وزیراعظم صاحب! یہ کیا کہہ دیا؟- نیلم اسلم

وزیراعظم جناب عمران خان کے منہ سے یہ الفاظ سن کر اچھا لگا کہ انسان کو ہر حال میں، ہر موقع پر، ہر پل، ہر جگہ موت کو یاد رکھنا چاہیے اور سکون صرف قبر میں ہی ہے۔ ایک جگہ حدیث سنی تھی جس کا مطلب کچھ یوں تھا کہ موت کو زیادہ سے زیادہ یاد کیا کرو تاکہ زندگی کی غیرضروری خواہشات اور لذتوں سے دور رہو۔ سو اس لحاظ سے وزیراعظم نے یاد دہانی کرائی، کوئی جرم نہیں کیا۔ البتہ بہتر ہوتا کہ وزیراعظم اس کی تھوڑی سی تشریح بھی فرمادیتے۔

بحیثیت مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ انسان دنیا میں جو بورہا ہے، وہ ایک نہ ایک دن ضرور کاٹے گا۔ ہر امتحان کے نتیجے کا ایک دن ہوتا ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ امتحان تو ہوتا رہے، لیکن نتیجہ نہ نکلے۔ ایک اسٹوڈنٹ دن رات محنت کرتا رہے اور دوسرا کتاب کے قریب بھی نہ جائے اور دونوں زندگی کے امتحان میں ایک جیسے کامیاب اور کامران بھی رہیں۔

تو قبر میں بھی سکون صرف اسی کو ملے گا جس کے اعمال اچھے ہوں گے۔ جس نے کسی کا حق نہیں مارا ہوگا۔ کسی کا دل نہیں دُکھایا ہوگا۔ اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ نہیں اُٹھایا ہوگا۔ اپنے دوستوں، عزیز واقارب اور ہر رشتے کے ساتھ انصاف کیا ہوگا۔ غریب کی مدد کی ہوگی۔ اچھے حالات میں شکر اور برے میں صبر کیا ہوگا۔

قبر میں سکون اسی کو ملے گا جس نے حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد نبھانے کی ہر ممکن کوشش کی ہوگی۔ یہ نہیں کہ صدقہ اور خیرات تو دے رہا ہے، لیکن غریبوں کا مال مارکر اپنے اثاثوں میں اضافہ بھی کررہا ہو۔ یہ نہیں کہ حج اور عمرے تو پابندی سے کررہا ہے، لیکن اس کے لیے خون مسکینوں کا چوس رہا ہے اور رقم وہیں سے حاصل کررہا ہے۔ اگر پوری ایمانداری کے ساتھ بھی زندگی گزار رہا ہے تو پھر بھی یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ ہماری قبر میں سکون ہوگا، یہ صرف اللہ ہی جانتا ہے، لیکن اُمید اس سے ہمیشہ بھلائی کی ہی رکھنی چاہیے کہ وہ کہتا ہے میں انسان کے ساتھ اس کے گمان کے مطابق عمل کرتا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:   تبدیلی تو مہنگائی کی نذر ہوگئی - عابد محمود عزام

جہاں تک رہی بات سکون کی تو وزیراعظم صاحب! یہ تو ہم عام لوگوں کی باتیں ہیں۔ ہمارے اشرافیہ، ہماری ایلیٹ کلاس، ہمارے حکمرانوں کی تو زندگی سکون سے گزر رہی ہے۔ آپ بھی تو دیکھیے کتنے سکون میں ہیں۔ حکومت میں آنے سے پہلے اگر بڑی گاڑی میں سفر کرتے تھے تو آج وی آئی پی ہیلی کاپٹر نے اس کی جگہ لے لی ہے۔ پہلے اگر آپ پہاڑی کے دامن پر واقع گھر میں رہتے تھے تو آج آپ دنیا کی خوبصورت ترین عمارتوں میں سے ایک میں رہ رہے ہیں۔

پھر آپ حکمران بھی ہیں۔ آپ سے اُمیدیں اور توقعات بھی بہت ہیں۔ اس لیے آپ سے گلہ بھی رہتا ہے۔ کبھی یاد کریں کہ آپ ہی مدینے کی ریاست بنانے کی بات کرتے تھے۔ گزشتہ بیس بائیس سال سے اپنے جلسے جلوسوں میں مسلمان خلفا کی مثالیں دیا کرتے تھے۔ آپ ہی بتایا کرتے تھے کہ کس طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کوئی بھی شخص اُٹھ کر سوال کرتا تھا اور کس طرح وہ دریائے فرات کے کنارے کسی کتے کے پیاسا مرجانے پر اپنے آپ کو قصور وار ٹھہراتے تھے۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کوئی اپنے مسائل کے لیے کسی خلیفہ کے پاس آیا ہو اور اس وقت کے حکمران یا خلیفہ نے اسے یہ کہہ کر بھیج دیا ہو کہ سکون تو قبر میں ہی ہے۔ یہاں میرے پاس کس لیے آئے ہو۔

