی تسبیح بیان کرتے اپنی مکمل فطرت پر چلنے والے فرمانبردار جاندار ،رب تعالیٰ کے ایک حکم سے جل کر راکھ ہو گۓ صرف ہم سر پھروں اندھوں بہروں کو جہنم کی آگ سے بچنے کا پیغام دینے کہ اگر پہاڑوں میں آتش فشاں پھٹنے،اور جلتے لاوے بہنے کا عمل تم کو سمجھ نہیں آرہا تو جہنم سے ملتا جلتا منظر دیکھ لو اور جان لو کہ دوزخ کی آگ ستر گنا زیادہ جبکہ ساتھ ہی سزائیں ،بدبو اور ذلت و مایوسی کہیں کہیں زیادہ -

اگر اب بھی تمہارا رویہ نہ بدلا اور انجام جہنم ہی بنا لیا تم نے تو جسم ان درختوں میں پھنسے کھال ادھڑے بھینسے سے بہت بہت زیادہ بھیانک ہوگا؛ یہ تو خوش بخت ہیں کہ مر گۓ ،یوم الدین تو موت خود مر چکی ہوگی تو جہنم میں آ نہ سکے گی ؛معافی کا وقت گزر چکا ہوگا تو معافی مل نہ سکے گی - یہ نہ سوچیں کہ آسٹریلیا تو کوسوں دور ہے بلکہ یہ دیکھیں کہ چند گھنٹوں ہی کی مسافت پر ہے اور پھر ان آیات پر غور فرمائیے،" یہ دھیان میں رکھ کر کہ کافر ہوتا کون ہے" ؟ جو اللہ کی باتیں سن کر جان کر بھی مانتا نہیں،حق کو جانتا ہے مگر چھپا لیتا ہے، زبان سے لباس سے،تقریبات سے تفریحات سے رویوں سے اظہار کرتا ہی نہیں کہ اللہ کو جانتا ہے اللہ کی مانتا ہے انکار ہر ہر ادا سے جھلکتا ہے - [ جن لوگوں نے خدا کے ساتھ کفر کا رویہ اختیار کر ر کھا ہے اُن پر ان کے کرتوتوں کی وجہ سے کوئی نہ کوئی آفت آتی ہی رہتی ہے، یا ان کے گھر کے قریب کہیں نازل ہوتی ہے یہ سلسلہ چلتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آن پورا ہو یقیناً اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا ( 13:31)

اگر اللہ تعالیٰ عذاب کا وعدہ خلاف نہیں کرتا تو بخشش کا وعدہ بھی خلاف نہیں کرتا - ہمیں کرنا فقط یہ ہے کہ یہ جو ہمارے رویوں میں ولن در آیا ہے نا اسکی تربیت کرکے فقط ایک "ن" ہٹا کراسے ولی بنانے پر محنت کرنی ہے،اسکو خود ترسی ،خودغرضی سے ہٹا کر خدا ترسی سکھانی ہے - ان شا اللہ، تو [دوڑ کر چلو اُ س راہ پر جو تمہارے رب کی بخشش اور اُس جنت کی طرف جاتی ہے جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے، اور وہ اُن خدا ترس لوگوں کے لیے مہیا کی گئی (133) جو ہر حال میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں خواہ بد حال ہوں یا خوش حال، جو غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کر دیتے ہیں ایسے نیک لوگ اللہ کو بہت پسند ہیں (134) اور جن کا حال یہ ہے کہ اگر کبھی کوئی فحش کام ان سے سرزد ہو جاتا ہے یا کسی گناہ کا ارتکاب کر کے وہ اپنے اوپر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو معاً اللہ انہیں یاد آ جاتا ہے اور اس سے وہ اپنے قصوروں کی معافی چاہتے ہیں کیونکہ اللہ کے سوا اور کون ہے جو گناہ معاف کرسکتا ہو او ر وہ دیدہ و دانستہ اپنے کیے پر اصرار نہیں کرتے (135)آل عمران ]
ان شا اللہ جاری ہے

Comments

فرح رضوان

فرح رضوان

فرح رضوان کینیڈا میں مقیم ہیں۔ خالق کی رضا کی خاطر اس کی مخلوق سے لگاؤ کے سبب کینیڈا سے شائع ہونے والے ماہنامے میں قریباً دس برس قبل عائلی مسائل پرلکھنا شروع کیا تھا، اللہ کے فضل و کرم سے سلسلہ جاری ہے۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.