مسلم لیگ (نون) کے دوست فی الوقت خاموش رہنے کو ہی ترجیح دیں- نصرت جاوید

ذات کارپورٹر ہوں۔خبروں کی تلاش میں سیاست دانوں سے مسلسل رابطے میں رہنا پڑتا ہے۔یہ رابطے ذاتی دوستیوں تک بھی لے جاتے ہیں اور بسااوقات یہ دوستیاں اتنی گہری ہوجاتی ہیں کہ ’’آنکھ کا لحاظ‘‘ والی مروت صحافتی اصولوں پر کاربند نہیں رہنے دیتی۔ کئی اہم باتوں کو درگزر کرنا پڑتا ہے۔
سیاست دان اگرچہ بہت ڈھیٹ ہڈی ہوتے ہیں۔مجھ جیسے مڈل کلاسیوں کی طرح ہر بات کو ’’عزت/بے عزتی‘‘ والا معاملہ نہیں بناتے۔ درگزر کو ترجیح دیتے ہیں۔ویسے بھی ان کے پاس ہر عمل کا جواز موجود ہوتا ہے۔وہ انتہائی ڈھٹائی سے اس پر ڈٹے رہتے ہیں۔

ایک طویل عرصے کے بعد گزشتہ چند دنوں میں لیکن اپوزیشن کے اکثر رہ نمائوںکو میں نے خاموش وگم صم پایا۔تنہائی میں اپنی ’’بے بسی‘‘ پر کڑھتے ہیں۔اپنی قیادتوں سے شکوے شکایات کا طومار کھول دیتے ہیں۔ان سے ’’بغاوت‘‘ کا مگر حوصلہ نہیں پاتے۔
وقت نے میرے دل کو بھی پتھر بنادیا ہے۔مجھ سے بے تکلف ہوئے سیاست دان جب نجی محفلوں میں اپنی بے بسی کے رونے روتے ہیں تو پھکڑپن سے کام چلاتا ہوں۔انہیں ’’حوصلہ‘‘ نہیں دیتا۔گزشتہ چند دنوں میں لیکن کچھ دوستوں کے دل ودماغ پر حاوی پریشانی کی شدت کو دیکھ کر چند گھنٹوں کے لئے موم ہوگیا۔پُرخلوص خاموشی اور احترام سے ان کی ماتم کنائی کا مشاہدہ کرتا رہا۔دل ہی دل میں اگرچہ انتظار کرتا رہا کہ سیاست دانوں سے وابستہ ڈھٹائی کی طرف لوٹنے میں میرے ’’دوست‘‘‘ کتنے دن لگائیں گے۔

منگل کے روز بالآخر نواز شریف کے نام سے منسوب ہوئی مسلم لیگ کے چند اراکین اسمبلی سے پارلیمانی راہداریوں میں ملاقات ہوگئی۔ان میں سے کئی ایک نے مجھے انتہائی سنجیدگی سے سمجھانا شروع کردیا کہ سروسز چیفس کی مدتِ ملازمت کے ضمن میں عمران حکومت کے تیار کردہ قانون کو فقط 12منٹ میں منظور کرتے ہوئے ان کی جماعت نے ’’اصولوں‘‘ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا ہے۔’’سول سپریمسی‘‘اب بھی ان کا حتمی ہدف ہے۔منگل کے روز پیش ہوئے قانون کو فوری طورپر منظور کرتے ہوئے انہوں نے درحقیقت وزیر اعظم کے منصب کو توانا تر بنادیا ہے۔کسی بھی سروس کے چیف کا تعین اور مدتِ ملازمت میں توسیع اب ٹھوس اور باقاعدہ انداز میں وزیر اعظم کا ’’صوابدیدی‘‘ اختیار بن گئی ہے۔ اس اختیار کو کسی بھی عدالت میں زیر بحث نہیں لایا جاسکے گا۔