کل وزیراعظم صاحب کہہ رہے تھے کہ سکون صرف قبر میں ہے تو کل ہی کے دن ایک واقعہ بھی پیش آیا۔ آپ نے بھی یقیناً سنا اور دیکھا ہوگا۔ کراچی کا میر حسن۔ جس نے اپنے آپ کو آگ لگادی۔ صرف اس لیے کہ اپنے بچوں کے لیے گرم کپڑے نہ لاسکا۔ صرف اس لیے کہ وہ اپنے بچوں کا سامنا نہیں کرسکتا تھا۔ ذرا سوچیے تو سہی کہ آپ جس ریاست کی مثالیں دیتے تھے، وہاں کتے کے پیاسے مرنے پر وہ اپنے آپ کو مجرم ٹھہراتا ہے اور یہاں ایک جوان شخص جل کر کوئلہ بن جاتا ہے، لیکن جواب یہی ہوتا ہے کہ سکون تو صرف قبر میں ملے گا۔

میں حالاتِ حاضرہ پر نظر رکھتی ہوں، میں یہاں توقع رکھ رہی تھی کہ شاید وزیراعظم اس کا نوٹس لیں۔ میر حسن کے گھر کسی کو بھیجیں گے۔ ان کے بچوں کی کفالت کی ذمہ داری ریاست اپنے سر لے گی۔ لیکن ایسا کچھ نہیں۔ پھر سوچا کہ شاید آج کے دن ایوان میں اس پر بات ہو۔ کوئی اپنی شرمندگی کا احساس کرے۔ کسی کی آنکھوں میں آنسو آئے۔ لیکن سرد موسم نے یہاں بھی مزاجوں کو سرد بلکہ انسانوں کو بے حس کردیا ہے۔ کسی نے میر حسن کے جنازے کو کندھا دیا نہ ہی اس کی معصوم اولاد کے سرپر دستِ شفقت رکھا۔ دو چار خبریں ضرور آئیں، سوشل میڈیا پر کچھ شور شرابا بھی ہوا، لیکن پھر سب اپنی اپنی زندگیوں میں مشغول ہوگئے اور میر حسن کے معصوم بچے شفیق سائے سے بھی محروم ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں:   حکومت کے تہلکا خیز انکشافات - حبیب الرحمن

یہاں ایک اور بات بھی کروں کہ حکومت اور سیاست دانوں سے سوال لازمی ہوتا ہے۔ سوچ سمجھ کر انہوں نے ہی اس راستے کا انتخاب کیا ہوتا ہے اور سوال کریں گے بھی، لیکن ایک سوال سوسائٹی سے بھی ہے کہ ہم کیسے گونگے اور بہرے لوگ ہیں کہ ہمیں اپنے آس پاس کی، اپنے عزیزواقارب کی کوئی خبر ہوتی ہے نہ ہی فکر۔ کیا کبھی بھی ہم میں سے کسی نے یہ سوچنے کی زحمت کی ہے کہ صرف حکمرانوں سے نہیں، کل ہم سے بھی سوال ہوگا۔ کیا ہم نے کسی سے متعلق یہ سوچا ہے کہ اس کے پاس کھانا ہے یا نہیں۔ کسی کو گرم کپڑوں کی ضرورت ہے یا نہیں؟

ہم اپنی دُھن میں اس قدر مگن رہتے ہیں کہ اپنے علاوہ کوئی نظر نہیں آتا، کسی کی خبر نہیں ہوتی۔ مدینے کی ریاست میں جتنی ذمہ داری حکمرانوں کی ہوتی تھی، اتنا ہی ایک عام شخص اپنے آپ کو ذمہ دار تصور کرتا تھا۔ مدینے کی ریاست افراد سے بنی تھی، پہلے لوگوں کے اندر شعور اور آگہی پیدا ہوئی۔ اس کے بعد وہی لوگ ریاست کے ذمہ دار بن گئے۔ آج اگر ہر ایک یہی سوچے کہ ساری ذمہ داری حکومت کی ہے تو ایسا معاشرہ کبھی مدینے کی ریاست میں نہیں ڈھل سکتا اور ایسے لوگ شاید قبر میں سکون بھی حاصل نہیں کرسکتے۔ کیونکہ سکون حاصل کرنے کے لیے سکون بانٹنا پڑتا ہے۔