اشرف غنی اور افغان الیکشن کمیشن کے گٹھ جوڑ اور دھاندلی کے الزامات سمیت نتائج ڈھونگ قرار- قادر خان یوسف زئی

گزشتہ ستمبر میں منعقد ہونے والے افغانستان کے چوتھے صدارتی انتخابات میں 3 کروڑ 50 لاکھ نفوس پر مشتمل افغانستان کے 90 لاکھ رجسٹرڈ ووٹرز میں سے صرف 22 لاکھ افراد نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا تھا، جو 2001ء میں افغان طالبان کی حکومت کا تختہ الٹائے جانے کے بعد سب سے کم شرح ہے۔

امریکا کے مرتب قوانین کے تحت افغانستان میں ہونے والے جمہوری عمل میں تاریخ کے کم ترین ٹرن آؤٹ پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ افغان مفاہمتی عمل میں اس نکتے کو سامنے رکھا جاتا رہا ہے کہ انتخابی عمل کی کوئی اخلاقی و قانونی حیثیت اس لئے نہیں ہوگی کیونکہ انتخابی عمل میں افغان عوام کی مکمل نمائندگی شامل نہیں ہے۔ حالیہ انتخابات نے ثابت بھی کردیا کہ دھاندلی، فرا ڈ سمیت کئی سنگین الزامات و بے ضابطگیوں کو بھی ایک جانب رکھ دیں تو افغانستان میں آنے والی حکومت پورے افغانستان کی عوام کی نمائندگی نہیں کرتی، بلکہ نسل پرستانہ اور طبقاتی مسائل میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو افغانستان کے لئے زہر قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔ افغانستان میں داخلی معاملات بدترین حالات کی جانب جا رہے ہیں۔ امریکا، افغانستان میں فوجی اڈوں کی موجودگی کی کوشش میں پورے خطے کو جنگ کی آگ میں جھونک چکا ہے۔

امریکا کے لئے افغانستان میں اس کے علاوہ کوئی کشش نہیں کہ وہاں امریکی فوجی اڈے، پاکستان، چین، ایرا ن اور وسط ایشیائی ممالک کی نگرانی کے لئے قائم رہیں اور جس مملکت کو امریکی مفادات کی راہ میں رکاؤٹ سمجھے تو اس کے خلاف کسی بھی قسم کی کاروائی کرسکے۔ وگر اس وقت افغانستا ن کے معدنی و قدرتی وسائل کی جس طرح لوٹ مار کرتے ہوئے قدرت کے قیمتی خزانے من پسند امریکا و بھارت نواز کمپنیوں کو دیئے گئے اور منشیات کی اسمگل کے لئے پوست کی کاشت سے کھربوں ڈالر کمائے جا رہے ہیں، اس پر عالمی برداری کی خاموشی بھی معنی خیز ہے۔ دنیا میں منشیات کی اسمگلنگ کے لئے افغانستان میں پوست کی کاشت کرنے والے کابل انتظامیہ میں بے پناہ اثر رسوخ رکھتے ہیں اور پاک، افغان بارڈر منجمنٹ کے بعد انہیں آزادنہ اسمگلنگ کے مواقع میں پریشانی کا سامنا ہے۔ کئی وجوہ میں ایک یہ وجہ بھی سمجھی جاتی ہے کہ امن کی تمام کوششوں کو ایسے گروپ سبوتاژ کردیتے ہیں جو کھربوں ڈالر کی منشیات اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔

کئی جنگجو گروپس کی آمدنی کا واحد ذریعہ پوست کی کاشت پر منحصر ہے۔ سینٹرل ایشیا ممالک سمیت جنوبی ایشیا سے دنیا بھر میں منظم نیٹ ورک کے ساتھ منشیات کی اسمگلنگ کا شرمناک کاروبار، کرپٹ حکومتی اہلکاروں کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ افغانستان پوست کاشت کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا اورمیانمار افیون کی پیداوار کا دوسرا بڑا ملک ہے،افغانستان اور میانمار کے بعد افیون کی سب سے زیادہ کاشت میکسکو میں کی جاتی ہے۔ یہ تینوں ممالک دنیا میں منشیات کی منڈی کا 96 فیصد افیون پیدا کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ نے امریکہ کو افغانستان میں منشیات کی تجارت میں ملوث قرار دے چکی ہے۔ افغانستان میں پوست کی کاشت، افیون اور ہیروئن کی تیاری کے سلسلہ میں اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اس اضافہ کی وجہ ملک میں سیاسی عدم استحکام، حکومت کے کنٹرول میں کمی اور امریکی اور افغان حکام کی کرپشن ہے۔

