لغت بدل گئی، ہے نہیں اور نہیں ہے ہوگیا - حبیب الرحمن

کبھی اسکول کالج کے زمانے میں کہیں ایک شعر پڑھا تھا لیکن اس وقت وہ فقط ایک شعر ہی تھا اور اس میں کہی گئی بات تفننِ طبع کیلئے ایک مسکراہٹ کے علاوہ اور کچھ نہیں تھی۔ تقریباً 45 سال بعد لگتا ہے کہ وہ شعر کہا تو اس وقت گیا تھا لیکن وہ آج کے زمانے کیلئے تھا گویا شاعر 45 سال کی دوری پر بھی آج کے زمانے کو دیکھ رہا تھا۔ شعر کچھ یوں تھا کہ

مجھ کو تو ہر اک منظر الٹا نظر آتا ہے

مجنوں نظر آتی ہے لیلیٰ نظر آ تا ہے

کسی زمانے میں ہوتا یہ تھا کہ ہمارا محکمہ موسمیات تقریباً ساری پیش گوئیاں محض اندازے پر ہی داغ دیا کرتا تھا۔ اگر سردی نے ٹھٹرا دیا تو پیش گوئی کر دی گئی کہ اگلے دن درجہ حرارت مزید گر جائے گا لیکن ہوتا یوں تھا کہ پہن کر تو دو دو سویٹر جاتے لیکن واپسی نہ صرف بنا سویٹر ہوتی بلکہ کھجلی کی وجہ سے سارے جسم کو بھنبوڑتے ہوئے چلے آ تے۔ اعلان ہوتا کہ موسم خشک رہنے کا امکان ہے، ٹھیک دوپہر میں وہ جل تھل مچتی کہ بارش کا پانی گھروں اور دکانوں کے اندر تک داخل ہو جاتا۔ درجہ حرارت 48 سے بھی تجاؤز کرسکتا ہے کے اعلان کے ساتھ ہی خوشگوار ہوائیں چلنا شروع ہو جایا کرتی تھیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان نہ صرف بہت غریب ہوا کرتا تھا بلکہ جدید ٹیکنالوجی کی دوڑ میں بھی دنیا سے بہت پیچھے تھا۔ اب زمانہ بہت ایڈوانس ہو گیا ہے اور قدرت اگر خود کسی مذاق کے موڈ میں نہ ہو تو محکمہ موسمیات کی کئی کئی دن پہلے کی اعلان کردہ پیش گوئیاں بھی درست ثابت ہو نے لگی ہیں اور لوگ محکمے کی جاری کردہ پیش گوئیوں کے مطابق اپنی اپنی کمر کس کر گھر سے باہر نکلنے لگے ہیں۔

محکمہ موسمیات کی کارکردگی تو پیشک بہت بہتر ہو گئی ہے لیکن حکمرانوں کی دل و دماغ کے سارے جدید آلات یا تو پرانے اور ناکارہ ہو کر رہ گئے ہیں یا اللہ تعالیٰ نے ان سے سچ بولنے اور حالات کے مطابق فیصلے کرنے کی ساری توفیق ہی جیسے سلب کر کے رکھ دی ہے۔ گزشتہ کئی دھائیوں سے حکمران جو بھی دعوے اور وعدے کرتے ہیں، جس جس منصوبہ بندی کا اعلان کرتے ہیں اور قوم کے مستقبل کے متعلق جو باتیں بھی بیان کرتے ہیں، آنے والا ہر دن ان کے وعدوں، دعوں، منصوبہ بندی اور مستقبل کے متعلق کہی گئی باتوں کے خلاف جارہا ہوتا ہے۔ پرانے زمانے میں محکمہ موسمیات کی پیش گوئیاں بے شک زیادہ غلط ہی ثابت ہوا کرتی تھیں لیکن پھر بھی بہت سارے تکے ایسے ہوتے تھے جو تیر بن جایا کرتے تھے۔

