بڑھاپے کی شادی - بشارت حمید

موت سے کسی کو فرار نہیں یہ وقت ہر ذی روح پر آ کر رہنا ہے۔ ہم سب دنیا کے بہت بڑے دھوکے میں شب و روز بسر کر رہے ہیں۔ مرد یا عورت اگر ساٹھ پینسٹھ سال سے اوپر ہو اور اس کا جیون ساتھی دنیا سے رخصت ہو جائے تو ہمارے ہاں اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ بس اب اس کی ضرورت دو وقت کے کھانے اور کپڑے جوتی سے زیادہ کچھ نہیں۔

اب یہ عضو معطل ہے اور اسی طرح زندگی کے دن پورے کرے گا یا کرے گی۔ اگر کوئی اس عمر کا مرد یا عورت شادی کی خواہش ظاہر کر ہی دے تو سب اس کا مذاق اڑانے کے ساتھ اسے طعنے بھی دینے لگ جاتے ہیں۔ اگر وہ باپ ہے تو بچوں کو اپنی حصے کی جائیداد میں ایک اور حصے دار (سوتیلی ماں) کی آمد گوارا نہیں ہوتی اس لئے ایسی بات سوچتے بھی وہ ڈرتا ہے کہ بچے مجھے کیا سمجھیں گے کہ اس عمر میں شادی۔۔ اور اگر وہ ماں ہے تو پھر اسے جعلی غیرت کا مسئلہ بنا لیا جاتا ہے۔

کئی شقی القلب بیٹے تو اپنی جوان بیوہ ماں کو بھی دوسری شادی کرنے پر جان سے مار دینے تک چلے جاتے ہیں۔ جب دین کسی رنڈوے یا بیوہ کی شادی پر قدغن نہیں لگاتا بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے تو کسی کو حق نہیں کہ وہ اس سے منع کرے۔ جب فطری ضرورت کے لئے حلال راستہ میسر نہ ہو تو اس صورتحال کا نتیجہ پھر بدکاری کی صورت میں بھی نکلتا ہے۔ ایک بزرگ کہا کرتے تھے کہ پنڈ میں کسی کی بیوی فوت ہو جائے اور وہ بعد میں شادی نہ کرے تو سب بڑی تعریف کرتے ہیں کہ بڑا وفادار ہے ۔

بیوی کے بعد بھی کسی اور کو اسکی جگہ نہیں لایا ۔ وہ الگ بات ہے چاہے حقیقت میں اس نے پنڈ کی کوئی ایک عورت بھی نہ چھوڑی ہو جس پر ڈورے ڈالنے کی کوشش نہ کی ہو۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ جوان بچے اپنے بیوی بچوں کے ساتھ اور اپنی جاب اپنے کاروبار میں مصروف رہتے ہیں اور اس عضو معطل کے پاس بیٹھ کر اسکی باتیں سننے اس کے دکھ درد شئر کرنے والا بھی کوئی نہیں ہوتا ۔ نوکر چاکر وہ کمی کبھی بھی پوری نہیں کر سکتے۔۔۔ پھر وہ اکثر اکیلے رہ کر اپنی زندگی کے دن پورے کرتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:   عجیب فیصلہ - شیراز علی مردانی

بڑی عمر میں مختلف کمزوریوں اور بیماریوں کی وجہ سے اسے دیکھ بھال کی ضرورت بھی رہتی ہے ۔ اگر میاں یا بیوی کا ساتھ ہو تو یہ دیکھ بھال بہترین طریقے سے ہو سکتی ہے ۔ اس کے حل کے لئے بچوں کو عملی طور پر سوچنا چاہئے ۔ اگر خود باپ یا ماں سے بات نہیں کر سکتے تو انکے کسی دوست یا سہیلی کے ذریعے کی جا سکتی ہے ۔ اس طرح انہیں زندگی کے دھارے میں واپس لانا چاہئے تاکہ وہ جب تک زندہ ہیں خود کو بے کار فرد بھی تصور نہ کریں اور نہ ہی تنہائی کا شکار ہوں۔