ان ’’دوستوں‘‘ کی ڈھٹائی نے مجھے بھی پھکڑپن کی طرف لوٹنے کو مجبور کردیا۔انہیں یاد دلانے کو مجبور ہوگیا کہ منگل کے روز پیش ہوئے قانون کی منظوری کے دوران عمران خان صاحب طویل عرصے کے بعد ایوان میں تشریف لائے تھے۔ان کی حکومت کی جانب سے پیش کردہ قانون جب مسلم لیگ (نون) اور پیپلز پارٹی کی بھرپور حمایت سے سرعت کے ساتھ منظور ہوگیا تو پارلیمانی روایات کے مطابق انہوں نے ہماری تاریخ کے ایک اہم ترین قانون کی معجزہ دِکھتی یکجہتی اور اتفاقِ رائے کے ساتھ منظوری کے بارے میں مسرت کا اظہار کرنے کا تردد نہیں کیا۔ مجھ بے وقوف کو گماں تھا کہ مذکورہ قانون منظور ہونے کے بعد وہ اپنی نشست پر کھڑے ہوں گے۔اپوزیشن کے تعاون کا شکریہ ادا کرنے کو چند الفاظ ادا کریں گے اور اس اُمید کا اظہار بھی کہ اہم ترین قومی معاملات کے بارے میں حکومت اور اپوزیشن باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آئندہ بھی اتفاقِ رائے سے مؤثر قوانین بناتے رہیں گے۔ وزیر اعظم نے مگر غالباََ اپنے تئیں ’’منافقانہ تکلف‘‘ سے کام نہیں لیا۔بل کی منظوری کے بعد ڈیسک بجایا اور اپنی نشست سے اُٹھ کر ایوان سے باہر چلے گئے۔ ایوان سے رخصت ہوتے ہوئے انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ بیٹھے اپوزیشن اراکینِ پارلیمان کی جانب سرسر ی نگاہ بھی نہیں ڈالی۔

جس وزیر اعظم کو ’’مضبوط‘‘ بنانے کے دعوے ہورہے تھے وہ شکر گزاری کے جذبات سے عاری نظر آئے۔ عمران خان صاحب کی بے اعتنائی نے مجھے فیصل واوڈا کی یاد دلادی۔میرے بھائی حامد میر کے ایک شو میں وہ تشریف لائے تھے۔کمال رعونت سے اینکر کوبتاتے رہے کہ منگل کے روز اتفاقِ رائے سے منظور ہوئے قانون پر مناسب پیش رفت کے لئے عمران حکومت کے وزیر ’’بدعنوان اور نااہل‘‘ اپوزیشن کے نخرے نہیں اٹھائیں گے۔اپنی بات پر اصرار کرتے ہوئے انہوں نے چند ایسے کلمات بھی ادا کئے جو میری دانست میں ’’غیر مہذب‘‘ تھے۔مجھے بُرے لگے‘‘ یہ کالم لکھتے ہوئے مگر انتہائی خلوص سے اعتراف کرتا ہوں کہ شاید فیصل واوڈا صاحب کا ’’غرور‘‘ بلاجواز نہ تھا۔ایک انگریزی محاورے کے مطابق وہ بآسانی کچھ بھی کہنے کے بعد اس کے بارے میں Get Away With Itوالی سہولت سے لطف اٹھاسکتے ہیں۔

وزیر اعظم کے عہدے کو ’’مضبوط‘‘ بنانے والوں کا حقیقی رویہ بھی کئی اعتبار سے حیران کن ہے۔مسلم لیگ کے جو اراکین منگل کے روز پیش ہوئے قانون کی سرعت سے منظوری کو یقینی بنانے کے لئے رات دن متحرک رہے ان میں سے ایک صاحب سے ’’تخلیے‘‘کے چند لمحات نصیب ہوگئے۔میں رپورٹر کے پیشہ وارانہ تجسس کے ساتھ ان سے یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتا رہا کہ نواز شریف سے منسوب ’’بیانیے‘‘ کو قربان کردینے کے بعد ان کی جماعت کس ’’انعام‘‘ کی توقع کررہی ہے۔یہ حضرت مجھے واضح جواب دینے سے کتراتے رہے۔میں کریدتا رہا تو مبہم انداز میں مجھے ’’اِن ہائوس تبدیلی‘‘ کے لئے تیار کرنا شروع ہوگئے۔ یہ بڑھک بھی لگادی کہ 2020نئے ا نتخابات کا سال بھی ہوسکتا ہے۔میںان کی بات تسلیم کرنے سے ڈھٹائی کی حد تک انکاری رہا۔

عمران خان صاحب کے اندازِ سیاست اور حکمرانی کے بارے میں میرے بے تحاشہ تحفظات ہیں۔ ان تحفظات کے اظہار نے ذاتی حوالوں سے کافی پریشان بھی کیا۔ملکی سیاست کا ایک ادنیٰ طالب علم ہوتے ہوئے لیکن مجھے کوئی ایک ٹھوس وجہ بھی نظر نہیں آرہی جو آنے والے چند مہینوں میں عمران خان صاحب کو اپنے منصب سے رضا کارانہ استعفیٰ دینے پر مجبور کرسکتی ہے۔
بات کو آگے بڑھانے کے لئے چند لمحوں کو اگریہ فرض کرلیںکہ چند معاملات جومیری نگاہ سے فی الوقت اوجھل ہیں کی وجہ سے عمران خان صاحب رضا کارانہ استعفیٰ دینے کو آمادہ ہوجاتے ہیں تو ان کی جگہ کون لے گا والا سوال اٹھانا بھی لازمی ہوجاتا ہے۔ شاہ محمود قریشی صاحب کا نام اس ضمن میں کئی دنوں سے گردش میں ہے۔وہ تحریک انصاف میں لیکن اب بہت زیادہ مقبول نہیں رہے۔ ان کے علاوہ تحریک انصاف کی صفوں میں سے کوئی اور شخص ابھرکر اس جماعت کو یکجا نہیں رکھ سکتا۔

چند مسلم لیگی دعویٰ کررہے ہیں کہ اگر عمران خان صاحب نے استعفیٰ دیا تو ’’لاٹری‘‘ شہباز شریف صاحب کی نکلے گی۔342اراکین پر مشتمل ہائوس میں ان کے پاس مگر 84نشستیں ہیں۔تحریک انصاف واحد اکثریتی جماعت ہوتے ہوئے ان کے سرپر ہما بٹھانے کو تیار کیوں ہوگی۔شہباز صاحب کی ’’امیدواری‘‘ کی شدید ترین مخالفت پیپلز پارٹی کی جانب سے بھی آئے گی۔منگل کے روز جو قانون منظور ہوا ہے اس کے مسودے کا جس انداز میں شہباز صاحب سے وابستہ گروپ نے ’’غیر مشروط‘‘ حمایت کا اعلان کیا اس نے بلاول بھٹو زرداری سمیت پیپلز پارٹی کے تمام اراکینِ قومی اسمبلی کو بے تحاشہ ناراض کردیا ہے۔خواجہ آصف اور سید نوید قمر کے مابین اس حوالے سے ایک اجلاس میں شدید تلخ کلامی بھی ہوئی ہے۔سردار ایاز صادق ان دنوں دونوں جماعتوں میں صلح صفائی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ مجھے ہرگز امید نہیں کہ ان کی کاوشیں بار آور ثابت ہوں گی۔
مسلم لیگ (نون) کے ’’دوستوں‘‘ سے لہذا دست بستہ عرض ہے کہ فی ا لوقت خاموش رہنے ہی کو ترجیح دیں۔ایسے عذروجواز نہ تراشیں جنہیں عقل سے قطعی محروم شخص ہی تسلیم کرسکتا ہے۔