پہلے یورپین اور اب امریکی غلامی - پروفیسر جمیل چودھری

یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ ایک لمبے عرصہ تک یورپین اقوام مسلم علاقوں پر حکومت کرتی رہیں۔برطانیہ ، فرانس، اٹلی اوردیگر ممالک ایک سے ڈیڑھ صدی تک مسلم علاقوں پرچھائے رہے۔یہاں کی دولت لوٹ کریورپ لے جاتے رہے۔پھردنیا میں ایک بڑا واقعہ ہوا۔جنگ عظیم دوئم شروع ہوگئی۔یہ جنگ پوری دنیا میں پھیل گئی۔برطانیہ اس کااہم فریق تھا۔برطانیہ کی معاشی حالت جنگ سے پہلے ہی خراب ہوچکی تھی۔جنگ کے اخراجات نے اسے مقروض کردیا۔یہ قرض امریکہ سے لیاگیاتھا۔اس قرض کے بدلے اس وقت کی سپرپاور برطانیہ نے اپنے تمام بین الاقوامی بری،بحری اور ہوائی اڈے امریکہ کے سپرد کردیئے۔اس کامطلب تھاکہ پوری دنیاکا چارج بھی امریکہ کو دے دیاگیا۔یورپین جن میں برطانیہ کے ساتھ فرانس،اٹلی اوردیگر ممالک بھی تھے۔وہ مسلم ممالک پر بزور قبضہ کرکے حکومت کرتے رہے۔تب مسلمانوں کی غلامی بہت واضح تھی۔یورپین اقوام نے اپنی تہذیب وتمدن یہاں پھیلایا۔

مسلمانوں کے تعلیمی ادارے ختم کرکے اپنی تہذیب پھیلانے کے لئے تعلیمی ادارے پھیلائے۔انگریزی،فرانسیسی اوراطالوی زبانیں سیکھنالازمی ٹھہرا۔عربی اور فارسی کو دیس نکالا دے دیاگیا۔برطانیہ جو قبضہ کرنے والوں میں سب سے بڑا تھا۔جب مشکل معاشی حالات میں گھر گیاتو اس نے اپنے مقبوضہ علاقوں کوآزادی دینے کااعلان کیا۔آزادی کے لئے تحریکیں بھی چلتی رہی تھیں۔لیکن ان تحریکوں کی نسبت ثانوی تھی۔جدید ریسرچ میں برطانیہ اپنی مجبوری کو اب خود واضح کررہاہے۔یہ باتیں اب وہ اپنے طلباء کوخود ہی بتارہا ہے کہ ہم نے مقبوضہ علاقوں کو آزادی اپنی معاشی مجبوریوں کی وجہ سے دی تھی۔برطانیہ کی معاشی مجبوری اورآزادی کی تحریکیں دونوںعوامل جب اکٹھے ہوگئے۔توہندوستان جیسے بڑے ملک کو طے شدہ وقت سے پہلے ہی برطانیہ چھوڑ کر چلاگیا۔کشمیر سمیت کئی ریاستوں کی تقسیم کی تفصیلات طے کئے بغیر جانابرطانیہ کی حماقت ہی شمارہوگی۔جس طاقت کو برطانیہ نے اپناجانشین نامزد کیا وہ بھی عیسائی قوت تھی۔وہاں بھیDominantباشندے انگریز نسل سے ہی تھے۔دوسری جنگ عظیم میں اتحادیوں کوفتح بھی امریکی امداد کی وجہ سے ہی ہوئی تھی۔1898ء وہ سال تھاجب امریکہ نے اپنے آپ کو دوردراز واقع تنہائی سے نکالا اور عالمی امورمیں مداخلت شروع کردی تھی۔یہ بات سمجھنی بہت آسان ہے کہ موجودہ امریکہ کس طرح تیزی سے معاشی قوت بنا۔امریکہ جو بہت وسیع وعرض ملک ہے۔اس کی وسعتوں سے یورپین باشندوں نے جلد ہی بے شمار فائدہ اٹھانا شروع کردیاتھا۔

