سہاگن - قیصرہ پروین

ہم دو بہن بھائی تھے- بھائی مجھ سے بڑا تھا - میرے ابو سیمنٹ فکٹری میں ملازم تھے -ابو کو ریٹاہر ہونے میں ابھی دس سال باقی تھے ۔ہماری زمین بہت زرخیز تھی -گویا سونا اگلتی تھی ۔ہر قسم کی فصل پک کر تیار ہوتی تھی ۔میرے ایک چچا تھے ۔ان کے دو بیٹے اور دو بییٹاں تھیں۔ان کے بچے ہم سے بہت چھوٹے تھے ۔ہم لوگ ایک ہی حویلی میں رہتے تھے ۔

اگر کبھی لڑائی ہو جاتی تو ہماری ماہیں ہمیں سمجھا بجھا کر صلح صفائی کرا دیتیں ۔میری چچی اور امی دونوں کزن تھیں مگر ایک دوسرے کا بہت خیال رکھتی تھیں ۔یہی وجہ تھی کہ ابو اور چچا بھی اتفاق ، اتحاد اور پیار و محبت سے اگھٹے رہ رہے تھے ۔چچا زیادہ تر زمین داری کرتے ۔ گاوں میں ایک سرکاری سکول تھا جہاں پہ دور دور سے بچے تعلیم حاصل کرنے آتے ۔مجھے اور میرے بھائی کو تعلیم حاصل کرنے کا زرا برابر شوق نہ تھا جبکہ چچا کے بچے شوق سے سکول جاتے ۔میری امی ہماری تعلیم کی وجہ سے بہت فکرمند رہتیں ۔مگر ایک ہم تھے کہ ان کی خواہش کو پورا نہیں کر سکتے تھے -امی اکثر بھائی کو سمجھاتیں کہ انسان کا ہنر اسے بھوکا نہیں مرنے دیتا ۔

بھائی اکثر امی سے کہتا کہ جب وقت آئے گا تو دیکھا جائے گا - بھائی نے سکول کا رخ تو نہ کیا -مگر شکر ہے کہ زمینوں کا کام سمبھال لیا - جب ابو ریٹاہر ہونے تو ابو نے اس کی شادی کا سوچا مگر اب مسلہ یہ تھا کہ میری دو خالہ تھیں اور دونوں کی بیٹیاں جوان تھیں رشتہ مانگنے جائیں تو کس کے گھر جائیں ۔امی نے بھائی سے پوچھا تو انھوں نے چھوٹی خالہ کے گھر جانے کو کہا ۔یوں میری بھابی میری خالہ زاد بن گئی۔کرن بہت اچھی بہو ثابت ہوئی ۔لوگوں نے نند ، بھابھی کے رشتے کو اتنا بد نام کر دیا ہے کہ ان رشتوں کا تقدس ہی نہیں رہا ۔حالانکہ کئی ایسے گھرانے ہیں جہاں یہ رشتے بہت خوبصورتی اور پیار و محبت سے نبھائے جا رہے ہیں ۔دو سال بعد بھائی کو اللہ تعالی نے ایک بیٹی اور پھر ایک بیٹے سے نوازا -بچوں کی ننھی ننھی سی شرارتوں سے گھر جنت کا نمونہ لگنے لگا ۔اب امی ابو کو میری شادی کی فکر تھی -کیونکہ امی ابو دونوں بیمار رہنے لگے تھے ۔

ہمارے گاوں میں لڑکیوں سے رائے لینا گویا گناہ سمجھا جاتا تھا جبکہ اسلام لڑکے اور لڑکی دونوں کی رضا مندی کی اجازت دیتا ہے -پھر ہمارے نبی نے بھی تو اپنی لخت جگر کی شادی کے وقت ان سے ان کی رائے لی تھی -پھر ہم ایسا کرتے ہوئے کیوں ہچکہچاتے ہیں - کیوں اپنی جان سے بھی پیاری بیٹیوں کو اندھے کنوئے میں پھینک دیتے ہیں ۔ان کی زندگی کا فیصلہ بغیر سوچے سمجھے ایک ایسے شخص سے کر دیتے پیں جو اسے تمام عمر خوشیوں کے لیے ترساتا رہتا ہے ۔وہ اپنے والدین کو دکھی کرنے کے بجائے اپنے ہی ہونٹوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سی لیتی ہے -اور تمام دکھ اپنے سینے میں دفن کر لیتی ہے ۔