اسی طرح ماضی کے کئی حکمران اور ان کے ادوار ایسے ضرور گزرے ہیں کہ حالات ان کے دعوں، وعدوں اور عوام کے سامنے بیان کی گئی باتوں کے برعکس ثابت ہوتے رہے تھے لیکن پھر بھی بیشمار باتیں اور دعوے حقیقت کا روپ بھی دھارتے دکھائی دیے لیکن اب تو یہ عالم ہو گیا ہے کہ اردو کی ساری لغت اور انگریزی کی پوری ڈکشنری ہی تبدیل ہو کر رہ گئی ہے اسی لئے جو بات بالکل تیر کی طرح سیدھی دکھائی دے رہی ہوتی ہے وہ بھی جلیبی بن کر رہ جاتی ہے لہٰذا ضروری ہوگیا ہے کہ اردو لغت میں درج ہر انکار کو اقرار، ہر ہے کو نہیں اور ہر نہیں کو ہے سے بدل دیا جائے تاکہ وہ معصوم عوام جو دامے درمے قدمے سخنے ہر دعوے اور وعدے کرنے والے رہبر و رہنما کے پیچھے پیچھے چلنے لگتے ہیں ان کو ہر کئے جانے والی "ہاں، ناں، اقرار اور انکار" کے اصل معنی و مفاہیم سمجھا اور بتا دیئے جائیں تاکہ امیدیں پوری نہ ہونے کی صورت میں ان کے دل و جگر کو زخمی اور پاش پاش ہونے سے بچایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان اور دنیا میں اردو کے سفیر - شیخ خالد زاہد

سنا ہے سیاست کے سینے میں دل ہی نہیں ہوتا، یہاں تک تو بات سمجھ میں آتی ہے۔ میں نے یہ بھی سنا ہے کہ وہ بے "رحم" ہوتی ہے، یہ بات سمجھ سے بالکل ہی بالا تر ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر سیاست واقعی بے "رحم" ہے تو پھر وہ جھوٹ، فریب، دھوکا دہی، ناانصافی، ظلم، جبر، ستم اور ہر اس چیز کو جو انسانی اقدار، اخلاق، کردار، امن، سکون، اطمنان اور خوش بختی کو غارت کرکے رکھ دیتی ہے، جنم کیسے اور کہاں سے دیتی ہے۔ سیاست صرف پاکستان ہی میں تو نہیں ہوا کرتی، پوری دنیا بغیر سیاست کے چل ہی نہیں سکتی بلکہ دنیا کا کوئی قانون، آئین، دستور، حتیٰ کے اسلام کے ضابطہ حیات میں سے بھی اگر سیاست کو مائینس کر دیا جائے تو دنیا راحت و سکون کا نمونہ بننے کی بجائے غم و وندوہ کا مجموعہ اور دوزخ بن کر رہ جائے۔ اگر یہ سچ ہے تو پھر سیاست کو اندھی اور بے رحم کیوں کہا جاتا ہے۔

ممکن ہے کہ دنیا کے بیشمار ممالک کے حالات ہمارے ملک کے حالات سے بھی کئی گنا برے اور کٹھن ہوں لیکن وہ ممالک بھی تو ہیں جہاں امن ہے، سکون ہے، اطمنان ہے، انصاف ہے، خوشحالی ہے اوروہاں ہر کام طے شدہ اصول و ضوابط کے مطابق انجام دیا جاتا ہے۔ اب معلوم نہیں کہ جو ممالک جہنم کی مثل بنے ہوئے ہیں وہاں "سیاست" نہیں ہے یا جو ممالک جنت نظیر کہلانے کے مستحق ہیں وہاں سیاست سیاست کا کھیل نہیں کھیلا جاتا۔

اگر دیانتدارانہ تجزیہ کیا جائے تو ہر سلجھا ہوا ذہن یہی نتیجہ اخذ کریگا کہ کہ سیاست ان ممالک میں بھی ہے جو دوزخ بنے ہوئے ہیں اور سیاست وہاں بھی ہے جو رشک فردوس بریں ہیں، فرق صرف سیاسی مقاصد کو منفی یا مثبت انداز میں اپنانے کا ہے۔

میں نے بہت شروع میں ہی عرض کیا تھا کہ مجودہ دور حکمت نے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ پاکستان کی قومی زبان ہو یا سرکاری زبان، اس کی لغت ہی کو تبدیل کردیا جائے اور منفی کو مثبت، ہاں کو نہیں، انکار کو اقرار اور یس کو نو کے معنی پہنا دیئے جائیں۔ موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے سے قبل کے سارے دعوے اور وعدے سامنے رکھے جائیں اور پھر عمل کی میزان میں ان کو تولا جائے تو جھوٹ اور فریب کا ایک حرف بھی سارے دعوں اور وعدوں کے پلڑے کو اوپر لے جانے کیلئے کافی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   اپنی زبان اپنی تہذیب پہ فخر کیجیے - شاہد مشتاق

