فجر کا تحفہ ام محمد سلمان

یہ ان دنوں کی بات ہے جب عمر شریف غالباً بارہ تیرہ برس رہی ہوگی... اور پہلی بار کسی کتاب میں اشراق کی نماز کے فضائل کے بارے میں پڑھا تھا۔
حدیث لکھی تھی کہ: "حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس شخص نے نماز فجر جماعت سے ادا کی اور طلوعِ آفتاب تک ذکرِ الٰہی میں مشغول رہا پھر دو رکعت نماز پڑھی تو ایک کامل و (مقبول) حج اور عمرے کا ثواب لے کر واپس ہوتا ہے۔ (ترمذی)"

حدیث مبارکہ پڑھتے ہی دل میں ایسا شوق و ولولہ اٹھا کہ اسی وقت تہیہ کر لیا کہ کل صبح یہ نماز ضرور پڑھنی ہے۔ بس...!! پھر بڑی بے چینی سے سورج ڈوبنے کا انتظار ہونے لگا۔ (بھئی ڈوبے گا تو کل صبح ابھرے گا ناں....!!) دوسرے دن فجر میں اٹھے تو صبح کا ہلکا ہلکا پر نور سا اُجالا پھیلا ہوا تھا۔ ہم نے وضو کیا اور چھت پر آگئے تاکہ نماز پڑھ کر وہیں جائے نماز پر بیٹھے بیٹھے اللہ کا ذکر کرتے رہیں اور جب دھوپ نظر آئے تو اشراق پڑھ کر نیچے چلے جائیں۔سردیوں کے دن تھے، اسکول کی چھٹی تھی شاید۔۔۔ ہم نے چھت والے کمرے میں مصلیٰ بچھایا اور بڑے سکون و اطمینان کے ساتھ نماز فجر ادا کی اور پھر تسبیح لے کر ذکر شروع کر دیا۔ نظریں سامنے دیوار پہ جمی تھیں جہاں سورج نکلتے ہی دھوپ آ جاتی تھی۔ بس طے یہ کیا تھا کہ جیسے ہی دیوار پہ دھوپ پڑے گی ہم بھی اشراق کے نوافل پڑھ لیں گے اور ایک مقبول حج و عمرے کا ثواب لے کر ہی نیچے جائیں گے آج مصلّے پر بیٹھے بیٹھے کافی دیر گزر گئی، جانے کتنی تسبیحات پڑھ ڈالیں، اچھی خاصی دن کی روشنی پھیل گئی لیکن سامنے دیوار پر دھوپ ہی نظر نہ آئے۔ ہم پریشان.. الٰہی ماجرا کیا ہے؟ سوچا کے اٹھ کر سورج کو دیکھ آئیں نکلا ہے یا نہیں؟ مگر پھر یہ گمان کہ ثواب کم نہ ہو جائے کہیں...!! مگر بیٹھے کب تک رہتے۔ اب تو بھوک بھی لگنے لگی تھی۔ آخر کار یہ سوچا کہ جا کر دیکھنا ہی چاہیے.....!!

چھت پر جس کونے سے سورج ابھرتا دکھائی دیتا تھا، وہاں جا کر دیکھا تو سورج کا نام و نشان کوئی نہیں ۔ دل میں عجیب عجیب واہمے آئیں... اللہ جی!! کیا آج سورج نہیں نکلے گا؟ نہیں نکلا تو ہمیں اتنا سارا ثواب کیسے ملے گا؟ (یاد رہے!! اس وقت کے بچے آج کل کی طرح اتنے سیانے نہیں ہوتے تھے، کوئی بھی بے وقوفی کی بات سوچ سکتے تھے) پھر آ کے مصلّے پہ بیٹھ گئے، ایک تسبیح اور کلمے کی پڑھی اور پھر جا کر سورج کے درشن کرنے کی کوشش کی.... مگر آفتاب ندارد!! نہ جانے ایسے ہی کتنے چکر لگا لیے.. مگر مجال ہے کہ سورج صاحب نظر آ جائیں۔ لو بھئی!! سورج نہ ہوا عید کا چاند ہو گیا...!! آخر پھر خیال آیا کہیں ایسا تو نہیں کہ بادل چھائے ہوں اور اس وجہ سے سورج دکھائی نہ دے رہا ہو.... اب دوبارہ جائزہ لینے اسی کونے میں تشریف لے گئے تو پتا چلا.. اوہو......!! اتنی دیر سے ہم بس سورج کو دیکھنے کے چکر میں یہ تو دیکھ ہی نہیں پائے کہ آج بادل چھائے ہوئے ہیں، تو دھوپ کیسے نکلے گی بھلا..!! اپنی عقل پہ سلامتی بھیجی اور جا کر اشراق کے نوافل ادا کیے. خیال پڑتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے نماز کی مقبولیت کی خوب دعائیں بھی مانگی ہوں گی، اللہ جی!! ثواب پورا ملنا چاہیے... بندی نے ویسے ہی بڑی تکلیف اٹھائی ہے۔ پھر نیچے آ کر وقت دیکھا تو آٹھ بج چکے تھے اور طلوعِ آفتاب کا وقت شاید سات سوا سات بجے کے درمیان کا تھا۔