ابو کے ایک کزن شہر میں رہتے تھے ۔ان کے چار بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں ۔ ایک کی شادی ہو چکی تھی ۔دوسرے کی باری تھی۔دونوں بڑے بیٹے سرکاری ملازم تھے جبکہ چھوٹے بیٹے اور بیٹیاں سکول پڑھتے تھے ۔خوشی اور غمی پہ ہی سب اگھٹے ہوتے تھے مگر ہم لوگ پھر بھی اتنے ان کے گھروں میں نہ آتے تھے بڑے ہی آتے جاتے تھے ۔ایک دن وہ لوگ ہمارے گھر میرے رشتے کے لیے آئے ،امی ابو نے کچھ دن کی مہلت مانگی ۔جس طرح کسی کو پھانسی پہ لٹکانے سے پہلے تمام گواہوں اور شواہد کو مدنظر رکھا جاتا ہے کاش اسی طرح ایک لڑکی کی زندگی کا فیصلہ کرنے سے پہلے لڑکے کی زندگی کے متعلق تمام معلومات اگھٹی کر لی جائیں تو کبھی گھروں کے ٹوٹنے کی نوبت ہی نہ آئے ۔یہ بندھن تو ایسے نازک ہوتے ہیں کہ صرف تین بول کے محتاج ہوتے ہیں ۔تین بول سے ہی زندگی کا سفر شروع ہوتا ہے اور انھی تین بول کی بدولت عمر بھر کا ساتھ منٹوں میں چھوٹ جاتا ہے ۔

ایک ایسی ہی سوہانی صبح تھی جب میں اور کاشف زندگی کے اس خوبصورت بندھن میں بندھ گئے ۔ہماری شادی خوب دھوم دھام سے ہوئی ۔میرے والدین نے جہیز میں ہر وہ چیز دی جس کی خواہش ہر لڑکی کرتی ہے مگر ایک چیز وہ بازار سے خرید کر نہ لا سکے وہ تھے میرے نصیب ۔ اگر بازار سے نصیب ملتے تو پھر ہر غریب اپنی استعاعت کے مطابق اپنی بیٹی کے نصیب خرید کر اس کے ہاتھ پیلے کرتا ۔امیر ہو یا غریب جس کسی کی بھی قسمت میں دکھ ہو وہ اسے مل کر ہی رہتا ہے ۔میرے والدین میرا فرض ادا کرکے بہت خوش تھے ۔گویا ایک بہت بڑا پہاڑ سر سے اتر گیا ہو ۔انھیں کیا معلوم تھا کہ یہ ان کی غلط فہمی تھی ۔ان کی لاڈوں سے پلی بیٹی زندگی کے بہت بڑے امتحان میں پڑ چکی تھی ۔جب میری ڈولی آئی میری ساس اور نندوں نے میرے پاوں کے نیچے روئی رکھی میں آج تک اس منطق کو نہ سمجھ سکی کہ زندگی کے نئے سفر پہ پہلا قدم روئی پہ پھر آگلا سفر کانٹوں پہ کیوں کٹتا ہے ؟

اگر تمام عمر کانٹوں پہ ہی چلنا ہے تو پھر پہلا دن کانٹوں پہ چل کر کیوں نہیں ؟ میری نندیں بہت اچھی تھیں شاید چھوٹی تھیں اس وجہ سے یا کہ تربیت کا اثر تھا ۔تربیت تو کاشف نے بھی اسی گود سے لی تھی ۔ پھر اتنا بڑا تضاد کیوں ؟مجھے گلاب اور موتیے کی بنی سیج کے درمیان بیٹھایا گیا ۔ساہیڈ ٹیبل پہ مٹھائی، کیک اور دودھ کا گلاس رکھا گیا ۔ میں سوچوں کے سمندر میں غرق اپنے ہونے والے خوابوں کے شہزادے کے متعلق سوچ رہی تھی ۔اسی دوران ایک خوبصورت نوجوان لڑکھڑاتے ہوئے دروازے سے ایسے اندر داخل ہوا گویا کہ کسی نے پیچھے سے زبردستی دھکا دے کر بھیجا ہو ۔میں اس کی یہ حالت دیکھ کر گھبرا گئی ۔

اپنے ہاتھوں کی دو انگلیوں سے گھونگھٹ اٹھایا ، میں پسینے میں ڈوب چکی تھی میرے چہرے پہ پسینہ دیکھ کر بولا اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہو ؟میں کیا جواب دیتی اس کے منہ اور بدن سے آنے والی شراب کی بو میری سانسیں بند کر رہی تھیں ۔آدھی سے زیادہ رات بیت چکی تھی - مجھے سوھاگن کا رتبہ دے کر وہ لمبی تان کے سو چکا تھا ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com