والدین کا حق - بشارت حمید

ہر انسان اصل میں اپنی ماں کے جسم سے الگ ہوا ایک ٹکڑا ہی ہے اپنی پیدائش سے قبل جس کی نہ کوئی حیثیت ہے نہ کوئی پہچان نہ کوئی شخصیت۔ پیدا ہونے کے بعد وہ اپنی ماں اور باپ کی آنکھ کا تارا بن جاتا ہے۔ خاص طور پر ماں۔۔۔ جو اپنے آرام اور سکون کو ایک طرف رکھ کر اس بچے کی پرورش میں جت جاتی ہے۔ اس بچے کی خوراک کا انتظام، اسکے پیشاب اور پوٹی کی فوری صفائی، اسکی ہر تکلیف میں پریشان ہو جانا، اس کی خاطر راتوں کو جاگتے رہنا اور دن میں گھر کے کام کاج کرنا۔۔۔ یہ سب ایک ماں کی ترجیح بن جاتا ہے۔

بچہ جب پہلا قدم چلتا ہے تو ماں کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں ہوتا۔۔جب زبان سے پہلا لفظ بولتا ہے تو اس کو باربار سن کر ماں خوشی سے پھولے نہیں سماتی۔ سب کو بتاتی ہے کہ میرے بچے نے یہ لفظ بولا ہے۔ کچھ کھانے کے قابل ہوتا ہے تو ماں اسے طرح طرح کی چیزیں بنا کر دیتی ہے اسکی پسند نا پسند کا خیال رکھتی ہے۔ جب شرارتیں کرنے کے قابل ہوتا ہے تو باپ سے اس کی حرکتیں چھپاتی ہے کہ بچے کو جھڑک نہ دے یا پٹائی نہ کرے۔ اس کی تعلیم کے دوران علی الصبح اٹھ کر ناشتہ بنا کر دینا اور سکول سے واپسی پر کھانا تیار رکھنا اس کے نزدیک سب سے اہم کام ہوتا ہے۔ سال ہا سال لگتے ہیں تب جا کے یہ بچہ اپنے پاوں پر کھڑا ہونے کے قابل ہوتا ہے۔ اور جب خود اس کی شادی ہو جاتی ہے پھر وہ اپنے بیوی بچوں میں مشغول ہو جاتا ہے۔ اگر وہ بڑا ہو کر ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کی بجائے آگے سے بدتمیزی کرے۔۔۔ کہا نا مانے۔۔۔ انکی باتوں کو نظر انداز کرے۔۔۔ والدین سے زیادہ اپنے دوستوں کی تکریم کرے ۔۔ تو اس رویے سے ماں باپ کے دل پر کیا گزرے گی وہی جانتے ہیں۔اتنی تکلیف اٹھا کر اور مشقت سے جنم دینے اور پرورش کرنے والی ماں اگر اس بیٹے کی بدزبانی سے ڈر کر اس سے بات کرنے سے گریز کرنے لگ جائے تو اس جیسا بدبخت کوئی نہیں ہو گا۔

اللہ نے قرآن مجید میں چار مقامات پر اپنے ساتھ شریک ٹھہرانے سے منع فرماتے ہوئے ساتھ ہی والدین کے حق کا ذکر فرمایا ہے۔
1 : سورة البقرة 83 : وَ اِذۡ اَخَذۡنَا مِیۡثَاقَ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ لَا تَعۡبُدُوۡنَ اِلَّا اللّٰہَ ۟ وَ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا وَّ ذِی ‌الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنِ وَ قُوۡلُوۡا لِلنَّاسِ حُسۡنًا وَّ اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ ؕ ثُمَّ تَوَلَّیۡتُمۡ اِلَّا قَلِیۡلًا مِّنۡکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴿۸۳﴾ ترجمہ : یاد کرو ، اسرائیل کی اولاد سے ہم نے پختہ عہد لیا تھا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا ، ماں باپ کے ساتھ ، رشتے داروں کے ساتھ ، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ نیک سلوک کرنا ، لوگوں سے بھلی بات کہنا ، نماز قائم کرنا اور زکوٰة دینا ، مگر تھوڑے آدمیوں کے سوا تم سب اس عہد سے پھر گئے اور اب تک پھرے ہوئے ہو ۔
2 : سورة النساء 36 : وَ اعۡبُدُوا اللّٰہَ وَ لَا تُشۡرِکُوۡا بِہٖ شَیۡئًا وَّ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا وَّ بِذِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنِ وَ الۡجَارِ ذِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡجَارِ الۡجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالۡجَنۡۢبِ وَ ابۡنِ السَّبِیۡلِ ۙ وَ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ مَنۡ کَانَ مُخۡتَالًا فَخُوۡرَا ﴿ۙ۳۶﴾
: اور تم سب اللہ کی بندگی کرو ، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ ، ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرو ، قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ ، اور پڑوسی رشتہ دار سے ، اجنبی ہمسایہ سے ، پہلو کے ساتھی اور مسافر سے ، اور ان لونڈی غلاموں سے جو تمہارے قبضہ میں ہوں ، احسان کا معاملہ رکھو ، یقین جانو اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اپنے پندار میں مغرور ہو اور اپنی بڑائی پر فخر کرے ۔

