پاکستان میں جعلی شادیاں 51 چینی باشندے

ایف آئی اے نے 51 چینیوں کو گرفتار کر لیا . تفصیلات کے مطابق ایف آئی نے گذشتہ چند برسوں میں پاکستانی خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی اور اعضاء کی فروخت کے لیے زبردستی شادیوں کے الزام میں 50 چینی باشندوں کو گرفتار کیا گیا ہے .تاہم اب تک چین سے صرف تین پاکستانی خواتین کو ہی واپس لایا جا سکا ہے. پاکستان کی وزارت داخلہ نے سینیٹ کو ایک تحریری جواب میں بتایا گیا ہے کہ ایف آئی اے کے مختلف دفاتر نے چینی باشندوں کی جعلی شادیوں کے پانچ مقدمات رجسٹرکیے ہیں.وزارت داخلہ کی دستاویزات کے مطابق جن تین پاکستانی خواتین کو چین میں شادی کے بعد واپس لایا گیا ان میں فیصل آباد اور گوجرانوالہ کی خواتین شامل ہیں جن کے نام مہد لیاقت،مقدس اور نتاشہ مسیح شامل ہے. 11 چینی شہریوں کو پاکستانی لڑکیوں سے جنسی زیادتی اور اعضاء کی فروخت کے لیے زبردستی شادی کے الزام میں 8 مئی 2019ء کو گرفتار کیا.اس وقت تمام ملزمان جوڈیشل لاک اپ میں ہیں اور کیس زیر تفتیش ہے.19 چینیوں پاکستانی نوجوان لڑکیوں کی جنسی تجارت اور جسمانی اعضاء کی فروخت پر گرفتار کیاگیا.اسی طرح 13 چینی باشندوں کو پاکستانی خواتین سے جعلی شادیوں کے الزام میں گرفتار کیا گیا جن میں سے دو کو عدالت نے بری کیا. جب کہ 11 افراد ابھی بھی ضمانت پر ہیں.

گذشتہ برس مئی میں 4 چینی افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا جن میں سے دو نے ضمانت کروا لی.واضح رہے کہ اے پی نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان بھر سے 629 لڑکیوں اور خواتین کو چینی مردوں کی دلہن کے طور پر فروخت کیا گیا ہے. ایسوسی ایٹڈ پریس کے ذرائع کے مطابق پاکستانی تفتیش کاروں نے اس حوالے سے ایک فہرست بھی مرتب کی ہے .جس میں غریب اور کمزور ممالک کا استحصال کرنے والے اسمگلنگ نیٹ ورک کو توڑنے کا عزم بھی اختیار کیا گیا. اس فہرست میں 2018 کے بعد سے پا کستان سے چین اسمگلنگ ہونے والی خواتین کی تعداد کے بارے میں ٹھوس پیش کیے گئے ہیں.تفتیش کاروں کے ایسے نیٹ ورکس کے خلاف جارحانہ کاروائی کےبعد رواں سال جون کے بعد اس سلسلے میں کمی دیکھنے میں آئی ہے. تفتیشی کرنے والے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں حکومت کی طرف سے بھی دباؤ تھا کیونکہ اس وجہ سے بیجنگ کے ساتھ تعلقات خراب ہونے کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا تھا. اکتوبر میں فیصل آباد کی عدالت نے 31 چینی شہریوں کو سمگلنگ کے الزام میں بری کیا تھا.عدالتی عہدیدار اور تفتیش کرنے والے پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ اس کیس میں متعدد خواتین کے انٹرویو کیے گئے تھے لیکن انہوں نے گواہی دینے سے انکار کیا تھا کیونکہ یا تو انہیں دھمکیاں دی گئی تھیں یا پھر خاموش رہنے کے لیے رشوت دی گئی تھی.

یہ بھی پڑھیں:   شادی ۔ رفاقت حیات

رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک مسیحی کارکن نے جس نے متعدد والدین کو اپنی بیٹیاں چینی مرودوں کو فروخت کرنے سے بچایا، اس نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے اسمگلنگ نیٹ ورک کے تعاقب کرنے والی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے عہدیداروں پر " دباؤ" ڈالتے ہوئے تحقیقات کو روکنے کی کوشش کی تھی. اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس سلسلے میں کام کرنے والے کچھ ایف آئی اے عہدیداروں کا تبادلہ بھی کر دیا گیا تھا. جب اس سلسلے میں پاکستانی حکام سے بات کی جاتی تھی . تو وہ کوئی توجہ نہیں دیتے تھے.شکایات کے بارے میں پوچھے جانے پرپاکستان کی وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ نے تبصرہ کرنے سے انکار کردیا تھا.انتقامی کاروائی ہونے کے ڈر سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک عہدیدار نے بتایا کہ اس نیٹ ورک کے خلاف تحقیقات سست روی کا شکار ہو گئی ہیں جب کہ میڈیا کو بھی اس بارے میں رپورٹنگ کرنے سے روکا گیا ہے. اس حوالے سے ایک عہدیدار کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان لڑکیوں کی مدد کے لئے کوئی کچھ نہیں کر رہا ہے. ہر کسی پر تفتیش نہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے.جب کہ اس سلسلے میں چین کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ لڑکیوں کی اس فہرست سے بے خبر ہے.ان کا کہنا ہے کہ چین اور پاکستان کی دونوں حکومتیں قوانین اور ضوابط کو برقرار رکھتے ہوئے رضاکارانہ بنیاد پر اپنے لوگوں کے مابین خوشگوار تعلقات کے قیام کی حمایت کرتی ہیں تاہم اگر کسی شخص کی غیر قانونی طور پر شادی میں ملوث ہونے کی خبر سامنے آئی تو وہ ناقابلِ برداشت ہو گی.