سکون تو صرف قبر میں ہے- محمد طیب زاہر

کبھی کبھار جو ہوتا ہے وہ دکھتا نہیں اور جو نہیں ہوتا وہ دکھتا ہے ۔خود سے percieve کرنا یا judgmental ہوجانا اور خود سے کسی نتیجے پر پہنچ جانا ۔Ground Reality کیا ہے یہ جانے بغیر خود سے حقیقت تراشنا انسانی نفسیات کا حصہ بن چکا ہے ۔ہمیں جو ٹھیک لگتا ہے ہم اُس کو ہی سچ مان لیتے ہیں اُن پوشیدہ حقائق کو کھوجنے کی بالکل بھی سہی نہیں کرتے۔

ہر انسان کے اندر اپنی الگ ہی سپریم کورٹ ہے اور وہ اس کا خود ساختہ چیف جسٹس۔ یہاں انفرادی سطح پر اپنی اپنی عدالت لگائی جاتی ہے اور من مرضی کے فیصلے سنا کر اچھائی برائی کی تمیز کی جانے لگتی ہے۔سماجی رواج اور اقدار میں کسی نتیجے پر پہنچنے کی شاید وجہ تیز رفتار زندگی کا پہیہ ہے جو اتنی تیزی سے گھوم رہا ہے کہ ہمارے پاس تحمل اور بردباری سے کام لینے کا وقت بھی نہیں ۔چاہے معاملہ سماجی ہو ثقافتی ہو خارجی ہو یا سیاسی ہماری جلدبازی ہمیں غلط ججمنٹ کرنے پر اُکسا دیتی ہے۔ ۔وزیر اعظم عمران خان پر میں خود بہت تنقید کرتا ہوں ۔میں یہاں عمران خان کا دفاع نہیں کر رہا لیکن صحافت کے اعتبار سے سوچا جائے تو عمران خان نے جو یہ بات کی (اصل زندگی میں سکون نہیں ہوتا خوشیاں نہیں ہوتی یہ صرف قصے کہانیوں میں ہوتا ہے اصل سکون قبر میں ہے) ان کی اس تقریر کے حوالے کو غلط زاویے سے دیکھا جا رہا ہے ۔

اُن کا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ سب کچھ بنا بنایا نہیں ہوتا بنانا پڑتا ہے مشکلیں آتی ہیں اس کا یہ قطعی مطلب نہیں کہ عمران خان نے ہاتھ کھڑے کرلئے.من چاہی باتیں تراشنے والوں نے یہاں خود سے یہ اخذ کرلیا کہ عمران خان نے ہاتھ کھڑے کرلئے ۔ہاں ان کو حقیقت کا ادراک ہوا ہے۔دیکھا جائے تو بات حقیقت ہے انسان چاہے سونے کا نوالہ لے کر کیوں پیدا نہ ہوجائے جتنی مرضی دولت کی فرواوانی ہو لیکن اُس کی قسمت کے دکھ اور مصیبیتیں اُس کو مل کر ہی رہتی ہیں ۔اگر دولت مند ہے تو صحت کا مسئلہ لاحق ہوجاتا ہے اگرچہ پیسے کی ریل پیل ہے لیکن وہ بیماری کو لے کر کہیں نہ کہیں نفسیاتی دباؤ کا شکار ہوتا ہی ہے ۔اللہ پاک نے قرآن مجید میں ارشاد فرمادیا کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے ۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ کوئی بھی انسان مشکلات سے ماورا نہیں ۔کسی کو روزگار کا غم ہے تو کسی کو دو وقت کی روٹی کی فکر ،کسی کی ماں نہیں تو کسی کا باپ نہیں ۔طرح طرح کی آزمائشیں انسان کو آہ لیتی ہیں ۔اللہ پاک ایک اور جگہ ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ زندگی تو اصل میں کھیل تماشا ہے۔کھیل تمشا کس کے لئے مومن کے لئے ۔کیونکہ یہ دنیا اصل مومن کے لئے ایک آزمائش ہے ایک قید خانہ ہے اور وہ اس میں سزا کاٹ رہا ہے جس کے بعد اس کی ابدی جزا کا سلسلہ شروع ہونے والا ہے ۔

زندگی آسانی کا نام نہیں مشکلات سےعبارت ہے ۔ویسے بھی انسان کسی حال میں خوش نہیں ۔ہم نے خود اپنی زندگیوں کو مشکل میں ڈالے رکھنے میں کردار ادا کیا ۔خود کو مشکلات میں مبتلا ہم نے خود کئے رکھا۔ہمیں سکون تب ہی ملے گا جب ہماری آخری سانس نکل جائے گی ۔وزیر اعظم کا قبر میں سکون والا بیان حقیقت کا آئینہ دار ہے۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ وزیراعظم نے خود کو خود مشکلات میں ڈالا رہی سہی کمی ان کے (دانا)وزراء پوری کردیتے ہیں۔ایک تپھڑ ماسٹر ہی مان نہیں جن کو اپنے اوپر کی گئی تنقید تک برداشت نہیں۔کچھ اللہ کو جان دینے والے ہیں ۔اور اپنی جان ہتھیلی پر لئے پھرتے ہیں ۔ایسے ایسے بیانات ایسے ایسے دعوے کہ بس ابھی دنیا فتح کرلیں گے لیکن وہ ہیروئن کا معمہ ہی حل نہیں کرسکے ۔اُلٹا ایک ملزم کو ہیرو بنا ڈالا۔پھر ایک ہیرو وزیر جو دبنگ انداز میں جائے وقوعہ پر پہنچ کر عوام کا تحفظ کرتے ہیں ۔وہ فرما دیتے ہیں کہ فکر نہ کریں نوکریوں کا ڈھیر لگ جائے گا ،غربت ختم ہوجائے گی صرف ایک مہینے میں تبدیلی کی سونامی پرانے پاکستان میں پھیل جائے گی ۔