ہزاروں میلوں میں پھیلے Virginلینڈ کے قطعے،بے شمار دریا اور جھیلیں،زراعت دن دگنی اوررات چوگنی ترقی کرتی چلی گئی۔کبھی کبھی فالتو اجناس سٹوروں میں کم جگہ کی بجائے سمندر برد بھی کرنے پڑتے تھے۔صنعتی انقلاب بھی یورپ سے یورپین باشندوں کے ساتھ امریکہ آیا۔یونیورسٹیاں اورکالج برطانوی ریاست کی روایت کے مطابق تیزی سے بنے۔سائنس تیزی سے پھیلی اور اسی کی بنیاد پرنئی نئی ٹیکنالوجیز پیداہوتی گئیں۔پہلے متحدہ ریاستوں کی تعداد 13تھی۔جوبڑھ کر اب52تک ہوچکی ہے۔آپ ان 52۔ریاستوں کے وسائل کامجموعی اندازہ لگائیں۔یہ بے شمارہوگئے۔نئی یونیورسٹیاں شروع سے ہی اعلیٰ معیار اورتحقیق وتخلیق کی بنیاد پربنی تھیں۔غرضیکہ زرعی،سائنس وٹیکنالوجی اورصنعتی انقلاب نے موجودہ امریکہ کوبہت جلد دنیا کی بڑی طاقت بنادیاتھا۔برطانیہ کے چارج دینے کے بعد کرۂ ارض پراب تک اسی کی حکومت ہے۔اسکی معیشت جوٹیکنالوجی کی بنیاد پربڑھی اورپھیلی اب دہائیوں سے سب سے بڑی معیشت ہے۔2019ء میں اسکی خام قومی پیداوار(G.D.P)21.5ٹریلین ڈالر ہوچکی ہے۔یہ پوری دنیاکی جی۔ڈی۔پی کا 20فیصد ہے۔اسکی معیشت کے تمام شعبے جدید ٹیکنالوجی حتیٰ کہ اب نینو ٹیکنالوجی پر استوار ہیں۔دنیا کی500عالمی کمپنیوں میں5۔واں حصہ صرف ایک ملک امریکہ کا ہے۔اب امریکہ چھوٹی چھوٹی اشیاء کارخانوں میں کم بناتا ہے۔اس کی معیشت کا80فیصد انحصار اب سروس سیکٹر پر ہے۔اب امریکہ کی حاصلات ٹیکنالوجی اورمالیاتی شعبوں میں سب سے زیادہ ہیں۔

امریکہ معاشی لہاظ سے 19۔ویں صدی سے ہی سب سے آگے ہے۔عالمی دانشور بتاتے ہیں کہ دورجدید میں صرف امریکہ ہی وہ طاقت ہے جو ایک لمبے عرصے سے طاقتور معیشت کا حامل ہے۔برطانیہ اگرچہ نصف دنیاپر حکمران رہا ہے لیکن اس کی معیشت میں تیز تنزلی 1905ء کی ایک علاقائی جنگ سے ہی شروع ہوگئی تھی۔لیکن امریکہ کئی بڑی اور چھوٹی جنگوں کے بعدبھی طاقتور معیشت کاحامل ہے۔اسے اگرافغانستان میں لڑتے لڑتے 20سال بھی ہوجائیں تووہ اخراجات برداشت کرسکتا ہے۔عراق میں امریکہ18سال سے موجود ہے۔امریکی دانشور نوم چومسکی کے مطابق امریکی پوری دنیا کو اپنی دنیا سمجھتے ہیں۔اس لئے پورے کرۂ ارض پرکنڑول رکھنے کے لئے پالیسیاں بناتے ہیں۔اسکے فوجی بیرون امریکہ500۔جگہوں پرہیں۔جرمنی کے ساتھ ساتھ دوردراز علاقوں جاپان اور جنوبی کوریا تک یہ اڈے پھیلے ہوئے ہیں۔سوویٹ روس امریکہ کے سامنے کئی دہائیوں تک توکھڑا رہا۔لیکن1990ء میں دھڑام سے گرگیا۔اس کے فوراً بعد امریکہ واحدسپرپاور بن گیا۔اس واقعہ کے بعد امریکی دانشور فوکویاما نےEnd of Historyکتاب لکھی اور اس میں یہ دعویٰ کیاگیا کہ سرمایہ دارانہ جمہوریت نے پوری دنیاکو فتح کرلیا ہے۔لیکن90ء کی دہائی ہی میں ایک دوسرے امریکی دانشورہٹنگٹن نے اپنے تجزیے میں بتایا کہ اگرچہ امریکہ نے اپنے ایک بڑے دشمن روس کو شکست دے دی ہے۔لیکن ابھی چین اور مسلم دنیا اس کرۂ ارض پرموجود ہیں۔