یہ تمام مہرے اس کاروبار میں براہ راست یا بالواسطہ ملوث پائے جاتے ہیں۔ امریکی حکومت کا الزام ہے کہ پوست کی کاشت کے ذمہ دار افغان طالبان ہیں مگر اقوام متحدہ اس الزام کو خود مسترد کرتے ہوئے منکشف کرچکی ہے کہ پوست کی کاشت میں اضافہ افغان طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں میں نہیں بلکہ شمالی افغانستان میں ہوا، جہاں امریکہ کا براہ راست اور اس کی کٹھ پتلی حکومت کا کنٹرول ہے۔انٹرنیٹ پر منشیات کی فروخت بھی سب سے زیادہ یورپ میں کی جاتی ہے۔ فن لینڈ، سویڈن، سکاٹ لینڈ، ویلز، برطانیہ، امریکہ اور کولمبیا میں یہ انٹرنیٹ پر دستیاب ہے۔اب اگر افغانستان کی موجودہ صورتحال کا سرسری ہی جائزہ لیں تو رپورٹس کے مطابق افغانستان میں گذشتہ 10 برسوں میں ایک لاکھ سے زائد شہری ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔یہ عالمی ادارے کی تشویش ناک رپورٹس ہیں،عیاں ہے کہ امریکا، افغانستان میں کیوں موجود رہنے پر مُصر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   امریکا و ایران اور سعودی عرب کی انا پرستی - عنایت کابلگرامی

افغا امن مفاہمتی عمل کو جنگجو گروپس اور کابل انتظامیہ میں شامل بعض عناصر ناکام بنانے کی سازشیں کیوں کرتے ہیں۔ یورپ و امریکا سمیت ترقی یافتہ ہی نہیں بلکہ ترقی پذیر اور غربت کے شکار ممالک میں منشیات کی عالمی تجارت اور افغانستان میں امن کا نہ ہونا ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ جب افغانستان کی عوام کو عالمی منشیات فروشو ں اور ان کے سہولت کار ممالک سے نجات نہیں ملی گی اور ایک ایسے عمل کے ذریعے افغان عوام کی نمائندہ حکومت نہیں آئی گی تو دنیا بھر کی نوجوان نسل تباہ و برباد ہوتے رہی گی۔ ہتھیار فروخت کرنے والے ممالک، خطے میں پڑوسیوں کے درمیان تعلقات کشیدہ کراتے رہیں گے اپنے مفادات کے لئے افغانستان میں عوام کی منشا کے مطابق کوئی بھی نظام ہو، لیکن ترجیحات میں عوام کی اکثریت کی رائے جاننا ضروری ہے۔

اس کے لئے افغانستان میں امن عمل لانا ناگزیر ہے۔ کابل حکومت کینمائندگی کوئی ڈھکی چھپی نہیں، افغان طالبان بین الافغان مذاکرات کرکے اپنی روایات کے مطابق متفقہ لائحہ عمل بنانے پر رضا مند ہیں تو پھر امریکا، بیگانی شادی میں دیوانہ کیوں بنا ہوا ہے؟۔ افغانستان کا امن، نظام و انصرام افغان عوام کی خواہشات کے مطابق اُن پر چھوڑ دینا چاہیے۔ پاکستان ماضی کے مقابلے میں واضح موقف دے چکا ہے کہ پاکستان، افغانستان میں امن چاہتا ہے، افغان عوام کی منشا و رائے کا احترام کرتا ہے اور افغانستان کے داخلی و خارجی معاملات میں ایک اچھے پڑوسی ہونے کے سبب اپنے دستیاب وسائل کے مطابق سہولت کاری کے ذریعے تمام فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانا چاہتا ہے۔ پاکستا ن اور افغانستان ایک اسلامی رشتے میں بھی جڑے ہیں اور سینکڑوں برس کی ثقافت کا ورثہ بھی رکھتے ہیں۔ مسلم امہ کو تقسیم در تقسیم اور مسلم نسل کشی کرنے والوں کا چہرہ پوری طرح بے نقاب ہوچکا ہے کہ بھارت، جو افغانستان کو اپنا غلام بنانے کے لئے مکارانہ چالیں چلتا رہا ہے، اس کی چانکیہ سیاست پوری دنیا کے سامنے آشکارہ ہوچکی ہے اور بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی کے ”ہندوتوا“ پر سفاکی سے گامزن ہے۔

افغان ایک بہادر قوم ہے، اپنا اچھا بھلا خوب سمجھتی ہے، ان حالات میں کہ اُن کے مملکت کو صرف امریکا ہی سہی نہیں بلکہ بھارت سے اصل خطرہ ہے، انہیں زمینی حقائق کا ادارک کرنا ہوگا۔ مسلمانوں کے ساتھ جس طرح بربریت مقبوضہ کشمیر میں کی جا رہی ہے وہ اب بھارت کے گلی کوچوں میں نظر آرہی ہے۔ انتہا پسندی کا سب سے بڑا گڑھ اس وقت بھارت ہے اور بھارت کو آشیر باد دینے والا امریکا اور اسرائیل ہے۔ اس لئے جب تک عوام کی درست نمائندگی افغانستان میں نہیں آئے گی اور عالمی طاقتیں افغانستان کو اپنے مذموم مقاصد کے تحت موجود رہیں گی تو افغانستان کا مسئلہ کٹھ پتلیوں سے کبھی حل نہیں ہوگا بلکہ مزید گھمبیر و گنجلگ ہوتا چلا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   ماضی کی غلطیوں کو نہ دہرایا جائے- حبیب الرحمن

سال 2019افغانستان میں پُرتشدد واقعات سے سنگین تر رہا۔ امارات اسلامیہ اور افغان سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں نے افغانستان کو امن سے محروم رکھا۔ افغان مفاہمتی عمل کے مُردہ ہونے اور پھر امریکی صدر ٹرمپ و افغان طالبان کی جانب سے قیدیوں کے تبادلے کے بعد اس بات کی توقع پوری ہوئی کہ افغان مفاہمتی عمل جو دستخط کے مرحلے پر روک دیا گیا تھا، نئے سال سے قبل اس بات عمل درآمد ہوجائے گا، لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوسکا اور دوحہ میں ایک بار پھر شروع ہونے والے افغان، امریکا مفاہمتی عمل ڈیڈ لاک کا شکار ہوگیا۔ سال کے اختتام پر پُرتشدد واقعات میں دونوں فریقین آپس میں نبر الزما ہیں اور امریکی طیاروں کی بمباریوں کی وجہ سے نہتے شہریوں کی جاں بحق ہونے کی اطلاعات پریشا ن کن ہیں۔ اس عرصے میں افغانستان میں صدارتی انتخابات کا اعلان کردیا گیا اور حسب توقع افغانستان کی تاریخ کے کم ترین ٹرن آؤٹ کے باوجود افغان الیکشن کمیشن نے اشرف غنی کو 50فیصد سے زائد ووٹ حاصل کرنے پر دوسری مدت کے لئے صدر بننے کی کامیابی کا اعلان کردیا، تاہم یہ ابتدائی اعلان ہے۔

افغان ذرائع کے مطابق حتمی نتائج کے اعلان میں کچھ مراحل باقی ہیں، اشرف غنی کی صدارتی کامیابی کے حتمی اعلان کے بعد تو، افغان طالبان کا مفاہمتی عمل میں کابل انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات نہ کئے جانے غیر لچک دار موقف افغان مفاہمتی عمل کی راہ میں بدستور رکاؤٹ بن سکتا ہے۔ علاوہ ازیں امریکا کی جانب سے افواج میں کمی کا عندیہ بدستور دیا جارہا ہے اور توقع یہی کی جا رہی ہے کہ کابل انتظامیہ دوبارہ نئے اسٹریجک معاہدے کے تحت امریکی افواج کی افغانستان میں مستقل موجودگی کی توثیق کرسکتی ہے۔ اس طرح افغان سیکورٹی فورسز اور افغان طالبان کے درمیان جھڑپوں کے امکانات بڑھنے کے خدشات میں کمی واقع ہونے کے امکانات میں تعطل پیدا ہوسکتا ہے۔ اشرف غنی کے متنازعہ ترین انتخابات میں کامیابی کے غیر حتمی اعلان بعد افغانستان میں مزید گروہ بندی بڑھنے کے خطرات بھی بڑھ گئے ہیں، اشرف غنی کے سیاسی مخالفین نے بشموول سابق چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے افغان صدارتی انتخابات کے نتائج کو ماننے سے مکمل طور پر انکار کردیا ہے، واضح رہے کہ عبداللہ عبداللہ نتائج کے اعلان سے قبل اپنی کامیابی تک اعلان کرچکے تھے۔حتمی اعلان کے بعد عبداللہ عبداللہ، انتخابی نتائج کو چیلنج کریں گے، اسی طرح دیگرامیدواروں نے اشرف غنی اور افغان الیکشن کمیشن کے گٹھ جوڑ اور دھاندلی کے الزامات سمیت نتائج کو ڈھونگ قرار دیا ہے۔

کابل انتظامیہ سے ایک معاہدے کے تحت جنگ بندی و سیاسی عمل میں شریک ہونے والے گل بدین حکمت یار بھی اپنے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے صدارتی نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کے ساتھ ساتھ افغانستان میں امن کے جلد امکانات کو ناممکن قرار دیا ہے۔افغان الیکشن کمیشن کے رکن کے مطابق عبداللہ عبداللہ کی قیادت والے اتحاد نے دس ہزار جبکہ صدر اشرف غنی کی قیادت والے اتحاد نے تین ہزار سے زائد شکایات جمع کرائی جا چکی ہیں۔دوسری جانب افغانستان کے انتخابات کی نگرانی کرنے والے واحد افغان ادارے الیکشن ٹرانسپیرنسی فاؤنڈیشن کے ترجمان نے کہا ہے کہ شکایات کے حجم اور الیکشن کمیشن کی ناقص کارکردگی کو دیکھتے ہوئے صدارتی انتخابات کے دوسرے دور کے انعقاد کا امکان بھی پایا جاتا ہے۔