پھر فواد چوہدری کا بیان نوکریاں دینے کا کام حکومت کا نہیں ۔تضادات سے بھرپور بیانات نے ہی تو وزیر اعظم عمران خان کو مشکل کی دلدل میں پھنسا دیا۔فواد چوہدری تو پوری کوششوں میں ہیں کہ خود کش حملوں سے وہ وزیر اعظم اور ان کی پوری کابینہ کو اُڑا کر رکھ دیں ۔سمجھ نہیں آتا کہ یہ موصوف برائے فسادیات حکومتی نمائندے ہیں یا پھر اپوزیشن کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی ہیں ؟ستم ظریفی یہ ہے کہ وزیر تک تو ٹھیک تھا لیکن خود وزیر اعظم نے پے در پے اپنی پاؤں پر کلہاڑی نہیں بلکہ کلہاڑی پر پیردے مارا ہے ۔پہلے کہا جو کرپشن کرتا ہے اس وجہ سے مہنگائی ہوتی ہے اور اب ان کے دور میں مہنگائی کی بدترین سونامی تباہی مچا رہی ہے ۔پھر کہا حکومت بجلی کے بلوں میں اضافہ نہیں کرے گی اور جو اضافہ کرتی ہے وہ ٹیکس کا پیسہ چوری کرتی ہےپھر دیکھا کہ ان کی حکومت میں بجلی کی قیمتوں میں دوگنا اضافہ ہوگیا۔پھر فرمایا کسی کو این آر او نہیں ملے گا ۔

ملک کو 30 ہزار ارب کا قرضہ چڑھانے والوں سے حساب لوں گا اپنے نیچے ایک کمیشن بناؤں گا کہاں ہے وہ کمیشن ؟ اس کا کیا بنا ؟ آپ نے تو احتساب کرنا تھا ۔ملک میں تبدیلی آئے یا نہ آئے آپ کی سوچ میں تبدیلی ضرور آگئی ہے ۔ اب کمیشن بھی نہیں بنے گا آپ تو نیب میں ترمیم کریں گے لیکن خان صاحب اس کا مطلب یہ ہوا آپ کو اتنی سال سیاست کرنے کے باوجود زمینی حقائق کا نہ پتہ چل سکا ۔اب چونکہ آپ اقتدار میں آئے ہیں اس لئے اب آپ کو ہر چیز مشکل لگ رہی ہے ۔اس کا مطلب آپ کے دعوے صرف سبز باغ تھے ؟یہ بات درست ہے کہ اب وقت ملک کے مسائل حل کرنے کا ہے اپنی پچھلی تحریر میں بھی میں نے اس بات کا تذکرہ کیا تھا۔آئے دن مہنگائی کے بڑھتے بوجھ نے متوسط طبقے کی جان نکال کر رکھ دی ہے ۔اب وقت ہے کہ آپ عوام کے مسائل کو حل کریں ۔غریب برے طریقے سے مہنگائی کی چکی میں پھستا چلا جا رہا ہے ۔سندھ حکومت تو بے حس ہے ہی جہاں کتے کے کاٹنے کی ویکسین تک نہ ہو اور مریض تڑپ تڑپ کر جان کی بازی ہار جائے ۔

اور سعید غنی جیسے وزیر اپنے آقاؤں کی نا اہلی کا دفاع ایسے کریں اور سارا ملبہ والدین پر ڈال دیں کہ وہ بچے کو دیر سے لے کر آئے ورنہ بچہ بچ جاتا اتنا شرمناک ہے کہ ان سے کسی چیز کی امید کرنا احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہوگا لیکن حال ہی میں کراچی میں میر حسن نامی شخص نے اپنی جان اس لئے دے دی کہ اس کے پاس اپنے بچوں کو دینے کے لئے گرم کپڑے اور دیگر بنیادی سہولیات نہیں تھی ۔میر حسن کی بیروزگاری نے نہیں آپ کی تبدیلی نےاس کی جان لے لی خان صاحب۔آپ حضرت عمر کی خلافت کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے تھے کہ ایک کتا بھی مرجائے تو اس کی ذمہ داری ریاست کے حاکمِ وقت کی ہے یہ تو پھر انسان ہے خان صاحب کون حساب دے گا ؟ آپ کی بات کے بالکل عین مطابق میر حسن کو زندگی میں نہیں تو قبر میں سکون آ ہی گیا ہوگا کیونکہ بقول آپ کے سکون تو صرف قبر میں ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */