آؤٹ آف کنٹرول - محمد طیب زاہر

آرمی ایکٹ بل کا معمہ بالاخر خوشی خوشی حل ہوگیا ۔پوری کہانی میں climax کے بعد سارا معاملہ happy endingکی طرف جا پہنچا۔ایسا معاملہ جو حکومت کے گلے کی ہڈی بن بیٹھا تھا وہ ہڈی نکال بھینکی گئی ۔کیونکہ اس معاملے سے جڑے تمام کرداروں کو اپنی اپنی (ہڈی) نظر آنے لگی تھی ۔

وزیر اعظم عمران خان ایک کے بعد ایک یوٹرن کی وجہ سے بدنام ہیں اور یہی وجہ ہے ان کو یوٹرن خان بھی کہا جاتا ہے لیکن پوری کی پوری قومی اسمبلی یوٹرن لیتی نظر آئی۔وزیر اعظم عمران خان کا کیا وہ یہی کہتے پائے گئے کسی کو این آرا و نہیں دوں گا ۔نواز شریف ملک سے باہر چلے گئے ۔شہباز شریف کی بات آئی تو کہا نہیں چھوڑوں گا اُن کو بھی رہائی مل گئ،زرداری کو کرپٹ کہا آج وہی کرپٹ شخص ضمانت پر ہے۔اور تو اور رانا ثنااللہ جن پر منشیات کا کیس بنایا گیا اور ایک وزیر اللہ کو جان دینے والے اپنے بیان پر کڑی تنقید کا نشانہ بھی بنے لیکن وثوق کے ساتھ انہیں سزا دلانے کے لئے شہریار آفریدی ہاتھ پر ہاتھ ملتے رہ گئے ۔

اور سب سے بڑھ کر وزیر اعظم نیب آرڈینینس جاری کرکے بڑے سے بڑے ملزمان جن پر کرپشن کے الزامات تھے اُن کو ریلیف دینے کا سامان مہیا کر بیٹھے گو کہ یہ کہا جائے کہ کرپٹ نظام کے آگے حکومت نے گھٹنے ٹیک دئیے تو بےجاں نہ ہوگا۔اور تو اور وزیر اعظم بقلم خود یہ اعتراف کرچکے ہیں کہ بیوروکریٹس خوفزدہ تھے کہ وہ نیب کے ہاتھوں نہ پکڑے جائیں اس لئے وہ کام نہیں کر پا رہے۔سر عرض ہے کہ جب آپ کی ہاؤسنگ اسکیم پر شہباز شریف اور ان کے داماد علی عمران کے لگائے گئے بیوروکریٹس ہوں گے تو آپ کیسے سوچ سکتے ہیں کہ وہ آپ کو کام کرنے دیں گے؟ کرپٹ عناصر کا خاتمہ ہوگا تب ہی ملک میں نظام بہتر طریقے سے پروئےکار لایا جاسکے گا۔

اب چونکہ نیب آرڈیننس متعارف کروادیا گیا جس کے تحت سعد رفیق ہوں ،شاہد خاقان عباسی ہوں ،علیم خان ہوں چاہے جہانگر ترین ہوں غرضیکہ کوئی بھی ملزمان ہوں اس آرڈینینس کے تحت ان کے کیسز نیب سے منتقل کرکے دیگر اداروں کو سونپ دئیے جائیں گے اور جتنی دیر میں متعلقہ اداروں کو کیسز کی سمجھ آنا شروع ہوگی تب تک پانی سر کے بہت اوپر سے گزر گیا ہوگا۔ گو کہ احتساب کے نعرے پر آنے والی تحریک انصاف اس معاملے پر انصاف کرنے سے فی الحال قاصر رہی۔وزیر اعظم اداروں کی آزادی کی بات کرتے ہیں لیکن یوں لگ رہا ہے جیسے نیب کے پر کاٹے جاچکے ہوں یہی وجہ ہے کہ حکومت کا نرم رویہ دیکھ کر اپوزیشن بھی لفظٰ جنگ کا سیز فائر کر بیٹھی ہے۔جس کی زندہ وجاوید مثال ہم نے آرمی ترمیمی ایکٹ میں دیکھی۔وہ معزز اراکین پارلیمنٹ جنہیں ایک دوسرے کو گالیاں دئیے بغیر قرار نہ آتا تھا وہی ایک دوسرے کے گُن گاتے نظر آئے ۔تلخ لہجے ایک دم شیریں ہوگئے۔کرپٹ افراد ایک دم سے فرشتہ بن گئے ۔سیلیکٹڈ ایک ہی پل میں الیکٹڈ ہوگئے ۔