بچپن کا بے فکری کا زمانہ تھا بس ایک بار پڑھ کے خوش ہو گئے کہ اب تو ہم الحمدللہ حاجی بن چکے ہیں۔ جانے کتنے دن اترائے اترائے پھرے ہوں گے، اب تو یاد نہیں۔ (اللہ!! تھے بھی تو اتنے سادہ لوح....!!!) بس جب کبھی کتاب پہ نظر پڑتی، فضائل یاد آتے تو اشراق بھی پڑھ لیتے ۔اب بھی پڑھتے ہیں الحمدللہ.. کبھی رہ بھی جاتی ہے، مصروفیت یا سستی کے باعث ۔ کبھی لمبا وقفہ بھی آ جاتا ہے۔ مگر جب جب فضیلت یاد آ جائے اور اللہ توفیق دیں تو پڑھتے ضرور ہیں ۔تفسیر کی باجی فرض نمازوں کے ساتھ ساتھ نوافل کی بھی بہت ترغیب دیا کرتی ہیں۔ کہتی ہیں فجر کی نماز پڑھ کر اگر وقت نہیں بھی ملتا ہے ناشتے اور بچوں میں مصروف ہو جاتی ہو تو بھی زبان تو فارغ ہی ہوتی ہے.. اللہ کا ذکر کرتی رہا کرو اور جب طلوعِ آفتاب کو پندرہ بیس منٹ گزر جائیں تو اشراق کی دو رکعت ضرور پڑھا کرو۔ اللہ کی بندیو!! آخرت کے فائدوں پر بھی نظر رکھا کرو...!! دنیا کے سارے کام ہوتے رہتے ہیں.. سب چلتا رہتا ہے کچھ نہیں رکتا تمہارے بغیر....!! اس لیے اپنی آخرت بناؤ ۔ نوافل میں ایک دوسرے پہ سبقت لے جانے کی ایسی ہی کوشش کیا کرو جیسی برانڈڈ چیزیں خریدنے، گھر سجانے اور زیور کپڑے میں کیا کرتی ہو ۔ ہر وقت شوہر اور بچوں کو خوش کرنے کے چکر میں رہتی ہو، کبھی اللہ کو بھی خوش کرنے کی سوچا کرو ۔

عام دنوں میں نہیں بھی پڑھ سکتی ہو تو کم از کم چھٹی والے دن تو کچھ وقت اپنے اور اپنے رب کے تعلق کو مضبوط کرنے کے لیے نکالا کرو... یہ کیا کہ الٹی سیدھی نمازِ فجر پڑھی اور بستر پہ جا کر گر گئے.... تھوڑا سا وقت بیٹھ کر سکون سے اللہ کا ذکر کرو اور پھر دو یا چار رکعت نماز پڑھ لو تو کیسے دامن خوشیوں اور اطمینان سے بھر جائے ۔
اللہ تعالیٰ باجی صاحبہ کو جزائے خیر دے جو ہم سب کی اتنی فکر کرتی ہیں ۔ایک دن نور چشمی کو دیکھا مدرسہ جانے سے پہلے اشراق پڑھ رہی ہیں، دل میں ایسی محبت جاگی بیٹی کی کہ کیا بتائیں....!! الحمد للہ! اللہ نے توفیق بخشی۔ بس یہ سوچ رہی تھی کہ جب ایک ماں اپنی اولاد کو اشراق پڑھتے دیکھ کر اتنی خوش اور محبت سے مغلوب ہو جاتی ہے تو وہ جو رب العالمین ہے، اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے!! وہ انھیں اشراق پڑھتے دیکھ کر کتنا خوش ہوتا ہوگا کہ اس کے پیارے بندے فرائض کے ساتھ ساتھ اس کی خوشی کی خاطر نوافل کا بھی اہتمام کرتے ہیں ۔ وہ کیسے کیسے انھیں نوازتا ہوگا.... کیسے کیسے فرشتوں کے سامنے فخر فرماتا ہوگا.... سوچنے کی بات ہے!!! اللہ کریم ہم سب کو توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین ۔

ٹیگز