حکمرانوں کا یہی کردار خود حکمرانوں کیلئے ایک ایسا چیلنج بن کر رہ گیا ہے جس سے نمٹنے کیلئے اور عوام میں اپنا اعتماد برقرار رکھنے کیلئے حکمرانوں کے پاس جو وقت بچا ہے وہ اب اس کام کیلئے کم ہی دکھائی دیتا ہے۔ ان کے منھ سے نکلی کوئی ایک بات بھی ایسی نہیں جو مکر سے پُر نہ ہو اور عوام کیلئے بہلاوے سے زیادہ حیثیت نہ رکھتی ہو۔

کون نہیں جانتا کہ کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے۔ پاکستان کو کھرب ہا کھرب روپوں کا ریوینیو فراہم کرنے والے اس شہر کو اگر اپنی بنیادی ضرورتیں پوری کرنے کیلئے بھی فنڈز نہیں دیئے جائیں تو کیا یہ ظلم و زیادتی کی بات نہیں ہوگی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بیشمار ذمہ داریاں صوبائی حکومت کی بھی ہوتی ہونگی لیکن جس شہر میں اگر اتحادیوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو اس کی قومی اسمبلی میں 80 فیصد سے زیادہ نمائندگی ہو، مقامی حکومت سو فیصد اتحادی جماعت کی ہی ہو اور مرکزی حکومت بھی حکمران جماعت اور اتحادی جماعت ہی کا ہی ہو، لیکن اس کے باوجود بھی کراچی اٹھارہ ماہ سے صرف وعدوں وعیدوں پر ہی چلایا جارہا ہو تو کیا یہ بات کراچی کے ساتھ دوستی میں شمار کی جائے گی یا سراسر دشمنی کہلائے گی۔

کراچی کی غیر اتحادی قوتیں تو مخالفت کرتی ہی رہیں ہیں لیکن اب وہ جماعت جو ہے تو بہت قلیل تعداد میں لیکن اپنے وزن کے اعتبار سے وہ اقتدار کے پلڑے کا توازن بگاڑ کر رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے، وہ پورے اٹھارہ ماہ مرکز کی وعدہ خلافیوں سے بیزار ہو کر فی الحال وزارت سے مستعفی ہو رہی ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ اس کا اعتماد بار بار کی وعدہ خلافیوں کی وجہ سے موجودہ حکومت سے اٹھ گیا ہے۔ یہ صورت حال دیکھتے ہوئے وزیر اعظم نے نہ صرف ایم کیو ایم پاکستان کے مطالبات کو جائز قرار دیا ہے بلکہ یقین دلایا ہے کہ حکومت انھیں بہر صورت پورا بھی کرے گی۔

یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کوئی مسئلہ "ضد اور اڑ" کے بعد ہی کیوں توجہ حاصل کرتا ہے اور دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اگر واقعی یہاں مسائل ایسے ہیں جو فوری توجہ چاہتے تھے تو ان پر اب تک عدم توجہی کیوں اختیار کی گئی وہ بھی ایک ایسے شہر کی جانب سے جو نہ صرف خود کفیل ہے بلکہ پاکستان کو بہت کچھ دیتا ہے۔

حکومت نے جو وعدے وعید کئے ہیں وہ اپنی جگہ لیکن میں مطالبات کرنے والوں سے اتنا ضرور کہوں گا کہ آپ کسی بھی "ہاں" کو اس وقت تک "ناں" ہی سمجھیں جب تک وہ واقعی "ہاں" نہ ہو جائے اس لئے کہ اب پاکستان کی قومی زبان کی لغت ہو یا سرکاری زبان کی ڈکشنری، اس میں دیئے گئے ہر لفظ کے مطالب و معانی برعکس ہو چکے ہیں اور ہر مثبت مفہوم منفی سمجھا جانے لگا ہے اس لئے صبر کے کڑوے گھونٹ پئیں اور لمبی تان کے سونے میں ہی سکون ہے یا پھر قبر رہ گئی ہے جہاں اطمنان کی نیند آ سکتی ہے۔ یقین نہیں تو وزیر اعظم کے ارشادات ملاحظہ کر لیجئے گا۔