یہ بھی پڑھیں:   تبدیلی تو مہنگائی کی نذر ہوگئی - عابد محمود عزام

کسی کو این آر ا ونہیں ملے گا کا راگ اور پھر مل کر نیب کے قوانین تبدیل کرنے کی باتیں ایک دم سے کرشمے ہی کرشمے ۔منظر ریورس سمت میں چلنے لگے۔ووٹ کو عزت دو کا نعرہ پہلے پہل تو پاکستان کی سڑکوں پر گھوما پھر میڈ ان لندن ہوگیا اور اس کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے کہیں پر تحلیل ہوگیا۔عدلیہ کے معزز جج بغض سے بھرے بیٹھے ہیں شاید میاں صاحب نے ان کے دل پڑھ لئے ہوں گے اس لئے وہ یہ شکایت کرنے لگے ۔ان کو سازش کی بو آ رہی تھی کہنے لگے ملک کی عدالتیں ان کے خلاف استعمال ہو رہی ہیں کوئی ان کو استعمال کر رہا ہے ۔اب ووٹر کے ووٹ کی عزت کا سوال ہے وہ نا اہل ہوئے سو اس وجہ سے عوام کے ووٹوں کی عزت پامال ہے ۔یہی وہ مرکزی خیال تھا جس کا پرچار کرتے ہوئے وہ عوام کو ایک سمت دینا چاہتے تھے کہ اب ووٹ کو عزت ملے گی اب عوام کو عزت ملے گی۔

ہر ادارے کو انہوں نے خوب آڑے ہاتھوں لیا یہاں تک کہ قومی سلامتی کے اداروں کو بھی انہوں نے اپنی تنقید کا نشانہ بنایا۔اپنے پروپیگینڈے کے ذریعے انہوں نے اداروں کی کردار کشی کی ۔لاڈلے کو چھوڑ دیا جاتا ہے اور ہمیں پکڑ لیا جاتا ہے ۔قوم ان سے حساب لے گی یہ خلائی مخلوق پاکستان بننے سے اب تک اپنی من مرض کرتی آئی ہے اب نہیں کرنے دیں گے اب عوام کی حکمرانی ہوگی ۔ میاں صاحب کی یہ تمام باتیں محض خیالی تھی سو خیالی ثابت ہوئیں۔ ۔میں یہاں یہ نہیں کہہ رہا ہے کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم نہیں ہونی چاہئے تھی ۔بہت اچھا ہوا کہ یہ معاملہ خوش اسلوبی سے طے پا گیا۔لیکن قومی سلامتی کے اس معاملے پر سب کو اپنے اپنے مفادات نظر آنے لگے تھے۔یہی تو وجہ ہے کہ اب نیب کے قوانین میں بھی (تبدیلی ) لانے کی باتیں ہو رہی ہیں اور سب سے حیران کن بات یہ کہ حکومت اُس اپوزیشن کے ساتھ اس ایشو پر بیٹھنا چاہتی ہے جس کو وہ کرپٹ کہتی رہی۔

یہ بھی پڑھیں:   تبدیلی،کپتان کی-آصف محمود

مسلم لیگ ن ہو یا پھر پیلز پارٹٹی وزیر اعظم کو یوٹرن کا طعنہ اب کس منہ سے مارے گی ؟یوٹرن لینے کا ٹھیکہ ان دونوں جماعتوں نے بھی اُتنا ہی اٹھایا جتنا عمران خان پر اُٹھانے کاالزام لگتا ہے ۔ہاں یہ الگ بات ہے کہ وہ خان صاحب کی طرح اپنے یوٹرن کو حکمت عملی کا نام دے کر اس کو لیگل کردیں ۔نظریہ اصولی مؤقف ان یوٹرنز کی بدولت بہت پچھے رہ گیا ہے۔اب رہ گیا تو فقط نظریہ ضرورت ۔اب عمران خان کو چاہئے کہ وہ احتساب احتساب کے کھیل سے اجتناب کرتے ہوئے عوامی مسائل پر اپنی جاب کریں ۔مہنگائی کے بڑھتے طوفان کو گبھرانا نہیں کہ نعرے سے نہیں روکا جاسکتا ۔اب یہ نہیں ہوسکتا کہ خود کو بری الذمہ قرار دے کر ساری ذمہ داری پچھلی حکومتوں پر ڈال دی جائے۔عمران خان کو اپنی کابینہ سے ایسے لوگوں کی بھی خلاصی کرنی چاہئے جو انہیں خود گزند پہنچانے کے درپے ہیں ۔ان کی اپنی کابینہ کے اراکین اپنی حکومت پر خودکش حملے کرتے ہیں۔جن میں کلیدی کردار فواد چوہدری صاحب کا ہے۔ سینیٹر مشاہداللہ جنہوں نے سینیٹ کے ایوان میں حبیب جالب کا یہ شعر فواد چوہدری کو دیکھ کر پڑھا تھا۔

خاک میں مل گئے نگینے لوگ

حکران ہوگئے کمینے لوگ

تپھڑ مارنے کی ریت اور غنڈہ گردی فواد چوہدری جیسے وزیروں کا ہی شیورہ ہے۔اور یہ وزیر اعظم کے فیور میں نہیں جاتا ۔ریاست مدینہ بنانے کا دعویٰ کیسے پورا ہوگا جب آپ کے ٹیم کے لوگ فواد چوہدری جیسے ہوں گے اس پر دھیان دینے کی ضرورت ہے ۔سب کچھ آؤٹ آف کنٹرول ہے اور اس کو قابو کرنے کا صرف وزیر اعظم صاحب آپ کا رول ہے۔