اتنے لمبے بیانیے کے بعد اب ہم اصل مسلم دنیا کے مسٔلہ کی طرف آتے ہیں۔امریکہ نے یہ طے کیا ہوا ہے کہ ابھی چین کوکچھ نہیں کہنا۔البتہ مسلمانوں کوکسی بھی صورت طاقت ور نہیں ہونے دینا۔امریکہ مسلمانوں کے مستحکم ملک عراق کو90ء کی دہائی کے شروع میں ہی غیر مستحکم کرچکا تھا۔پابندیوں سے لاکھوں بچے دودھ اورادویات نہ ملنے سے مرچکے تھے۔پھرنئی صدی کے شروع میں9/11کاواقعہ ہوگیا یاکرایاگیا۔دلائل دونوں طرح کے موجود ہیں۔اصل مقصد مسلم دنیا میں ابھرنے والے ممالک کونشانہ بناناتھا۔افغانستان کی تباہی کے بعد وہ بہت جلد عراق پردوسری دفعہ چڑھ دوڑا اور اسکی قوت کوتہس نہس کردیا۔اسرائیل کومکمل طورپر محفوظ کردیاگیا۔اب کوئی بھی عرب ملک اس کو دھمکی بھی نہیں دیتا۔ امریکہ آج 7جنوری2019ء تک افغانستان،عراق حتیٰ کہ شام میں بھی موجود ہے۔کوئی بھی مسلم ملک اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکا۔ایران پر امریکہ اکیلے نے تجارتی پابندیاں لگائی ہوئی ہیں۔وہ اپنے ملک میں پیدا ہونے والے تیل کوفروخت بھی نہیں کرسکتا۔ایرانی ریال اپنی قدر مکمل طورپر کھوچکا ہے۔جنرل قاسم سلیمانی کے قتل ہونے کے بعد ایران جو جذباتی ردعمل دے رہا ہے وہ محض وقتی ہے۔آہستہ آہستہ معاملہ ٹھنڈا ہوجائے گا۔ایران کے پاس مغرب پردباؤ ڈالنے کے لئے صرف ایک اہم راستہ آبنائے ہرمز کا ہے۔سمندر کایہ راستہ صرف 20۔میل چوڑا ہے۔اس20میل کے ارد گرد ایران موجود ہے۔

امریکہ کو یہ پتہ ہے کہ اس کے بند ہونے سے صرف مغرب کونقصان نہیں بلکہ پوری دنیا اس سے متاثر ہوتی ہے۔امریکہ اب اسے کمزوری نہیں سمجھتا۔عراق میں تیل کے دوسرے بڑے ذخائر ہیں یہ تمام امریکہ کے قبضہ میں ہیں۔عراقی بھی اپنے ایک جرنیل کے مارے جانے پر ردعمل ظاہر کررہے ہیں۔لیکن تجارتی پابندیوں کی شدید دھمکی ٹرمپ بھی دے چکے ہیں۔مسلمانوں کے ان ممالک پر امریکہ مکمل طورپر قابض ہے جوخلیج فارس کے ممالک کہلاتے ہیں۔کویت سے لیکر نیچے یمن تک امریکہ اپنی قوت کے ساتھ موجود ہے۔اورسعودی عرب کی صورت حال کوتو آپ تمام دوست سمجھتے ہیں۔اسکادفاع مکمل طورپر متحدہ امریکہ کے پاس ہے۔6ماہ پہلے30ہزار فوجی سعودیہ پہنچ چکے ہیں۔ پاسباں مل گئے کعبے کوصنم خانے سے چھوٹے سے ملک قطر میں امریکہ نے مشرق وسطیٰ کی سنٹرل کمانڈ کادفتر بنایا ہوا ہے۔جب سعودی عرب جیسامقدس ملک امریکہ کی عملداری میں چلاگیا۔تو پیچھے کیارہ گیا۔تمام عرب مکمل طورپر امریکہ کے سامنے لیٹ چکے ہیں۔وہ نئے حکم کاانتظار واشنگٹن کی طرف سے کرتے ہیں۔کیایہ عرب ممالک کی آزادی ہے یا غلامی۔عربوں میں ایک بڑی اور منظم فوج رکھنے والا ملک مصر شمارہوتا ہے۔اسے بھی قرضوں کے بوجھ نے امریکہ کے آگے لیٹنے پرمجبور کردیا ہے۔امریکہ اور مصری فوج یہاں عوام کو آزادی دینے کے لئے تیارنہیں ہیں۔کیونکہ ووٹ کی آزادی کا مطلب مصری عوام کی پالیسیاں ہونگی۔یہ ملک عوام میں گہری اسلامی جڑیں رکھتا ہے۔