یہ بھی پڑھیں:   سحر انگیزیاں ( حصہ دوم )- مجاہد بخاری

3 : سورة الأنعام 151 : قُلۡ تَعَالَوۡا اَتۡلُ مَا حَرَّمَ رَبُّکُمۡ عَلَیۡکُمۡ اَلَّا تُشۡرِکُوۡا بِہٖ شَیۡئًا وَّ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا ۚ وَ لَا تَقۡتُلُوۡۤا اَوۡلَادَکُمۡ مِّنۡ اِمۡلَاقٍ ؕ نَحۡنُ نَرۡزُقُکُمۡ وَ اِیَّاہُمۡ ۚ وَ لَا تَقۡرَبُوا الۡفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنۡہَا وَ مَا بَطَنَ ۚ وَ لَا تَقۡتُلُوا النَّفۡسَ الَّتِیۡ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالۡحَقِّ ؕ ذٰلِکُمۡ وَصّٰکُمۡ بِہٖ لَعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۵۱﴾
اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! ان سے کہو کہ آؤ میں تمہیں سناؤں تمہارے رب نے تم پر کیا پابندیاں عائد کی ہیں: ﴿١﴾ یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو ، ﴿۲﴾ اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو ، ﴿۳﴾ اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو ، ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور ان کو بھی دیں گے ۔ ﴿٤﴾ اور بے شرمی کی باتوں کے قریب بھی نہ جاؤ خواہ وہ کھلی ہوں یا چھپی ۔ ﴿۵﴾ اور کسی جان کو جسے اللہ نے محترم ٹھیرایا ہے ہلاک نہ کرو مگر حق کے ساتھ ۔ یہ باتیں ہیں جن کی ہدایت اس نے تمہیں کی ہے ، شاید کہ تم سمجھ بوجھ سے کام لو ۔
4 : سورة بنی اسراءیل 23 : وَ قَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ وَ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا ؕ اِمَّا یَبۡلُغَنَّ عِنۡدَکَ الۡکِبَرَ اَحَدُہُمَاۤ اَوۡ کِلٰہُمَا فَلَا تَقُلۡ لَّہُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنۡہَرۡہُمَا وَ قُلۡ لَّہُمَا قَوۡلًا کَرِیۡمًا ﴿۲۳﴾ تیرے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ: ﴿١﴾ تم لوگ کسی کی عبادت نہ کرو گے ، مگر صرف اس کی ۔ ﴿۲﴾والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو ۔ اگر تمہارے پاس ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بوڑھے ہو کر رہیں تو انہیں اف تک نہ کہو ، نہ انہیں جھڑک کر جواب دو ، بلکہ ان سے احترام کے ساتھ بات کرو ، .

جبکہ اللہ اپنے نیک بندے کے بارے یہ ارشاد فرماتا ہے۔۔۔۔۔۔وَ وَصَّیۡنَا الۡاِنۡسَانَ بِوَالِدَیۡہِ اِحۡسٰنًا ؕ حَمَلَتۡہُ اُمُّہٗ کُرۡہًا وَّ وَضَعَتۡہُ کُرۡہًا ؕ وَ حَمۡلُہٗ وَ فِصٰلُہٗ ثَلٰثُوۡنَ شَہۡرًا ؕ حَتّٰۤی اِذَا بَلَغَ اَشُدَّہٗ وَ بَلَغَ اَرۡبَعِیۡنَ سَنَۃً ۙ قَالَ رَبِّ اَوۡزِعۡنِیۡۤ اَنۡ اَشۡکُرَ نِعۡمَتَکَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَیَّ وَ عَلٰی وَالِدَیَّ وَ اَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰہُ وَ اَصۡلِحۡ لِیۡ فِیۡ ذُرِّیَّتِیۡ ۚ ؕ اِنِّیۡ تُبۡتُ اِلَیۡکَ وَ اِنِّیۡ مِنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿ ۱۵ ﴾ سورة الأحقاف 15
ترجمہ : ہم نے انسان کو ہدایت کی کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ نیک برتاؤ کرے اس کی ماں نے مشقت اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا اور مشقت اٹھا کر ہی اس کو جنا ، اور اس کے حمل اور دودھ چھڑانے میں تیس مہینے لگ گئے ۔ یہاں تک کہ جب وہ اپنی پوری طاقت کو پہنچا اور چالیس سال کا ہو گیا تو اس نے کہا اے میرے رب ، مجھے توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائیں ، اور ایسا نیک عمل کروں جس سے تو راضی ہو ، اور میری اولاد کو بھی نیک بنا کر مجھے سکھ دے ، میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور تابع فرمان ( مسلم ) بندوں میں سے ہوں ۔

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.