ہر طبقے نے اپنا بندوبست کر لیا ہے - محمود فیاض

یہ میری تجویز نہیں ہے۔ فواد چوہدری کا پارلیمنٹ میں بیان اصل میں اس تجویز کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جنہوں نے نہیں سنا انکے لیے خلاصہ کرتا ہوں، فواد چوہدری کے مطابق، ہر طبقے نے اپنا بندوبست کر لیا ہے۔ انصاف یا معاملات کی درستگی کا۔ فوج کا اپنا بندوبست ہے۔ ۔ ۔ عدلیہ کا اپنا بندوبست ہے ۔ ۔ ۔ (بین السطور اشارہ تھا کہ ڈاکٹرز، لائرز، وغیرہ کا اپنا ہے)

ہم سیاسی لوگ کدھر جائیں ؟ ہم انصاف کہاں سے حاصل کریں ؟ غور کریں تو حال ہی میں انصاف حاصل کرنے کے تین طریقے سامنے آئے ہیں ، فواد چوہدری کا اشارہ اسی۔جانب ہے . پہلا واقعہ عوام کا ہے، ایک بوڑھی ماں نے اپنے بیٹے کے قاتل کو رہائی کے بعد گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا ، کیونکہ اسکو اس انصاف پر اعتبار نہیں تھا۔ دوسرا واقعہ عدلیہ کے مہاپرشوں کا ہے۔ جن کے کچھ لوگوں کو ڈاکٹروں نے مارا تو انکو قانون، عدالت اور تعزیرات پاکستان کی برسوں کی تعلیم نے صرف یہ سمجھایا کہ انصاف کے حصول کا سچا طریقہ صرف سڑک پر برسرعام غنڈہ گردی میں ہے۔ قانون کو پائمال کیا گیا اور انصاف بزور بازو لے لیا گیا۔ اب گلدستے بٹ چکے ہیں، اور راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔ تیسرا واقعہ فواد چوہدری کا ہے۔ صحافی نے کیچڑ اچھالا۔ غلط الزام لگا کر اسکی شخصیت داغدار کی۔ موصوف نے اگلے ہی روز ایک تقریب میں آمنا سامنا ہوتے ہی انصاف اپنے مسل کی طاقت سے حاصل کر لیا۔ ۔ ۔ اور اسکی تصدیق مقدس پارلیمان کے فلور پر اسپیکر صاحب کے سامنے کر دی کہ انکے سامنے انصاف حاصل کرنے کا کوئی اور راستہ نہیں تھا۔ تو میرے پیارے پاکستانی۔بھائیو اور بہنو! آپ کس غلط فہمی یا خوش فہمی میں دن رات قانون و انصاف کے اداروں، پارلیمان، اور بیوروکریسی کی طرف دیکھتے ہو؟

کسی گلی کے غنڈے نے کسی محلے میں بڑھک ماری ہو تو اسکو جاہلانہ عمل کہا جاتا ، ایک وفاقی وزیر نے فلور آف دا ہاؤس یہ بیان دیا ہے کہ پاکستان میں انصاف صرف طاقتور حاصل کر سکتا ہے اور وہ۔بھی اپنے محکمے یا مافیا کی طاقت سے۔ تین واقعات اس لیے بیان کیے ہیں، تاکہ آپ۔موازنہ کر سکیں کہ متعلقہ انصاف حاصل کرنے کے بعد وہ بوڑھی ماں کہاں ہے، معزز وکلاء کہاں ہیں، اور فواد چوہدری کہاں ہے؟ اسی سے آپ کو اندازہ ہو جائیگا کہ بوڑھی عورت پر ریاستی قانون اس لیے حرکت میں آیا کہ وہ ایک عام عورت تھی۔ حدیث یاد کر لیجئے کہ تم سے پہلے قومیں اسی لیے برباد ہوئیں کہ طاقتور کو چھوڑ دیتے تھے اور کمزور کو سزا دیتے تھے۔ ۔ ۔فواد چوہدری نے صرف اس بربادی کی سرکاری تصدیق کی ہے۔ عوام کے لیے واضح پیغام ہے کہ زندہ رہنا ہے تو کسی نہ کسی مافیا کا حصہ بن جاؤ۔۔ ۔ ریاست مدینہ ثانی میں انصاف کے حصول کا طریقہ یہی ہے ۔ ۔ ۔ کیونکہ تاحال خلیفۃ المومنین کی طرف سے خاموشی اس کا ثبوت ہے۔

Comments

محمود فیاض

محمود فیاض

محمود فیاض نےانگلستان سے ماس کمیونیکیشنز میں ماسٹرز کیا اور بین الاقوامی اداروں سے وابستہ رہے۔ آج کل وہ ایک عدد ناول اور ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اساتذہ، کتابوں اور دوستوں کی رہنمائی سے وہ نوجوانوں کے لیے محبت، کامیابی اور خوشی پر لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.