عوام کے منتخب صدرمرسی کوصرف ایک سال اقتدار دینے کے بعد اسے پابند سلاسل کردیاگیاتھا۔وہ بیچارے پنجرے میں ہی فوت ہوگئے۔مصری فوج رنگ رلیاں منانے والی فوج شمار ہوتی ہے۔اسی لئے 1967ء کی جنگ میں اسرائیل نے اسے کلبوں میں رنگ رلیاں مناتے ہوئے ہی چند دن میں ختم کردیاتھا۔آیئے اب اپنے ملک پاکستان کاجائزہ لیتے ہیں۔بے شک ہمارے پاس ایٹمی طاقت اور ایک بڑی آرمی ہے۔لیکن اس کے اپنے اخراجات اتنے بڑھ چکے ہیں۔کہ روزانہ کے اخراجات بھی بیرونی اوراندرونی قرض لیکرچلائے جارہے ہیں۔سعودی عرب کے3۔ارب ڈالر کے قرض کے بعد ہم کوالالمپور کانفرنس میں نہیں جاسکے۔قطراور U.A.Eجیسے چھوٹے چھوٹے ملک کے ہم زیر بارہوچکے ہیں۔آخری قرض ہم نےIMFسے لیا۔یہ6۔ارب ڈالرہے۔ہمارے پاس صرف2۔ارب ڈالر آئیں گے باقی4۔ارب ڈالر پرانی قسطوں میںIMFپورے کرلے گا۔4۔ارب ڈالر ہمارے کسی بنک کو سرے سے وصول ہی نہ ہونگے۔پاکستان پر اب غیر ملکی قرض100۔ارب ڈالر سے زیادہ ہوچکا ہے۔اس قرض کے واپس ہونے کادوردور بھی امکان نہ ہے۔کیاپاکستان ان قرضوں کی وجہ سے جکڑا نہیں گیا؟۔اس کی آزاد خارجہ پالیسی کا اب تصور محال ہے۔ذرا پاکستان کے اس بیان کا تجزیہ کیجئے جودفتر خارجہ کی طرف سے جنرل سلیمانی کے قتل پرجاری کیاہے۔بیان یہ ہے کہ دونوں فریق تحمل کامظاہرہ کریں۔یعنی قاتل اورمقتول دونوں کے لئے ایک ہی لفظ کااستعمال۔پاکستان امریکی مذمت کالفظ استعمال ہی نہیں کرسکتا۔

اب پاکستان امریکہ اورعرب ملکوں کے قرض میں پوری طرح قید ہوچکا ہے۔اگرمسلم دنیا میں کوئی امریکہ کے سامنے کھڑا نظر آتا ہے تووہ طاقتور معیشت کامالک مہاتیر محمداور ترکی کاصدر طیب اردگان ہے۔تمام مسلمان ملکوں کی اس وقت مغرب یاامریکہ کے سامنے جو حالت ہے۔اسے میں نے بے کم وکاست بیان کردیا ہے۔لیبیا کی بات میں شاید بھول گیاتھا۔وہاں مختلف گروہ آپس میں لڑرہے ہیں۔لیبیا اب ایک ریاست نہیں رہا۔ہمیںکیا کرناچاہئے تھا۔جونہیں کرپائے۔جب سے مسلم ملک آزاد ہوئے ہیں۔اسے کئی دہائیاں گزرچکی ہیں۔مسلمانوں کی پہلی یورپین غلامی بھی سائنس،ٹیکنالوجی اورصنعتوں میں پیچھے رہ جانے کی وجہ سے تھی۔مسلمان سائنس اور ٹیکنالوجی کی تخلیق میں15۔ویں صدی عیسوی تک یورپ اور چین کے برابرتھے۔اسکے بعد یورپ تیزی سے اس شعبے میںآگے بڑھااور مسلم دنیا پراپنی نئی نئی ٹیکنالوجیز کی وجہ سے چھاگیا۔یہ مکمل غلامی تھی۔آزادی کے بعد70سے80سال کاعرصہ مسلمانوں کوطاقتور بننے کے لئے ملاتھا۔لیکن سائنس ،ٹیکنالوجی کی تخلیق اورصنعتی ترقی میں یہ تمام مسلم ملک آگے نہیںبڑھے۔اپنے وسائل اس اہم شعبہ پرخرچ نہیں کئے۔اپنے ذہین اساتذہ اورطلباء کو تخلیقی کاموں پرنہیں لگایا۔امریکہ اور مغرب ہروقت آگے سے آگے بڑھ رہے ہیں۔اوراب انٹرنیٹ اورنینو ٹیکنالوجی کادور آگیا ہے۔ان شعبوں پرکام اب بھی سب سے زیادہ امریکہ ہی میں ہورہا ہے۔امریکہ اب آگے بڑھ کر خلائی فورس بھی بنانے جارہا ہے۔

امریکہ کے حالیہ بجٹ میں اس فورس کے لئے وسائل مختص کردیئے گئے ہیں۔یہ دنیا میں بری،بحری،ہوائی فورس کے بعد پہلی خلائی فورس ہوگی۔کرۂ ارض کے بعد اب خلاؤں پر بھی اس کاراج قائم ہورہا ہے۔دنیاکوکنڑول کرنااب امریکہ کے لئے بہت آسان ہوگیا ہے۔ICANNوہ کمپنی ہے جودنیا بھر میں پھیلے انٹرنیٹ سسٹم کوکنٹرول کررہی ہے۔صرف چائنا نے اپنا علیحدہ انٹرنیٹ سسٹم بنایاہے۔روس بھی سوچ رہا ہے۔یورپ نے قبضہ کرکے اور حکومتیں بناکر مسلم دنیا کوغلام بنایاتھا۔امریکہ اپنے مالیاتی نظام اور ٹیکنالوجی سے7۔ہزار دوربیٹھا مسلمان ملکوں کوغلام بناچکا ہے۔اگرآپ کوغلام کالفظ پسند نہیں ہے توآپ قیدی کالفظ استعمال کرسکتے ہیں۔کوئی اور لفظ بھی آپ کو استعمال کرنے کی مکمل آزادی ہے۔لیکن حقیقت توحقیقت ہے۔امریکی طاقت کااظہار مضمون میں کافی واضح ہوگیا ہے۔یہ دنیا طاقتوروں کی دنیا رہی ہے۔مذہبی عبادات ہمیں سکون اورآخرت میںفائدہ پہنچاتی ہیں۔ہمیں اس کام کولازماً کرنا ہے۔لیکن اسباب کی اس دنیا میں،طاقت ور بننے کے لئے سب کے لئے ایک ہی طریقہ ہے۔سائنس اورٹیکنالوجیکل تخلیقات میں ترقی۔یہ کام مسلسل کرنے کا ہے۔اس سے زراعت،صنعت اورٹرانسپورٹ کے شعبے جدید ہوکرپیداوار بڑھاتے ہیں۔معیشتیں بڑھتی ہیں۔پھیلتی ہیں۔برآمدات میں اضافہ ہوتا ہے۔دنیاکے دوسرے ممالک میں برآمد کرنے والے ملک کے اعتبار میں اضافہ ہوتا ہے۔پتہ لگتا ہے کہ برآمد کرنے والا ملک زندہ اور سوچتے سمجھنے والے لوگوں پرمشتمل ہے۔آ پ کو یورپین غلامی سے امریکی غلامی تک کا سفر کیسے لگا؟۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */